’میں تو شادی کرنے کے لیے بیقرار ہوں لیکن‘

Image caption سلمان خان اپنے متنازع بیانات کے لیے بھی جانے جاتے ہیں

سلمان خان تمام تنازعات کے درمیان اپنی فلم ’سلطان‘ کے پروموشن میں مصروف ہیں اور مختلف ٹی وی شوز میں نظر آ رہے ہیں اور ویسے بھی آج کل وہ جہاں جاتے ہیں لوگوں کے چہروں پر ان کی شادی کے متعلق سوال خو بخود نظر آنے لگتا ہے۔

بالی وڈ راؤنڈ اپ سننے کے لیے کلک کریں

ایسے ہی ایک ٹی وی شو ’سا رے گا ما پا‘ کے دوران سلمان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں ان کی قسمت اچھی نہیں ہے۔ وہ تو شادی کرنے کے لیے بیقرار ہیں لیکن کوئی لڑکی ہاں ہی نہیں کرتی۔

سلمان آج کل کچھ زیادہ ہی مذاق کے موڈ میں ہیں لیکن کبھی کبھی مذاق بھاری پڑ سکتا ہے۔ اب فلم کی شوٹنگ کے تجربے کو ریپ سے تشبیہ دینے پر پچھلے ہفتے بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا میں کہیں سلمان کو ’بے حس‘ کہہ کر پکارا گیا تو کہیں ’بھائی‘ کے مداح ان کے حق میں دلائل دیتے نظر آئے کہ ان کا ’جملہ غیر ارادی تھا۔‘

بالی وڈ میں سلمان کے حق میں تو بہت لوگ نظر آئے لیکن کھل کر کسی نے ان کی حمایت نہیں کی۔ سلمان کے بےساختہ جملے یا بیانات اکثر انھیں مشکل میں ڈال دیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آئیفا فلم فیسٹیول میں سلمان خان، دیپکا اور سوناکشی سنہا کو دیکھا جا سکتا ہے

اب چاہے ان کے یہ جملے غیر ارادی ہی کیوں نہ ہوں لیکن بعض لوگوں کا یہ خیال بھی درست ہے کہ ایک معروف اور بڑی شخصیت ہونے کے ناطے انھیں زیادہ ذمہ دار ہونا چاہیے۔

سلمان کو اپنی غلطی کا فورا احساس ہوگیا تھا اور جمعرات کو سپین کے شہر میڈرڈ میں آئیفا ایوارڈز سے متعلق ایک پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ وہ جتنا کم بات کریں اتنا ہی اچھا ہے لیکن پھر بھی وہ بولنے سے نہیں چوکے اور اسی دوران وہاں موجود پرینکا چوپڑہ اور دپیکا پادوکون کو ’ہالی وڈ ریٹرن‘ پکارتے ہوئے مذاقاً کہا کہ ’اب یہ دونوں ہالی وڈ میں ہیں اس لیے ہندی فلموں سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔‘

اب دپیکا اور پرینکا نے اس بات کو مذاق میں لیا یا نہیں یہ تو معلوم نہیں ہو سکا ہاں اگر ’دبنگ خان‘ اسی طرح بے باکی کا مظاہرہ کرتے رہے تو کسی دن وہ ضرور کسی بڑی مشکل میں پڑ سکتے ہیں اور یوں بھی ان کی زندگی مشکلات سے پر ہے۔

’بڑے میاں چھوٹے میاں‘ کا ری میک

تصویر کے کاپی رائٹ pr
Image caption امیتابھ بچن اور گوندا کی فلم نے بہتر کمائی کی تھی

فلم ساز واسو بھگنانی کا کہنا ہے کہ وہ امیتابھ بچن اور گوندا کی کامیڈی فلم ’بڑے میاں چھوٹے میاں‘ کا ری میک بنائیں گے اور ان کی کوشش ہوگی کہ اس فلم میں امیتابھ اور گوندا کا کم از کم ایک سین ضرور ہو۔

سنہ 1998 میں بنائی جانے والی ڈیوڈ دھون کی اس فلم میں امیتابھ اور گوندا نے مرکزی کردار نبھائے تھے اور دونوں کا ڈبل رول تھا۔

اس فلم نے تجارتی سطح پر کامیابی حاصل کی تھی لیکن فلم میں بھونڈی کامیڈی اور کمزور سکرپٹ پر خاصی تنقید ہوئی تھی اور فلم ضرورت سے زیادہ لمبی بھی تھی۔

امید ہے کہ واسو ان غلطیوں کو دہرانے کی غلطی نہیں کریں گے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس وقت فلم کا جو انجام ہونا چاہیے تھا وہ واسو بھگنانی کو اس کے ریمیک میں جھیلنا پڑے۔

فلم ’شورغل‘ مشکلات کا شکار

تصویر کے کاپی رائٹ Shorgul
Image caption پہلے یہ فلم 17 جون کو ریلیز ہونے والی تھی

بالی وڈ میں تفریحی فلموں کے ساتھ ساتھ اصل سماجی موضوعات اور واقعات پر بھی فلمیں بنائی جا رہی ہیں جن میں فلم ’اڑتا پنجاب‘ جیسی فلمیں شامل ہیں جسے سنیما گھروں تک لانے کے لیے فلمساز کو عدالت کا دروازہ تک کھٹکھٹانا پڑا۔

اسی طرح فلم ’شورغل‘ ان حقائق پر روشنی ڈالتی ہے جن کے سبب مظفر نگر کے فسادات، گودھرا واقعہ اور بابری مسجد کے انہدام جیسے واقعات پیدا ہوئے۔

فلم میں ملک کے بیورو کریٹس کے کردار، سیاست دانوں کی چالوں اور اعلی عہدوں پر فائز شخصیات کی سازشوں کے حوالے بھی ہیں۔

فلم کے پروڈیوسرز میں سے ایک سوتنتر وجے سنگھ کا کہنا ہے کہ فلم کی ریلیز 24 جون کی بجائے اب یکم جولائی کر دی گئی ہے کیونکہ کئی سینیما مینیجرز نے فلم کے بارے میں خدشات ظاہر کیے ہیں اور یقین دہانیوں کے باوجود کچھ سینیما گھروں نے فلم نہ دکھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS.Shailesh Andrade
Image caption فلم اڑتا پنجاب کو فلم برادری کی جانب سے بہت حمایت حاصل رہی

فلسماز کا کہنا ہے ’یہ فلم انسانیت سے متاثر تخلیقی نمونے میں سے ایک ہے اور اس میں عام آدمی کے لیے ایک پیغام ہے۔‘

اب دیکھتے ہیں کہ اس فلم کے لیے بھی ’اڑتا پنجاب‘ جسی حمایت سامنے آئے گی یا نہیں۔

اس فلم میں جمی شیرگل اور آشوتوش رانا نے اداکاری کی ہے۔

اسی بارے میں