فلم اُڑتا پنجاب پر پابندی کی درخواست مسترد

Image caption فلم ’اڑتا پنجاب‘ سترہ جون کو رلیز ہونی ہے

سپریم کورٹ نے فلم ’اُڑتا پنجاب‘ کی ریلیز کو روکنے کے لیے دائر کی گئی درخواست کو رد دیا ہے۔

ملک کی اعلٰی ترین عدالت نے درخواست گزار کو کہا ہے کہ فلم کی نمائش کو روکنےکے لیے سینسر بورڈ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ میں اپیل کرے۔

’ہیومن رائٹس اویئرنیس ایسوسی ایشن‘نے فلم پر بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

بمبئی ہائی کورٹ نے فلم ’اڑتا پنجاب‘ کو ایک سین سینسر کر کے ریلیز کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ فلم میں کہیں بھی ایسا کچھ نہیں ہے جس سے بھارت کی خود مختاری یا سالمیت پر کوئی سوال اٹھتا ہو۔

سینسر بورڈ کے سربراہ پہلاج نہلانی نے انوراگ کشیپ کی فلم ’اڑتار پنجاب‘ کو سرٹیفکیٹ دینے سے پہلے فلم کے 89 مناظر پر قینچی چلانے کا حکم دیا تھا اس کے بعد کشیپ اور ان کی ٹیم اس معاملے کو عدالت لے گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PHANTOM PICTURES
Image caption شاہد کپور فلم کے ہیرو ہیں

فل’ اُڑتا پنجاب‘ 17 جون کو ریلیز ہونے والی ہے۔

فلم پنجاب میں منشیات کے مسئلے پر بنائی گئی ہے۔

فلم سینسر بورڈ کے کئی فیصلے حالیہ دنوں میں کئی فلموں میں سینسر کے حوالے سے تنازعات کا شکار ہوئے ہیں۔ جن میں کئی فلمیں شامل ہیں۔

نریندر مودی کی قیادت میں جب سال 2014 میں این ڈی اے حکومت اقتدار میں آئی تو پہلاج نہلانی کو سینسر بورڈ کا صدر بنایا گیا تھا اس کے بعد سے ہی نہلانی تنازعات میں گھرے رہے ہیں اور بنجاب میں بی جے کی قیادت والی حکومت ہے ۔

فلم میں شاہد کپور ، عالیہ بھٹ اور کرینہ کپور اہم کردار میں ہیں۔

اسی بارے میں