انڈین اداکار مسخرے نہیں: پرینکا

تصویر کے کاپی رائٹ RAINDROP

حال ہی میں انٹرنیشنل انڈین فلم اکیڈمی ایوارڈز میں اگرچہ پرینکا چوپڑہ کو بہترین معاون اداکارہ کا ایوارڈ ملا لیکن انھوں نے مزید کسی انڈین فلم کو سائن نہیں کیا۔

وہ امریکہ میں اپنی پہلی ہالی وڈ فلم ’دا بے واچ ریبوٹ‘ کی عکس بندی میں مصروف ہیں جس میں ڈوین جانسن اور زیک ایفرن بھی ہیں۔

پرینکا سنہ 2000 میں مس ورلڈ بنیں اور اس کے بعد سے اب تک انھوں نے 50 سے زائد انڈین فلموں میں کام کیا ہے۔

انھوں نے یونیورسل میوزک گروپ کے ساتھ گانا بھی ریکارڈ کرایا۔ ان کو اس وقت شہرت ملی جب ان کو ’کوانٹیکو‘ میں اداکاری کا موقع ملا۔

اس تھرلر سیریز کا دوسرا سیزن بھی ہو گا اور پرینکا کو پیپلز چوائس ایوارڈز میں نئی ٹی وی سیریز میں پسندیدہ اداکارہ کا ایوارڈ بھی ملا۔

لیکن اپنی کامیابی کے باوجود پرینکا کا کہنا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہالی وڈ سٹار نہیں سمجھتیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’میں ابھی ابھی آئی ہوں۔ مجھے ادھر آئے ایک سال بھی نہیں ہوا۔ میں ٹائم میگزین کے کوّر پر تو آئی ہوں، پیپلز چوائس ایوارڈز، ٹین چوائس ایوارڈز میں بھی لیکن ابھی بہت لمبا سفر طے کرنا ہے۔‘

’انڈین اداکار مذاق نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

پرینکا کو امید ہے کہ وہ اپنے پروفائل کو استعمال کرتے ہوئے انڈین سینما کی مغرب تک رسائی ممکن بنا سکتی ہیں۔

’ایک دوسری دنیا کو یہ سمجھانا کہ انڈین اداکار مسخرے نہیں ہیں جو کسی بھی وقت ناچ گانے پر لگ جائیں گے بہت مشکل کام تھا۔ میں بہت محنت کر رہی ہوں یہ باور کرانے کے لیے کہ انڈین اداکار مسخرے نہیں ہیں۔‘

امریکہ میں ان کو اس بات کا احساس ہوا کہ شبانہ اعظمی اور امیتابھ بچن کی مہم کتنی درست ہے کہ انڈین سینما کو بالی وڈ نہ کہا جائے۔

’لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم ہالی وڈ کی نقل ہیں جو ہم نہیں ہیں۔ ہمارا شمار دنیا کی مصروف ترین فلمی صنعت میں ہوتا ہے۔ ہم ہندی بولتے ہیں جو ایک ملک ہی میں بولی جاتی ہے لیکن ہمارے کاروبار کا 40 فیصد انڈیا کے باہر سے آتا ہے۔

پرینکا کا کہنا ہے کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ ذہن استعمال ہو، تفریح کا موقع فراہم ہو ورنہ کوئی نہیں دیکھے گا۔ اس زمانے میں انڈین فلمیں پوری دنیا میں بننے والی فلموں کا مقابلہ کر رہی ہیں۔‘

ہالی وڈ فلم ’دا بے واچ ری بوٹ‘ میں پرینکا ایک دشمن کا کردار ادا کر رہی ہیں اور وہ کہتی ہیں کہ ان کو یہ کردار بہت پسند آیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

’پہلے تو یہ کہ میرا کردار وکٹوریہ ایک مرد کے لیے لکھا گیا تھا اور دوسرے یہ کہ یہ کردار بہت ہی اچھا ہے۔‘

فنی اشتراک

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES

دیپیکا پاڈوکون ایک اور بالی وڈ سٹار ہیں جو ہالی وڈ میں پہلی فلم کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ وہ ون ڈیزل کے ہمراہ فلم ’xXx: دی ریٹرن آف زینڈر کیج‘ میں آ رہی ہیں۔

پرینکا چوپڑہ کا کہنا ہے کہ یہ بہت اچھی بات ہے کہ انڈین اداکارائیں بین الاقوامی سطح پر کام کر رہی ہیں۔

’اتنے غیر ملکی انڈیا آتے ہیں اور تمام سٹوڈیوز انڈیا میں ہیں اور وہ فلمیں بنا رہے ہیں جیسے کہ فوکس، وارنر بردرز، ڈزنی وغیرہ۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہم کیا ہیں اور ہمیں اپنا فن دنیا بھر کے ساتھ شیئر کرنے سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔‘

تاہم چند ناقدین کا کہنا ہے کہ ہالی وڈ کا جنوبی ایشیا میں بڑھتا ہوا اثر و رسوخ بالی وڈ کے لیے اچھا نہیں ہو گا۔ حال ہی میں ہالی وڈ نے بالی وڈ کے بڑے اداکاروں کو مشہور فلموں کی ہندی میں ڈبنگ کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ جیسے جنگل بک میں سکارلٹ جوہانسن کی آواز ہے اور ہندی میں پرینکا چوپڑہ کی آواز استعمال کی گئی ہے۔

تاہم پرینکا کا کہنا ہے کہ اشتراک سے فائدہ ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ASEEM CHHABRA

پرینکا کے علاوہ سابق ملکہ حسن ایشوریہ رائے نے 2004 میں برائڈ اینڈ پریجوڈس میں کام کیا اور 2009 میں پنک پینتھر 2 میں کام کیا۔

تاہم ایشوریہ نے فلموں میں سیکس سین اور برہنہ سین کرنے سے انکار کیا جس کے باعث ان کو مشہور فلموں میں نہیں لیا گیا جیسے کہ فلم ٹروئے۔ پرینکا کا فلم کا انتخاب مختلف ہے۔ ’میں ہمیشہ ایک ہی چیز کو دیکھتی ہوں اور وہ ہے سٹوری۔ ایسی سٹوری جس کو میں خود دیکھنا پسند کروں اور ایسا کردار جو مجھے بھائے۔‘

’میں اب ایک ہندی اور ایک انگریزی فلم کروں گی۔‘

اسی بارے میں