تارکین وطن کے بحران پر فلم کو’گولڈن بیئر‘ایوارڈ

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption امریکی اداکارہ میریل سٹریپ نے جیافرانکو کو ایوارڈ دیا

یورپ میں تارکین وطن کے بحران پر بنائی گئی دستاویزی فلم’فائر ایٹ سی‘(سمندر میں آگ) نے برلن میں منعقدہ عالمی فلمی میلے میں بہترین فلم کا’گولڈن بیئر‘ ایوارڈ جیت لیا ہے۔

جیافرانکو روزی کی دستاویزی فلم میں بحیرۂ روم کے جزیرے لامپیدوسا میں تارکین وطن کی کرب ناک زندگی کو دکھایا گیا ہے۔

جیافرانکو روزی کے مطابق’میں بیداری پیدا کرنا چاہتا تھا، یہ ناقابل قبول ہے کہ المیے سے بھاگنے والے لوگ سمندر عبور کرتے ہوئے مارے جائیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ٹرینی ڈیرہم کو بہترین اداکارہ کا ایوارڈ ملا

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق روزی نے کہا کہ ان کی فلم میں یورپ میں تارکین وطن کے بحران کو دکھایا گیا ہے جو کہ ہولوکاسٹ کے بعد بدترین انسانی المیہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ موسم بہار میں اپنی فلم کو جزیرے لامپیدوسا میں دکھانے کا ارادہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption میا ہنسن لویا کو فلم’ تھنگز ٹو کم‘ پر بہترین ڈائریکٹر کا ایوارڈ دیا گیا

برلن میں منعقدہ عالمی فلمی میلے میں میا ہنسن لویا کو فلم’ تھنگز ٹو کم‘ پر بہترین ڈائریکٹر کا ایوارڈ دیا گیا۔

تیونس کی فلم ’نحبک ہادی‘ میں بہترین اداکاری پر ماجد مستوری کو بہترین اداکار کا جبکہ ٹرینی ڈیرہم کو فلم کولیٹیوے میں کردار پر بہترین اداکارہ کا ایوارڈ دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption تیونس کی فلم ’نحبک ہادی‘ میں بہترین اداکاری پر ماجد مستوری کو بہترین اداکار کا ایوارڈ ملا

امریکی اداکارہ میریل سٹریپ فلمی میلے کی جیوری کی صدر تھیں۔

فرانسیسی فلم’ تھنگز ٹو کم‘میں ایک سکول ٹیچر اپنی ماں کی موت کے صدمے سے نکلنے کی کوشش کرتی ہیں جس میں ان کی شادی ٹوٹ جاتی ہے۔

تیونس کی فلم ’نحبک ہادی‘ میں عرب بہار کے بعد محبت کی کہانی بیان کی گئی ہے۔