’برطانوی ناول نگار انیتا بروکنر انتقال کر گئیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption انیتا بروکنر نے سنہ 1984 میں اپنے ناول ’ہوٹل ڈو لیک‘ پر بوکر پرائر حاصل کیا تھا

برطانوی اخبار دی ٹائمز کے مطابق معروف برطانوی ناول نگار اور فنون لطیفہ کی مؤرخ انیتا بروکنر 87 سال کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔

انیتا بروکنر نے سنہ 1984 میں اپنے ناول ’ہوٹل ڈو لیک‘ پر بوکر پرائر حاصل کیا تھا اور وہ 25 کتابوں کی مصنفہ تھیں۔

دی ٹائمز میں شائع ہونے والے نوٹس کے مطابق انیتا بروکنر کا انتقال 10 مارچ کو نیند کے دوران ہوا۔

ناول نگار جلی کوپر نے اخبار کو بتایا کہ وہ ایک ’حیران کن لکھاری‘ تھیں جو ’میرے دور کی نمائندہ تھیں۔‘

انیتا بروکنر نے 1950 کی دہائی میں فنون لطیفہ کی مؤرخ کے طور پر نام بنانے کے بعد لکھنے کا آغاز کیا تھا۔

وہ پہلی خاتون تھیں جنھیں کیمبرج یونیورسٹی میں شعبہ فائن آرٹس میں سلیڈ پروفیسرشپ ملی تھی اور وہ کورٹالڈ انسٹی ٹیوٹ آف آرٹ میں پڑھاتی رہی تھیں۔

ان کا پہلا ناول ’اے سٹارٹ ان لائف‘ سنہ 1981 میں شائع ہوا تھا جبکہ ان کی آخری تصنیف ناولٹ ’ایٹ دی ہیئر ڈریسرز‘ تھا جو سنہ 2011 میں شائع ہوا۔

Image caption انیتا بروکنر کے ناول ’ہوٹل ڈو لیک‘ سے ماخوذ سنہ 1986 میں بی بی سی کے لیے ٹی وی ڈرامہ بھی تشکیل دیا گیا تھا

ٹائمز کے مطابق وہ تنہائی پسند تھیں اور انٹریوز اور کتابوں اور اظہار خیال کی تقریبات سے اجتناب کرتی تھیں۔

انیتا بروکنر کی پیدائش سنہ 1928 میں ہوئی تھی اور وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھیں، ان کے والدین پولش یہودی تھے جنھوں نے لندن میں دوسری جنگ عظیم کے دوران نازیوں کے امتیازی سلوک سے بچ کر آنے والوں کے لیے اپنے گھر کے دروازے کھول دیے تھے۔

انھوں نے کبھی شادی نہیں تھی۔ ڈیلی ٹیلی گراف کے مطابق انھوں نے سنہ 2009 میں کہا تھا کہ ’اسی لیے میں لکھتی ہوں۔ کیونکہ میرے کوئی بچے نہیں ہیں۔‘

اسی بارے میں