محبت، قہقہوں اور بم دھماکوں کی کہانی

Image caption ’ممکن ہے کہ اس ڈرامے کو سن کر انھیں کچھ راحت ملتی ہو اور جب وہ اپنی زندگی سے 15 منٹ نکال کر ریڈیو کھولتے ہوں تو دیام کی ساریہ سے ناکام محبت اور ساریہ کی دوریہ کے لیے جذباتی لگن کی کہانی میں کھو جاتے ہوں‘

ریڈیو سے ایک غم زدہ عورت کی آواز میں گانا شروع ہو گیا۔ چاہے آپ کو عربی زبان کا ایک لفظ بھی سمجھ نہیں آتا تب بھی آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ’شمال کی دکھ بھری راتیں‘ نامی یہ ریڈیو ڈراما کسی عام ڈرامے سے کہیں زیادہ سنجیدہ موضوع پر مبنی ہے۔

ریڈیو الوان کے سپیشل پروجیکٹ ڈائیرکٹر سمیع نے ایک اداسی بھری مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ ’یہ عورت اپنے وطن کی یاد میں افسردہ ہے۔‘

* دولت اسلامیہ پر ڈرامہ منسوخ، فنکاروں کا کھلا خط

انھوں نےمجھےگانے کے بول سمجھائے جن کا مطلب تھا، ’ہم تمہارے پاس واپس آنا چاہتے ہیں، ہم دوبارہ ملنا چاہتےہیں، ہم کل تک کا انتظار بھی نہیں کرنا چاہتے کہ کہیں کل تک تمہارے زخم ہی نہ بھر جائیں۔‘

جب ہم یہ سن رہے تھے تو کھڑکی کے باہر سے ٹریفک کا شور بھی سنائی دے رہا تھا۔ یہاں چند ہی لوگوں کو معلوم ہے کہ استنبول کے مصروف مغربی مضافات میں واقع اس عام سے دفتر سے ایک ایسا ریڈیو ڈراما نشر کیا جارہا ہے جو جنگ زدہ شام کے لوگوں کی کہانیوں کے بارے میں ہے۔

سمیع نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو اس کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے، کیونکہ بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ ریڈیو الوان ایک خود مختار سٹیشن ہے جو اپنی خبروں اور ڈراموں کی کہانیوں کو حکومت یا اپوزیشن کے اشارے پر تبدیل نہیں کرتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سکرپٹ رائٹر محمود نے مجھے بتایا کہ ان کی کہانیوں کا مرکزی خیال شامیوں کی زندگی کے حقیقی واقعات پر مبنی ہوتا ہے

اور ان کو اس سچ بولنے کی قیمت بھی چکانی پڑتی ہے۔ گذشتہ ماہ ریڈیو سٹیشن کے حلب میں واقع دفتر کے عملے کو نامعلوم نقاب پوش افراد نے زدو کوب کیا اور ان کا سامان اٹھا کر لے گئے۔

سمیع مجھے ایک چھوٹے سے ریکارڈنگ سٹوڈیو میں لے گئے جہاں کی ساؤنڈ پروف دیواروں پر لگا سیاہ فوم برابر میں موجود باوورچی خانے سے آنے والے سگریٹ کے دھویں کی بو سے اٹا ہوا تھا۔ ان کے سامنے ایک نوجوان اداکار میران ہاتھوں میں ڈرامے کا مسودہ لیے انتہائی پروفیشنل اندازمیں کھڑا تھا۔ میران نے مجھےاندر آنے کو کہا، اور دروازے کے بند ہوتے ہی انھوں نے ڈرامائی انداز میں زور زور سے بولنا شروع کر دیا اور اچانک ہی اپنی آواز کو بلند کرتے ہوئے اپنے سر کو پیچھے کی جانب دھکیل کر زور زور سے ہنسنا شروع کر دیا۔

کمرے میں موجود شیشے کی ایک چھوٹی سی کھڑکی کے پار ہم ریکارڈنگ انجینیئر کو بھی دیکھ سکتے تھے۔ انھوں نے ڈرامے کے اگلے حصے کی کچھ سطریں ادا کیں اور میران دوبارہ ایک جنونی شخص کی اداکاری کرنے لگے۔ ایڈیٹر نے ان سے وہ سین دوبارہ کرنے کو کہا۔ میران نے پریشانی کے عالم میں گھڑی پر نظر ڈالی لیکن ایک آخری ٹیک دینے کے لیے تیار ہو گئے۔ وہ جیسے ہی کام ختم کر کے سٹوڈیو سے باہر نکلے تو میں بھی ان کے پیچھے ہو لی اور ان سے پوچھا کہ ڈرامے میں ان کا کردار کیا ہے وہ اس مخصوص سین میں کیا کر رہے تھے۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ ’میں اس ڈرامے میں ساریہ ہوں اور ڈرامے کی مرکزی کردار دوریہ سے جنون کی حد تک پیار کرتاہوں۔ وہ بیوہ ہے جس کے نوجوان بیٹے کو دولت اسلامیہ کے مسلح افراد اٹھا کر لے گئے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption استنبول کے مصروف مغربی مضافات میں واقع اس عام سے دفتر سے ایک ایسا ریڈیو ڈراما نشر کیا جارہا ہے جو جنگ زدہ شام کے لوگوں کی کہانیوں کے بارے میں ہے

