’عکس بند‘ دلچسپی اور تجسس سے بھرپور فلم

توقعات کے بالکل برعکس پاکستانی کی پہلی ’فاؤنڈ فوٹیج‘ فلم ’عکس بند‘ دلچسپی اور تفریح سے بھرپور فلم ہے۔

ڈراؤنی فلم ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں مزاح کا مکمل خیال رکھا گیا ہے اور تقریباً 86 منٹ دورانیے کی یہ فلم دیکھنے والے کو کسی بھی لمحے بوریت کا احساس نہیں دلاتی۔

فلم کی کہانی چھ دوستوں کی ہے جو ایک فلم بنانے لاڑکانہ کے جنگل میں جاتے ہیں۔

ان میں سے ایک راحیل (بلال یوسف زئی) تو راستے ہی سے لوٹ جاتا ہے اس طرح پانچ دوست ہی رہ جاتے ہیں۔

جنگل میں فلم کی شوٹنگ کے دوران ان پانچوں دوستوں کے ساتھ کیا کیا ہوتا ہے اسے ان کا کیمرا محفوظ کر لیتا ہے اور پوری فلم اسی فوٹیج پر مبنی ہے۔

فلم میں سوائے بلال یوسف زئی اور ایاز سموں (سنی) کے تمام ہی اداکار نئے تھے۔ بلال اور ایاز اس سے پہلے فلم ’ہلا گُلا‘ اور ’مور‘ میں کام کر چکے ہیں۔

فلم کے ہدایتکار اور مصنف عمران حسین نے پوری فلم میں تجسس کا پہلو نظر انداز نہیں کیا جس سے دیکھنے والے کی دلچسپی برقرار رہی۔

فلم میں ایاز سموں نے سنی کے کردار میں اچھی اداکاری کی ہے جس سے حاضرین کے لبوں پر کبھی مسکراہٹ بکھری تو کہیں قہقہہ چھوٹا۔

شہزین راحت نے سعدیہ کا کردار عمدگی سے ادا کیا۔ شہزین نے نہ گلیمر دکھانے کی کوشش کی نہ ہی کردار سے باہر نکل کر کچھ مزید کرنے کی اور یہی ان کی کامیابی ہے۔

دانیال افضل خان (ایان) نے بھی بڑے پردے پر اپنی موجودگی کا اچھا تاثر چھوڑا جب کہ سعود امتیاز (شہزاد) نے کیمرا مین کا کردار اداکرنے کی وجہ سے کم کم ہی نظر آئے۔

ماہ رخ رضوی (عالیہ) نےاپنی موجودگی سے فلم میں گلیمر کی کمی کو کچھ پورا ضرور کیا مگر ان کے کردار میں کچھ زیادہ کرنے کو تھا ہی نہیں۔

فلم کے پروڈیوسر نوید ارشد کے مطابق اس فلم کی کُل لاگت ایک کروڑ پاکستانی روپے سے بھی کم ہے اور ان کے مطابق انھوں نے ایک تجربہ کیا ہے۔

نوید ارشد کم از کم تکنیکی اعتبار سے اپنے اس تجربے میں کامیاب رہے ہیں مگر دیکھنا یہ ہے کہ یہ فلم باکس آفس پر کتنا کماتی ہے کیونکہ ماضی میں پاکستان میں ڈراؤنی فلموں کا تجربہ زیادہ کامیاب نہیں رہا ہے۔

اسی بارے میں