’تلخ حقیقتوں سے نظریں نہیں چرانی چاہییں‘

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے ہم ٹی وی کی ڈراما سیریل ’اڈاری‘ کے کچھ مناظر کو ’غیر اخلاقی‘ قرار دیتے ہوئے ہم ٹی وی انتظامیہ کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کیا ہے۔

تاہم ڈرامے کے ہدایتکار کا کہنا ہے کہ پیمرا نے جن چیزوں پر اعتراض کیا ہے اصل میں یہ ڈرامہ ان کے خلاف ہی بنایا گیا ہے۔

٭ قصور کے بعد سوات: ’بچوں کی ویڈیوز بنانے والا گینگ گرفتار‘

خیال رہے کہ ڈراما سیریل ’اڈاری‘ بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف بنایا گیا ہے۔

پیمرا نے اپنے نوٹس میں کہا ہے کہ ڈراما سیریل ’اڈاری‘ کی آٹھ مئی کو نشر ہونے والی قسط میں ایک شخص کو اپنی بھانجی کو زبردستی بدفعلی کی جانب راغب کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

پیمرا نوٹس کے مطابق اسی قسط میں سوتیلے باپ کا کردار ادا کرنے والے ایک شخص کو اپنی نوعمر بیٹی پر بری نظر رکھتے بھی دکھایا گیا ہے۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اس عمل سے ناظرین اور والدین میں شدید غصہ پایا جاتا ہے اور ماہرِ نفسیات کےمطابق ’چینل کےاس عمل سے ایسی ذہنیت رکھنے والوں کے جذبات ابھر سکتے ہیں‘۔ تاہم پیمرا نے اپنے نوٹس میں ماہرِ نفسیات کا نام نہیں لکھا۔

پیمرا کےمطابق اس کے ٹوئٹر اکاؤنٹ اور شکایتی نمبرز پر متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں جس میں ناظرین نے معاشرے میں موجود برائیوں کو اس طرح پیش کرنے پر اعتراض کیا ہے جس سے پاکستانی معاشرے کے تاریک پہلو دنیا تک پہنچتے ہیں۔

نوٹس کے مطابق چینل کا یہ عمل پیمرا کے قوانین اور ضابطۂ اخلاق کی بھی خلاف ورزی ہے جس کی وجہ سے ہم ٹی وی کو 25 مئی تک جواب داخل کروانے کا حکم دیاگیا ہے۔

ڈراما سیریل ’اڈاری‘ کےڈائریکٹر احتشام الدین نے پیمرا کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ڈراما سیریل شروع ہونے سے پہلے ہی پریس کانفرنس میں بتایا دیا تھا کہ یہ ڈراما ’انتہائی حساس‘ موضوع پر بنایا گیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ

احتشام الدین نے کہا کہ تمثیل میں کہانی کردار کی صورت میں دکھائی جاتی ہے اور پیمرا کو یہ بات سمجھنی چاہیے اور ہم نے اپنے ڈرامے میں کوئی غیر اخلاقی مواد نہیں دکھایا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سینکڑوں کی تعداد میں بچوں کے خلاف جنسی استحصال کے مقدمات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں اکثریت کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے جبکہ کچھ مقدمات میں تو بچوں کو جنسی استحصال کے بعد قتل بھی کیا گیا ہے۔

ڈراما سیریل ’اڈاری‘ کے ڈائریکٹر کے مطابق ’اگر ہم معاشرے کی برائیوں پر پردہ ڈالتے رہے تو یہ برائیاں کبھی ختم نہیں ہوں گی۔ یہ اس معاشرے کی تلخ حقیقت ہے اور اس سے نظریں نہیں چرانی چاہیں۔‘

انھوں نے سوال کیا کہ ہم اکثر والدین کی آگاہی کی بات کرتے ہیں لیکن جب تک میڈیا کے ذریعے پیغام نہیں جائےگا تو پھرآگاہی کیسے ہوگی؟

ان کا کہنا تھا کہ ناظرین کی جانب سے اس ڈرامے کو بہت سراہا جا رہا ہے اور اس میں پنجاب کا ایک علاقہ دکھایا گیا ہے جبکہ بچوں کے جنسی استحصال کے ساتھ ساتھ دیگر غیر اخلاقی معاشرتی رویوں پر نکتہ چینی کی گئی ہے۔

احتشام الدین نے سوال کیا کہ نیوز چینلز پر چلنے والے کرائم شوز میں جرم کی جو سنسنی خیز ڈرامائی تشکیل کی جاتی ہے اس پر تو پیمرا نے کبھی اعتراض کیوں نہیں کیا؟

ہم ٹی وی کے سینیئر نائب صدر اطہر وقار عظیم نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ معمول کا معاملہ ہے اور اس طرح کے نوٹس ٹی وی چینلز کو آتے رہتے ہیں اور ہم ٹی وی کی انتظامیہ جلد ہی اس کا مناسب جواب بھجوا دے گی۔

اسی بارے میں