’ساحلِ سمندر پر بلوچ یومِ ثقافت منانے کی اجازت نہیں‘

Image caption کراچی میں بلوچوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے

پاکستان بھر میں دو مارچ کو بلوچ یومِ ثقافت منایا جا رہا ہے لیکن کراچی میں کنٹونمنٹ بورڈ نے سکیورٹی خدشات کو بنیاد بنا کر اس دن کی مناسبت سے تقریب کے انعقاد کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔

بلوچ ٹی وی چینل ’وش‘ کی جانب سے کراچی میں یہ دن ساحل سمندر پر منانے کا اعلان کیا گیا تھا۔

اسی سلسلے میں چینل کی جانب سے کنٹونمنٹ بورڈ کو ایک تحریری درخواست دے کر سی ویو پر بلوچ کلچرل ڈے منانے کی اجازت طلب کی گئی تھی لیکن تقریب سے دو روز قبل کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن کی جانب سے اجازت دینے سے معذرت کی گئی ہے اور اس کی وجہ سکیورٹی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔

وش ٹی وی چینل کے ڈائریکٹر نیوز اویس اقبال کے مطابق انھوں نے 25 جنوری کو کلفٹن بورڈ کو یہ خط تحریر کیا تھا اور ’ہر سال ہی وہ سکیورٹی کے خدشات کا اظہار کرتے ہیں اور بعد میں اجازت دے دیتے تھے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اس سال بھی بورڈ کے حکام کے ساتھ ملاقاتیں ہوئی تھیں اور حکام نے کہا تھا کہ یہ تقریب ہونی چاہیے کیونکہ بلوچ کلچر اتنا شاندار ہے اور کراچی سب کا شہر ہے اس لیے یہاں یہ تقریب منعقد ہونی چاہیے۔

’اس سال بھی ہمارا اندازہ تھا کہ اجازت مل جائےگی، اس دن کے مناسبت سے شہر بھر میں پبلسٹی کی گئی لیکن عین وقت پر خط بھیجا گیا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اگر پہلے بتایا جاتا تو ہم یہ تقریب کہیں اور منتقل کر دیتے۔‘

خیال رہے کہ کراچی میں بلوچوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے اور وش ٹی وی کی جانب سے یہ دن سنہ 2011 سے منایا جا رہا ہے۔

اس عرصے میں دو مرتبہ یہ پروگرام لیاری کی حد تک محدود رہا جس کے بعد اسے ساحل سمندر پر سی ویو کے مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

وش ٹی وی چینل کے ڈائریکٹر نیوز اویس اقبال کے مطابق ’پاکستان میں چاروں صوبے اور وہاں کے لوگ، اپنی ثقافت سامنے لے کر آئیں تو اس سے نفرت، تعصب اور شدت پسندی سے بچا جا سکتا ہے۔

’اب بلوچوں کے جو تحفظات ہیں وہ اب اس سطح پر بھی سوچیں گے کہ انھیں کلچر ڈے بھی منانے نہیں دے رہے ہیں اور ہم قریب آنا چاہتے ہیں لیکن ہمیں دور ہی رکھا جاتا ہے معلوم نہیں کیوں؟‘

یاد رہے کہ کراچی میں امریکی قونصلیٹ کی جانب سے 2 مارچ کو بلوچ ثقافتی تقریب منعقد کی جا رہی ہے جبکہ اس سے قبل کراچی پریس کلب میں بھی ایسی تقریب کا انعقاد ہو چکا ہے۔

اسی بارے میں