میڈرڈ سے فرانسس بیکن کے پانچ فن پارے چوری

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption فرانسس بیکن کا شمار 20ویں صدی کے مشہور ترین مصوروں میں ہوتا ہے۔

یورپی ملک سپین سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مشہور برطانوی مصور فرانسس بیکن کی پانچ تصاویر کو میڈرڈ سے چوری کیا گیا ہے۔

یہ تصاویر نجی ملکیت میں تھیں اور انھیں شہر کے متمول علاقے میں واقع ایک فلیٹ سے چوری کیا گیا۔

یہ واقعہ گذشتہ برس جون کا ہے تاہم اس کے بارے میں معلومات حال ہی میں منظرِ عام پر آئی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق چوروں نے فلیٹ میں نصب الارم ناکارہ بنایا اور تین کروڑ یورو مالیت کے یہ فن پارے اس وقت چوری کیے جب ان کا مالک چند گھنٹے کے لیے اپنی رہائش گاہ سے باہر گیا ہوا تھا۔

ہسپانوی اخبار ال پیس کے مطابق پولیس کا خیال ہے کہ چور تاحال ان فن پاروں کو ملک سے باہر لے جانے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔

خیال ہے کہ ان تصاویر کے 59 سالہ مالک کو یہ فن پارے فرانسس بیکن سے وراثت میں ملے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ christies
Image caption فرانسس بیکن کی یہ تصویر ’تھری سٹڈیز آف لوشن فروئڈ‘ مئی سنہ 2015 تک دنیا کی سب سے مہنگی تصویر تھی

فرانسس بیکن کا انتقال 24 سال قبل میڈرڈ میں ہی ہوا تھا۔

ان کا شمار 20ویں صدی کے مشہور ترین مصوروں میں ہوتا ہے۔

سنہ 2013 میں ان کا سنہ 1969 میں ’تھری سٹڈیز آف لُوشن فروئڈ‘ کے عنوان سے بنایا گیا فن پارہ نیویارک کی ایک نیلامی میں 14 کروڑ 20 لاکھ ڈالر میں فروخت ہو کر تاریخ کی سب سے مہنگے داموں بکنے والی تصویر بن گیا تھا۔

تاہم اس ریکارڈ کو مئی سنہ 2015 میں پیبلو پکاسو کی تصویر ’الجزائر کی عورتیں‘ نے توڑا تھا جو نیویارک کے نیلام گھر کرسٹیز میں 17 کروڑ 93 لاکھ ڈالر میں فروخت کی گئی تھی۔

اسی بارے میں