’موسیقی میں انسانوں کی جگہ مشینوں نے لے لی‘

تصویر کے کاپی رائٹ you tube
Image caption یہ منظر فلم قرض کا ہے

’موسیقی کی دنیا میں انسانوں کی جگہ مشینوں نے لے لی ہے۔‘ یہ بات ایک قسم کے کرب کے ساتھ سنہ 1980 میں آنے والی فلم ’قرض‘ کے مشہور گیت ’ایک حسینہ تھی، ایک دیوانہ تھا‘ کی طرز بنانے والے موسیقار گورکھ شرما کہتے ہیں۔

انڈین فلم انڈسٹری کو بیس گٹار کی سوغات دینے والے گورکھ شرما مشہور موسیقار جوڑی لکشمی کانت پيارےلال کے چھوٹے بھائی ہیں اور ان سے خوشبو دوآ نے بات چیت کی ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ بڑے بھائی کی طرح انھوں نے موسیقی میں قسمت آزمائی کیوں نہیں کی؟

اس کے جواب میں وہ کہتے ہیں، ’میں ان دنوں مینڈولن اور گٹار کی پرفارمنس اور ان کی ریکارڈنگ میں اتنا مصروف رہتا تھا کہ موسیقی کے لیے وقت ہی نہیں مل پاتا تھا۔‘

گورکھ شرما بتاتے ہیں ’12 سال کی عمر سے ہی میں مینڈولن بجانے لگا تھا۔ یہاں تک کہ میں موسیقار اور گلوکار ہردے ناتھ منگیشکر (لتا منگیشکر کے بھائی) کے شوز میں مینڈولن بجاتا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ abhijeet sharma
Image caption تقریبا 70 سال کے گورکھ شرما آج بھی سٹیج شوز کرتے ہیں

محض 14 سال کی عمر میں انھوں نے گرو دت کی فلم ’چودھویں کا چاند‘ میں مینڈولن بجایا تھا۔

گورکھ کہتے ہیں کہ گٹار بجانے کا ہنر میں نے انیبال كیسٹرو سے سیکھا تھا۔

گورکھ شرما نے ابھی تک شنکر جے کشن، لکشمی کانت پيارے لال، آنند جی کلیان جی، پنڈت ہری پرساد چورسیا، روی، نديم شرون، راجیش روشن جیسے بڑے موسیقاروں کی اشاروں میں اپنے گٹار، مینڈولن اور رباب سے جان ڈالی ہے۔

پرانے زمانے کو یاد کرتے ہوئے گورکھ بتاتے ہیں: ’اس وقت انگریزی موسیقاروں کا دبدبہ تھا، لیکن بہت کم لوگ انگریزی میں موسیقی (سٹاف نوٹیشن) پڑھ پاتے تھے، جس کی وجہ سے انھیں کام نہیں مل پاتا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ abhijeet sharma
Image caption گورکھ شرما مشہور موسیقار جوڑی لکشمی کانت - پيارےلال کے چھوٹے بھائی ہیں

وہ کہتے ہیں: ’میں اپنے سٹاف میں ان چند لوگوں میں سے تھا جو نوٹیشن پڑھ لیتے تھے۔ اس کا سہرا میرے والد موسیقار پنڈت رام پرساد شرما عرف ’باباجي‘ کو جاتا ہے۔‘

گورکھ کے مطابق ’اس زمانے میں سارا دن ریکارڈنگ چلتی تھی اور 70 سے 100 موسیقاروں کو ایک ساتھ ایک گانے کی صحیح دھن نکالنی ہوتی تھی۔ کسی ایک سے بھی چوک ہو جاتی تو پھر سے سب کو اسے دوبارہ کرنا ہوتا تھا۔‘

وہ بتاتے ہیں، ’اس وقت ایئر کنڈیشنر تو ہوتے نہیں تھے، تو ہم ایک بند کمرے میں گھنٹوں کی ریکارڈنگ کے بعد فوری طور پر سارے کھڑکی درواذے کھول دیتے یا سب کے سب پنکھے کے سامنے کھڑے ہو جاتے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Abhijeet sharma
Image caption ان کی شادی میں اداکار پران پہنچے تھے

ایک ہزار سے بھی زیادہ سپر ہٹ گانے ان کے اکاؤنٹ میں ہیں، ان میں کشور کمار کی فلم ’مسٹر ایکس ان بامبے‘ کا گیت ’میرے محبوب قیامت ہوگی‘، فلم ’امر اکبر اینتھونی‘ کا ’مائی نیم از اینتھونی گونزالویز‘، اور ’ڈر‘ فلم کا گیت ’جادو تیری نظر‘ وغیرہ شامل ہیں۔

اسی بارے میں