’سپاٹ لائٹ‘ بہترین فلم، لیونارڈو کا پہلا آسکر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ ساتواں موقع تھا کہ لیونارڈو ڈی کیپریو کو آسکرز کے لیے نامزد کیا گیا تھا

امریکی شہر لاس اینجلس میں 88ویں اکیڈمی ایوارڈز کی تقریب میں جہاں سب اندازوں کے برعکس فلم ’سپاٹ لائٹ‘ کو بہترین فلم قرار دیا گیا ہے وہیں اداکار لیونارڈو ڈی کیپریو اپنا پہلا آسکر ایوارڈ جیتنے میں کامیاب رہے ہیں۔

بہترین فلم کے علاوہ ’سپاٹ لائٹ‘ نے بہترین اویجنل سکرین پلے کا ایوارڈ بھی جیتا ہے۔

لیونارڈو کو بہترین اداکار کا ایوارڈ فلم ’دی ریویننٹ‘ کے لیے دیا گیا۔

وہ ماضی میں چھ مرتبہ آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد ہوئے تھے تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ کامیابی ان کے حصے میں آئی ہے۔

بہترین اداکارہ کا ایوارڈ برئی لارسن کو فلم ’دی رُوم‘ کے لیے جیتا۔ وہ پہلی مرتبہ آسکرز کے لیے نامزد ہوئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بہترین اداکارہ کا ایوارڈ برئی لارسن کو فلم ’دی رُوم‘ کے لیے دیا گیا

اس برس آسکر ایوارڈز کے لیے سب سے زیادہ 12 نامزدگیاں حاصل کرنے والی فلم ’دی ریویننٹ‘ تین ایوارڈز جیت سکی جو کہ بہترین اداکار، بہترین ہدایتکار اور بہترین عکس بندی یا سینیماٹوگرافی کے ہیں۔

بہترین ہدایتکار کا ایوارڈ الیہاندرو اناریتوگونزالز نے جیتا اور یہ ان کا چوتھا آسکر ایوارڈ ہے۔ وہ گذشتہ برس ’ڈی برڈ مین‘ کے لیے بھی بہترین ہدایتکار، بہترین فلمساز اور بہترین اوریجنل سکرین پلے کے ایوارڈ جیت چکے ہیں۔

میڈ میکس: فیوری روڈ چھ ایوارڈز جیت کر سب سے آگے رہی تاہم یہ سب ایوارڈ تکنیکی شعبہ جات میں دیے گئے۔

اس فلم کو آسکرز میں دس ایوارڈز کے لیے نامزد کیا گیا ہے جن میں بہترین فلم کے لیے نامزدگی بھی شامل تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption الیہاندرو اناریتو نے ’دی ریویننٹ‘ کے لیے بہترین ہدایتکار کا ایوارڈ حاصل کیا ہے

میڈ میکس: فیوری روڈ نے ملبوسات، میک اپ، پروڈکشن ڈیزائن، تدوین، ساؤنڈ ایڈیٹنگ اور ساؤنڈ مکسنگ کے شعبوں میں ایوارڈ جیتے ہیں۔

بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ مارک ریلنس کو فلم ’برج آف سپائیز‘ کے لیے دیا گیا ہے جبکہ سویڈش اداکارہ الیشیا وکاندر فلم ’ڈینش گرل‘ کے لیے بہترین معاون اداکارہ قرار دی گئی ہیں۔

بہترین مختصر دستاویزی فلم کا ایوارڈ پاکستانی فلمساز شرمین عبید چنائے کی فلم ’دا گرل ان دا ریور‘ کو دیا گیا ہےجبکہ بہترین دستاویزی فیچر فلم ’ایمی‘ قرار دی گئی۔

آنجہانی گلوکارہ ایمی وائن ہاؤس کے بارے میں بنائی گئی اس فلم کے لیے آصف کپاڈیا اور جیمز ریس نے ایوارڈ حاصل کیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بہترین مختصر دستاویزی فلم کا ایوارڈ پاکستانی فلمساز شرمین عبید چنائے کی فلم ’دا گرل ان دا ریور‘ کو دیا گیا

بہترین طبع زاد سکرین پلے کا ایوارڈ ’بگ شاٹ‘ کے نام رہا جبکہ بہترین موسیقی کا ایوارڈ برطانوی موسیقار سیم سمتھ نے جیمز بانڈ سیریز کی فلم ’سپیکٹر‘ کے لیے جیتا۔

اکیڈمی ایوارڈز کی اس تقریب کا ہالی وڈ کی کچھ شخصیات نے بائیکاٹ بھی کیا ہے جن کا موقف ہے کہ رواں برس آسکر ایوارڈز کی نامزدگیوں میں تنوع کی کمی ہے۔

خیال رہے کہ اس سال بہترین اداکاری کے لیے نامزد کیے گئے تمام 20 اداکار سفید فام تھے اور یہ لگاتار دوسرا سال ہے جس میں کسی بھی سیاہ فام یا اقلیت سے تعلق رکھنے والے اداکار کو ایوارڈز میں اداکاری کے چار زمروں میں شامل نہیں کیا گیا۔

اسی بارے میں