جاپانی فنکار کے ہولناک مناظر پر مبنی خوبصورت ٹیٹوز

Image caption جاپانی فنکار گکّن کی خوبی یہ ہے کہ وہ ہولناک مناظر، خوف اور شہوانیت کو بھی جمال بخشتے ہیں

جاپان کے ٹیٹو فنکار گکّن ٹیٹو بناتے ہیں تو اس میں سیاہ چیری کی کلیاں، کوے اور جنگی بد روحوں کے کٹے ہوئے سروں جیسی خوفناک عناصر تک شامل کرنے سے نہیں ڈرتے۔

اور وہ ایسے ہولناک مناظر کو بھی اپنے ٹیٹوز میں خوبصورتی عطا کرتے ہیں۔

Image caption ان کے کام میں سیاہ اور سرخ رنگ کا استعمال زیادہ ہوتا ہے

حقیقت تو یہ ہے کہ وہ انہی خوبیوں کے لیے معروف ہیں جو شہوانیت کو بھی جمال بخشتے ہیں۔

بی بی سی بات چیت میں وہ کہتے ہیں: ’میں مصور نہیں بلکہ ٹیٹو بنانے والا فنکار ہوں۔ آس پاس کی ہر چیز مجھے رغبت دیتی ہے، خاص طور پر قدرت، ہوا، بارش اور جنگلات۔‘

ان کے کام میں سیاہ اور سرخ رنگ کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔

Image caption گکّن کی فری ہینڈ سٹائل بہت زیادہ پسند کی جاتی ہے جو ان کے بقول بال مختلف سٹائل ہے

وہ کہتے ہیں: ’جلد کاغذ تو ہے نہیں اور ٹیٹو بنانے کے لیے سیاہ رنگ سب سے بہتر ہے، بہت سی ثقافتوں جیسے موریسین اور پولینیزیئن لوگ اسے پسند بھی کرتے ہیں۔ سرخ میرا پسندیدہ رنگ ہے اور سیاہ روشنائی کے ساتھ اس کا کنٹراس بھی اچھا ہوتا ہے۔‘

Image caption ٹیٹو بنانے کے لیے عام طور پر استمعال میں آنے والی سٹینسل مشین ان کے پاس نہیں ہے۔ اس کے برعکس وہ جلد پر ڈرائنگ کے لیے بال پین کا استعمال کرتے ہیں

گکّن کی فری ہینڈ سٹائل بہت زیادہ پسند کی جاتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں: ’فری ہینڈ سٹائل میں ٹیٹو بنانا عام طریقے سے ٹیٹو بنانا بالکل الگ ہے۔‘

ٹیٹو بنانے کے لیے عام طور پر استمعال میں آنے والی سٹینسل مشین ان کے پاس نہیں ہے۔ اس کے برعکس وہ جلد پر ڈرائنگ کے لیے بال پین کا استعمال کرتے ہیں۔

انھوں نے بتایا: ’میرے ٹیٹوز کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں اور فری ہینڈ کام کرنے مطلب یہ ہے کہ وہ آپ کے بدن پر ہر زاویے سے خوبصورت لگیں گے۔‘

وہ بڑے سائز کے ٹیٹوز بنانے میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ ’پورے جسم کے لیے، میں نے ایسے کئی بنائے ہیں۔ اور اس کے لیے میرے بعض گراہک چار یا پانچ روز تک مستقل برداشت کرتے ہیں۔‘

اسی بارے میں