’ٹو نیکڈ فار دی نازیز‘ کے لیے عجیب ترین کتاب کا اعزاز

تصویر کے کاپی رائٹ Rolf Marriott. Fantom Films
Image caption ایلن سٹیفورڈ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی کتاب کے عنوان کو کتاب سے زیادہ شہرت ملی

’ٹو نیکڈ فار دی نازیز‘ نامی کتاب نے اس سال عجیب ترین کتاب کا اعزاز ’ڈایاگرام پرائز‘ جیتا ہے۔ یہ کتاب تین تھیٹر فنکاروں کی کہانی بیان کرتی ہے۔

کتاب کے مصنف ایلن سٹیفورڈ نے اپنی کتاب ’دی بک سیلر‘ میگزین کی جانب سے دیے جانے والے اس ایوارڈ کے لیے خود نامزد کی تھی۔

اس کتاب نے ’ریڈنگ فرام بیہائنڈ: اے کلچرل ہسٹری آف اینس‘ نامی کتاب کو 23.3 فیصد ووٹوں کے مقابلے میں 24.8 فیصد ووٹوں سے پیچھے چھوڑ دیا۔

ایلن سٹیفورڈ کو نقد انعام تو نہیں ملے گا تاہم انھیں ’کلارے (شراب) کی ایک مناسب بوتل‘ دی جائے گی۔

ان کی کتاب ولسن، کیپل اور بیٹی نامی تین فنکاروں کی سرگزشت ہے۔ جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ ’چکل برادرز سے متاثر‘ ہے جبکہ ’ریڈنگ فرام بیہائنڈ‘ تدریسی تحریر ہے۔

ڈایاگرام پرائز گذشتہ 38 سال سے منفرد کتابوں کو دیا جارہا ہے۔

اس سال اس انعام کے لیے نامزد دیگر سات کتابوں میں ’ٹرنسویسٹائٹ بائکر ننز فرام آؤٹر سپیس‘ اور ’سویت بس سٹاپس‘ نامی کتابیں بھی شامل تھیں۔

انگلینڈ کے قصبے اپسوچ سے تعلق رکھنے والے ایلن سٹیفورڈ کہتے ہیں کہ ’میں ان سب کا بے حد شکر گزار ہوں جنھوں نے مجھے ووٹ دینے کی زحمت کی۔ ایک اچھا عنوان نہ صرف عوام کو کتاب کے بارے میں بتاتا ہے بلکہ یہ بعض اوقات مصنف کے بارے میں بھی بتایا ہے۔‘

’ٹو نیکڈ فار دی نازیز کا عنوان میری کتاب میں شامل ایک اہم واقعے کو ظاہر کرتا ہے۔ جب تین مصری رقاصاؤں نے اپنے بالوں والی ٹانگیں دکھا کر نازیوں کی اعلیٰ قیادت کا غضب مول لیا تھا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ یہی وہ خیال تھا جس نے انھیں کتاب کا یہ عنوان تجویز کرنے پر مائل کرنا شروع کیا۔

اسی بارے میں