پھر انھوں نے مجھ سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ’میں معافی چاہتا ہوں کیونکہ میں ذرا جلدی میں ہوں۔ مجھے فورا نیوز روم واپس جانا ہے تاکہ اگلے گھنٹے کا نیوز بلیٹن ریکارڈ کروا سکوں۔‘

ریڈیو الوان انتہائی کم بجٹ میں کام کرتا ہے۔ ان کے ڈراموں کی زیادہ تر کاسٹ سٹیشن کے نیوز ریڈر اور پروگرام میزبانوں پرمشتمل ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود بھی حیرت انگیز طور پر بھی ان کے ڈرامے تکنیکی اور فنی اعتبار سے بہت اعلیٰ معیار کے ہوتے ہیں۔ ان کے سٹوڈیو انجینیئروں کو اپنے ساؤنڈ افیکٹس کے کام پر بہت فخر ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’بمباری کی آواز تو ہم انٹر نیٹ سے اٹھا لیتے ہیں۔ لیکن آپ کو معلوم ہے کہ ایک ترتیب کے ساتھ انگلیوں کو چٹخانے سے موسلادھار بارش شروع ہونے سے قبل گرنے والے پانی کے پہلے قطروں جیسی آواز پیدا کی جا سکتی ہے۔‘

ان کو اس بات میں بھی دلچسپی تھی کہ بی بی سی ریڈیو کے ڈرامے ’آرچر‘ میں جانوروں کی آوازیں کس طرح پیدا کی جاتی ہیں۔ آرچر برطانیہ کی دیہی زندگی پر مبنی ڈراما ہے جو ایک طویل عرصے سے بی بی سی ریڈیو سے پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن جب میں نے انھیں بتایا کہ حال ہی میں ڈرامے میں چاقو سے وار کی آواز کس طرح پیدا کی گئی تو انھوں نے کہا کہ ’یہ تو بہت آسان ہے۔ ہم شمال کی دکھ بھری راتیں‘‘ میں بھی اکثر ایسا کرتے رہتے ہیں۔اس کے لیے آپ کو تیز دھارچاقو سے بند گوبھی پر وار کرنا ہوتا ہے۔‘

ڈرامے کے سکرپٹ رائٹر محمود نے مجھے بتایا کہ ان کی کہانیوں کا مرکزی خیال شامیوں کی زندگی کے حقیقی واقعات پر مبنی ہوتا ہے۔

انھوں نے انتہائی نرم لہجے میں پوچھا کہ ’کیا اس بات پر یقین کرنا اتنا مشکل ہے کہ ایک مایوس اور پریشان حال نوجوان دولت اسلامیہ کے لیے ایک تر نوالہ ثابت ہو سکتا ہے جس کے باپ کو دہشت گردوں نے قتل کر دیا ہو؟ اور کیا ایک جذبات سے بپھری ہوئی دکھی بیوہ مہاجروں کے ساتھ اپنے وطن کو چھوڑنے کا سوچ سکتی ہے؟ یا پھر کیاایک تعلیم یافتہ وکیل اور فری سیئرین آرمی کا بنیادی رکن جس کا پورا خاندان ایک فضائی حملےمیں ہلاک ہو گیا ہو، بدلہ لینے کے بارے میں سوچ رہا ہے؟‘

Image caption سمیع کے بقول لوگوں کو اس کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے کہ ریڈیو الوان ایک خود مختار سٹیشن ہے جو اپنی خبروں اور ڈراموں کی کہانیوں کو حکومت یا اپوزیشن کے اشارے پر تبدیل نہیں کرتا

انھوں نے اپنے بالوں کی لٹ کو انگلیوں میں لپیٹ کر چھوڑتے ہوئے کہا: ’میرا ڈراما سوالوں کے جواب دینےکی کوشش نہیں کرتا بلکہ سننے والوں کے لیے سوال ضرورچھوڑ دیتا ہے کہ ان حالات میں وہ کیا کرتے۔‘

اور ممکن ہے کہ اس ڈرامے کو سن کر انھیں کچھ راحت ملتی ہو اور جب وہ اپنی زندگی سے 15 منٹ نکال کر ریڈیو کھولتے ہوں تو دیام کی ساریہ سے ناکام محبت اور ساریہ کی دوریہ کے لیے جذباتی لگن کی کہانی میں کھو جاتے ہوں۔

محمود مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ہمارے کرداروں کا حقیقی ہونا لازمی ہے۔ شامی بھی عام لوگوں کی طرح ہی ہیں۔ حتیٰ کہ ان پر آشوب دنوں میں بھی وہ محبت کرنا، مسکرانا اور اور جینا نہیں بھولے۔‘

نیوز روم میں میران خبریں ترتیب دے رہے ہیں جبکہ مائیس بلیٹن پڑھنے کی تیاری کررہی ہیں۔ بلیٹن پڑھنے کے بعد وہ ڈرامے کی ہیروئن دوریا بن جائیں گی، جو اپنے بیٹے کو دولت اسلامیہ کا حامی بننے سے پہلے ان کے چنگل سے آزاد کروانے کے لیے بیتاب ہے۔

میں نے ان سے پوچھا کی کیا دوریہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں اور کیا وہ اس کو اپنی محبت مل جاتی ہے تو سمیع نے مسکراتے ہوئے میری بات کاٹی اور جواب دیا: ’سیزن تھری جلد ہی آنے والا ہے۔‘ اور پھر مجھے باہر تک چھوڑنے چلے آئے۔

اسی بارے میں