زیل فار یونٹی: غیر سیاسی تبادلۂ خیال کا ایک موقع

تصویر کے کاپی رائٹ Farjad Nabi
Image caption جیون ہاتھی میں بھارت کے مایہ ناز اداکار نصیر الدین شاہ بھی کردار ادا کر رہے ہیں

پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی تنازعات کے درمیان چھ پاکستانی اور چھ بھارتی فلمی ہدایت کار ایک ایسے پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو رہے ہیں جو ان کے خیال میں غیر سیاسی تبادلۂ خیال کا موقع دے گا۔

بھارت کے پرائیویٹ ٹی وی نیٹ ورک زی انٹرٹینمنٹ نے ’زیل فار یونٹی‘ (zeal for unity) نامی ایک نیا قدم اٹھایا ہے، جو زی انٹرٹینمنٹ کے مطابق دونوں ملکوں کے تعلقات کو آپس کی بہترین تخلیقی صلاحتیوں سے بہتر کرنے کی کوشش ہو گی۔

یہ پروجیکٹ برصغیر کی تقسیم کے 70 برس پورے ہونے پر سامنے آئے گا، جس میں 12 فلمیں پیش کی جا رہی ہیں۔

پاکستان سے ’زیل فار یونٹی‘ میں حصہ لینے والے ہدایت کاروں میں مینو اور فرجاد کے ساتھ ساتھ مہرین جبار، صبیحہ سمر، خالد احمد، شہباز سمر اور سراج الحق شامل ہیں، جبکہ بھارت سے اپرنا سین، تنوجا چندرا، کیتن مہتا نیکھل ایڈوانی، تگمانشو دھولیا اور بیجوئے نیمبئر کے نام شامل ہیں۔

ان ہدایتکاروں کی فلمیں زندگی کے مختلف موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں۔ ایک طرف کیتن مہتا سعادت حسن منٹو پر ’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ نامی فلم پیش کر رہے ہیں تو دوسری جانب مینو فرجاد ایک بلیک کامیڈی تیار کیے بیٹھے ہیں، جس کا نام ہے ’جیون ہاتھی۔‘

اس کا مطلب بتاتے ہوئے مینوگور کہتی ہیں: ’ہم نے میڈیا کو ہاتھی کہا ہے۔ لوگ اس بات پر غور نہیں کر رہے کہ میڈیا آج ہماری زندگیوں میں کیسے گھس کر بیٹھ گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اس فلم کو میڈیا پر ایک طنز کے طور پر بنایا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Farjad Nabi
Image caption ’جیون ہاتھی‘ میں مرکزی کردار حنا دلپذیر نے ادا کیا ہے

اگرچہ فلم کا موضوع پاکستانی میڈیا پر چوٹ ہے، لیکن برصغیر کی فلموں میں موسیقی کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس فلم میں بھی موسیقی کو جگہ دی گئی ہے جو فرجاد نبی کے مطابق کہانی سے ہم آہنگ ہو کر فلم کو آرٹ کا نمونہ بنا کر پیش کرے گی۔

’جیون ہاتھی‘ میں مرکزی کردار حنا دل پذیر نے ادا کیا جو پاکستانی ٹیلی ویژن ڈراموں کا جانا پہچانا نام ہیں۔ اس کے ساتھ ہی فلم میں بھارت کے مایہ ناز اداکار نصیر الدین شاہ بھی ہیں۔

ان کے کردار کے بارے میں ہدایت کارہ مینو گور کہتی ہیں: ’نصیرالدین شاہ کا چھوٹا سا کردار ہے جس میں وہ ایک میڈیا چینل کے مالک ہیں جبکہ حنا دلپذیر ٹی وی اینکر ہیں۔ فصیح بخاری، قدوسی صاحب کی ’بیوہ‘ نامی ڈرامے کے لیے خاصی شہرت رکھتے ہیں، ان کے لکھے ہوئے سکرپٹ میں اس قدر طاقت تھی جسے پڑھ کر حنا دلپذیر اور نصیرالدین شاہ نے فوراً ہامی بھر لی۔‘

’جیون ہاتھی‘ میں شامل ایک گانا موسیقار ساحر علی بگا نے بنایا ہے جو ’زندہ بھاگ‘ میں بھی موسیقی ترتیب دے چکے ہیں۔

اس گانے کا عنوان ’جھوٹ کی لوٹ‘ ہے جو میڈیا پر طنز ہے، جبکہ دوسرا اور آخری گانا ہدایت کاروں کی نظر میں اہمیت بھی رکھتا ہے اور اسے پاکستان میں طنز و مزاح پر مبنی موسیقی کے لیے پہچانے جانے والے میوزک بینڈ ’بے غیرت بریگیڈ‘ کے علی آفتاب نے تخلیق کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Farjad Nabi
Image caption فلم کا موضوع پاکستانی میڈیا پر ایک چوٹ ہے

گانے کا نام ہے ’اکڑ بکڑ بمبے بو۔‘ یہ مخصوص گانا فلم میں کیسے فٹ ہو رہا ہے، اس پر علی آفتاب کہتے ہیں: ’یہ مونتاج کی شکل میں پیش ہو گا جو فلم کی کہانی اور کرداروں سے ہم آہنگ کر کے بنایا گیا ہے۔‘

مینو گور کا کہنا ہے کہ اس پروجیکٹ سے پہلی بار بھارت میں پاکستانی فلموں کو قانونی طور پر بھارتی عوام کے لیے پیش کرنے کی اجازت مل رہی ہے جو بذاتِ خود ایک تاریخی بات ہو گی اور ساتھ ہی وقت کی اہم ضرورت بھی ہے۔

سنہ 2014 میں زی اینٹرٹینمنٹ کی جانب سے پاکستانی ڈرامے بھارت میں پیش کرنے کے لیے زندگی چینل کا آغاز کیا گیا تھا۔

اسی گروپ کا یہ دوسرا قدم ان کے مطابق حکومت کی سرپرستی کا محتاج نہیں ہے، تاہم وہ امید کرتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو بہتر بنانے کی یہ ایک تخلیقی کوشش ہو گی۔

اسی بارے میں