ذہن جدید کے بانی کی دورانِ خطاب موت

تصویر کے کاپی رائٹ Urdu Academy
Image caption دہلی میں موت سے قبل تقریر کرتے ہوئے

اردو دنیا کے لیے نئے سال کی ابتدا کچھ اچھی نہیں رہی۔ یکے بعد دیگرے کئی بڑی ادبی شخصیتیں نہیں رہیں۔

ابھی لوگ ’آخری آدمی‘ کے خالق انتظار حسین کی خراج عقیدت کی مجالس کا اہتمام کر ہی رہے تھے کہ معروف شاعر اور نغمہ نگار ندا فاضلی نہیں رہے۔

آج کے اخبار میں ان کے تعزیتی جلسے کی خبر کے ساتھ یہ خبر بھی شائع ہوئی کہ معروف طرح دار شاعر زبیر رضوی نہیں رہے۔

گذشتہ روز سنیچر کو دہلی اردو اکادمی کے زیر اہتمام سہ روزہ سیمنار کے دوسرے روز زبیر رضوی ابھی اپنے صدارتی خطبے کے انجام تک نہیں پہنچے تھے کہ ان کی روح قفس عنصری سے آزاد ہو گئی۔

اس طرح ایک شاعر، ڈراما نگار، پروڈیوسر، اور ذہن جدید‘ جریدے کا مدیر دنیا سے بولتا ہوا رخصت ہوا۔

صدارتی خطبے کے دوران ہی انھیں دل کا دورہ پڑا اور ہسپتال لے جانے پر ان کی موت کی تصدیق کر دی گئي۔ وہ 81 سال کے تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ ان کی نعش کو امروہہ لے جایا گیا جہاں انھیں سپرد خاک کیا گيا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption گذشتہ 27 سال سے وہ ذہن جدید ميگزن نکال رہے تھے

انھوں نے موت سے قبل صدارتی خطبہ دیتے ہوئے کہا تھا: ’میں سسکیاں لے کر رونے کا قائل نہیں، درد جب حد سے سوا ہوتا ہے تو آنکھیں نم کر لیتا ہوں۔‘

اتر پردیش کے امروہہ ضلعے کے زبیر رضوی تین دہائیوں تک آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ رہے۔ نوکری کے آخری دنوں میں دہلی اردو اکادمی کے سیکریٹری بھی رہے۔

زبیر رضوی ذہن جدید نامی جریدے کے بانی رہے۔ ان کی شاعری کے مجموعوں میں ’لہر لہر ندیاں گہری‘، ’خشت دیوار‘، ’مسافت شب‘، ’پرانی بات ہے‘، ’دھوپ کا سائبان‘، ’دامن‘، اور ’انگلیاں فگار اپنی‘ شامل ہیں۔ حال میں انھوں نے اپنی نظموں کا ایک انتخاب ’سنگ صدا‘ کے نام سے شائع کیا تھا۔

انھوں نے ڈرامے پر کئی کتابیں چھوڑی ہیں جن میں ’عصری ہندوستان تھیئٹر، ’یک بابی ڈرامے، ’آزادی کے بعد اردو سٹیج ڈرامے، ’ہندوستانی سینیما کے سو سال کے سفر قابل ذکر ہیں۔

چالیس سال تک ایک ساتھ پڑوس میں رہنے والے ان کے دوست اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق استاد ڈاکٹر اسلم پرویز نے انھیں ایک ’طرح دار شاعر اور اچھے دوست کے طور پر یاد کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’آخری وقت تک وہ فعال رہے اور انھوں نے اپنے سامنے نہ جانیں کتنے کام پھیلا رکھے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Urdu Academy
Image caption زبیر رضوی کو نرم لہجے کا طرح دار شاعرکہا جاتا ہے

زبیر رضوی اپنے مخصو انداز کے لیے یاد کیے جائیں گے۔ ان کی مخصوص نظمیں ’پرانی بات ہے لیکن یہ انھونی سی لگتی ہے‘ ایسی ہیں جو قصہ گوئی کی تمام کیفیتیں رکھتی ہیں اور اس معاملے میں انتظار حسین کی قصہ گوئی سے قدرے قریب بھی نظر آتی ہیں۔

ان کے چند اشعار جو کبھی ان سے کبھی دوسروں سے سنے تھے یاد آتے ہیں۔

باتوں کا حسن ہے نہ کہیں شوخی بیاں

شہر نوا سے حرف و صدا کون لے گيا

مجھے تم شہرتوں کے درمیاں گمنام لکھ دینا

جہاں دریا ملے بے آب میرا نام لکھ دینا

شام کی دہلیز پر ٹھہری ہوئی یادیں زبیر

غم کی محرابوں کے دھندلے آئینے چمکا گئیں

ایک بار یہ اشعار پڑھے تھے:

سارا منظر ہے اجنتا کی گپھاؤں کی طرح

لڑکیاں شہر میں پھرتی ہیں گھٹاؤں کی طرح

اسی بارے میں