مودی کا مومی مجسمہ بنے گا ’سیلفی پوائنٹ‘

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption لوگوں نے وہ ویڈیو بھی شیئر کی جس میں مودی فیس بک کے سربراہ مارک زكربرگ کو اپنے سامنے سے ہٹا کر کیمرے کے آگے آنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں

بدھ کو لندن کے مشہور مومی عجائب گھر مادام تساد نے اعلان کیا کہ اپریل میں انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کا مومی مجسمہ بھی وہاں نظر آئے گا۔ اس اعلان کے فوراً بعد ٹوئٹر پر اس کے بارے میں دلچسپ ردعمل آنا شروع ہو گیا۔

میوزیم نے کہا تھا کہ یہاں آنے والے مہمان مجسمے کے ساتھ سیلفی بھی لے سکیں گے: ’نریندر مودی سوشل میڈیا پر انتہائی مقبول ہیں، اس لیے میوزیم میں آنے والے مہمانوں کے لیے ان کا مجسمہ توجہ کا مرکز ہو گا۔‘

بس پھر کیا تھا، سوشل میڈیا پر نریندر مودی کے کیمرے اور سیلفی سے محبت کے موضوع پر دلچسپ تبصرے آنے لگے۔

لوگوں نے وہ ویڈیو بھی شیئر کی جس میں مودی فیس بک کے سربراہ مارک زكربرگ کو اپنے سامنے سے ہٹا کر کیمرے کے آگے آنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔

پرفل نامی ایک ٹوئٹر صارف لکھتے ہیں: ’مادام تساد میوزیم میں مودی کا مجسمہ ہوگا، جس میں گھومتی ہوئی آنکھیں لگی ہوں گی جو کیمرے کو دیکھ کر اپنی پوزیشن تبدیل کر سکیں گی۔‘

خالد حسین نے لکھا کہ ’مودی کے مجسمے میں کیمرے کا پتہ لگانے کا خود کار نظام نصب ہو گا اور یہ مجسمہ بھی خود وزیر اعظم ہی کی طرح انڈیا سے منسلک مسائل کے بارے میں کچھ نہیں بولے گا۔‘

ایک اور ٹویٹ تھی: ’مادام تساد میں اپنے مجسمے کے افتتاح کے موقعے پر وزیرِ اعظم مودی اپنی بہتر فوٹو کے لیے اپنے ہی مجسمے کو پرے دھکیل دیں گے۔‘

سنکیت مورے نے لکھا: ’جہاں وزیر اعظم مودی کا مومی مجسمہ ہو گا اس جگہ کو سیلفی پوائنٹ کہا جائے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Madaam Tussauds
Image caption خالد حسین نے طنزاً لکھا کہ ’مودی کے مجسمے میں کیمرے کا پتہ لگانے کا خود کار نظام نصب ہو گا‘

اسی بارے میں