فلم ’علی گڑھ‘ کی نمائش روک دی گئی

منوج باجپائی تصویر کے کاپی رائٹ Eros International
Image caption ہم جنسی کے متعلق لوگوں کے رویے پر مبنی بالی وڈ کی جانب سے اس طرح کی یہ پہلی فلم ہے

بھارت کے شمالی شہر علی گڑھ میں علی گڑھ کے نام سے ریلیز کی جانے والی فلم کی نمائش روک دی گئی ہے۔ اس فلم میں ہم جنس پرستی کے موضوع پر بات کی گئی ہے۔

شہر کی میئر شکنتلا بھارتی نے کہا کہ فلم کا نام تبدیل کیا جانا چاہیے کیونکہ اس میں شہر کے نام کو ہم جنس پرستی سے جوڑا گیا ہے جو کہ بقول ان کے شہر کو بدنام کر رہا ہے۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی طلبہ کی یونین نے بھی ایسا ہی بیان دیا ہے۔

یہ فلم یونیورسٹی کے ایک سابق پروفیسر کی زندگی پر مبنی ہے جنھیں ہم جنسی پرستی کی وجہ سے یونیورسٹی سے معطل کیا گیا تھا اور ایک مرد کے ساتھ اپنے جنسی تعلقات کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے دو ماہ بعد وہ اپنے گھر میں مردہ پائے گئے تھے۔

فلم کے ڈائریکٹر ہنسال مہتا نے فلم پر اس شور شرابے کو ’ہم جنسی پرستوں سے نفرت‘ کہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ wiki
Image caption پروفیسر کی موت کے بعد علی گڑھ یونیورسٹی کی انتظامیہ پر کڑی تنقید کی گئی تھی

یاد رہے کہ علی گڑھ کے ایک مقامی ٹی وی سٹیشن کے عملے نے آٹھ فروری 2010 کو 64 سالہ شری نواس رام چندر سیرس کی اس وقت ویڈیو بنائی جب وہ یونیورسٹی کےاحاطے میں واقع اپنے گھر میں ایک رکشہ چلانے والے شخص کے ساتھ جنسی عمل میں مصروف تھے۔

اس ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد یونیورسٹی کی انتظامیہ نے پروفیسر سیرس کو معطل کر دیا تھا اور انھیں یونیورسٹی چھوڑ جانے کے لیے کہا گيا لیکن دو ماہ بعد ہی وہ اپنے گھر میں مردہ پائے گئے۔

ان کی موت کے بعد یونیورسٹی کی انتظامیہ پر شدید تنقید کی گئی۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ کہ پروفیسر سیرس کی موت اس بات کی مثال ہے کہ بھارت میں ہم جنس پرستوں کی زندگی کتنی مشکل ہے۔

پروفیسر سیرس نے بعد میں این ڈی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ صحافیوں کا اس طرح فلم بنانا ان کی نجی زندگی میں مداخلت ہے، جس پر وہ غصہ، شرمندگی اور بے عزتی محسوس کرتے ہیں۔

اسی بارے میں