’اب چینل بتاتا ہے کن مصنوعات کی توثیق کرنی ہے‘

پاکستان میں گذشتہ چند سالوں سے، ماہِ رمضان میں ٹی وی چینلز پر لائیوگیم شوز پیش کیے جاتے ہیں جو عوام میں خاصے مقبول ہیں۔ ان گیم شوز کی وجہ سے پاکستان میں مصنوعات کی تشہیر کے طریقوں میں فرق آیا ہے جو چینل مالکان اور کمرشل بنانے والی ایجنسیاں، دونوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

یہ گیم شوز ماضی میں ٹی وی سکرینوں پر دکھائے جانے والے گیم شوز سے خاصے مختلف ہیں جہاں ایک آسان سوال کاجواب دے کر یا کھیل کے ذریعے حاضرین کو مہنگے تحائف سے نوازا جاتا ہے۔

عام طور پر، ایسے گیم شوز کو نشر کرنے کے لیےاشتہارات اور سپانسرز بہت اہم ہوتے ہیں لیکن اب اشتہارات پروگرام کا حصہ ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے چھوٹی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ اب بڑی کمپنیاں بھی ٹی کمرشل کے بجائے انھیں ترجیح دے رہی ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق اس سال رمضان کے دوران، مختلف کمپنیوں نےمجموعی طور پر ٹی وی اشتہار کے لیے دو سے ڈھائی ارب روپے لگائے جبکہ چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیاں جو اشتہار بنانے کی استعداد نہیں رکھتیں، انھوں نےاس سال رمضان میں اپنی مصنوعات کی تشہیر پر کروڑوں روپے خرچ کیے۔

نجی ٹی وی جیو کے مارکیٹنگ اینڈ سیلز کے جنرل منیجر محسن درانی کے بقول ’اس رمضان گیم شوز میں تشہیر کے لیے ہر کمپنی نے کم سے کم نو اور زیادہ سے زیادہ اٹھارہ کروڑ روپےخرچ کیے۔ ان میں بڑی کمپنیاں گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں دینے کو ترجیح دیتی ہیں جبکہ بقیہ چیزیں چھوٹی کمپنیوں کی جانب سے آتی ہیں جن کے کوئی کمرشل نہیں ہوتے۔‘

Image caption گیم شو تقریباً دو گھٹے تین گھنٹے چلتا رہتا ہے اور ٹی وی اشتہار چلتے ہیں ایک یا دو منٹ: عمران پٹیل

گیم شوز میں دیے جانے والے تحائف میں کاریں، موٹر بائیکس، جیولری، عمرے کے ریٹرن ٹکٹ یا پھر ہوم اپلائینسز جیسی مہنگی چیزیں شامل ہوتی ہیں جنھیں مختلف کمپنیاں اپنی تشہیر کے عوض سپانسر کرتی ہیں۔

ان شوز میں دو سے تین سو کے قریب لوگ شرکت کرتے ہیں اور تقریباً ہر فرد کوئی نہ کوئی تحفہ لے کر جاتا ہے۔ان تحائف کی مالیت پانچ ہزار سے لے کر لاکھوں روپے تک ہوتی ہے۔ اکثر یہ انعامات مفت بانٹے جاتے ہیں۔

جب یہ تحائف دیے جاتے ہیں تومیزبان کئی بار، سپانسرکمپنی کا نام لیتا ہے جس کی وجہ سے ٹی وی کے پرائم ٹائم، یعنی رات سات سے گیارہ بجے کے دوران اسے اچھی خاصی تشہیر مل جاتی ہے۔

محسن درانی نے بتایا ’عموماً اس دوران تیس سے ساٹھ سیکنڈز کا اشتہار چلانے کے لیے ڈیڑھ سے تین لاکھ روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔‘

Image caption اس رمضان گیم شوز میں تشہیر کے لیے ہر کمپنی نے کم سے کم نو اور زیادہ سے زیادہ اٹھارہ کروڑ روپےخرچ کیے: محسن درانی

ان پروگرامز کو سپانسرکرنے والی کمپنیاں، ٹی وی شو کی مقبولیت کا اندازہ، اس کے جانچنے کے پیمانوں جی آر پیز اور ٹی آر پیز کے ذریعے لگاتی ہیں۔

عمران پٹیل ایک سال قبل ہی مارکیٹ میں منظرِ عام پر آنے والی ایک بائیک کمپنی کے ڈسٹری بیوٹر ہیں۔انھوں نے تشہیر کے لیے ایک ٹی وی کمرشل بنوایا لیکن ان کے خیال میں پچھلے سال ان گیم شوز کی وجہ سے ان کی بِکری میں خاصا اضافہ ہوا۔ اسی لیے اس سال انھوں نےتقریباً تمام نجی چینلز پر چلنے والےگیم شوز میں تشہیر کےعوض کُل 450 بائیکس دی ہیں۔

’گیم شو تقریباً دو گھٹے تین گھنٹے چلتا رہتا ہے اور ٹی وی اشتہار چلتے ہیں ایک یا دو منٹ۔ اس کے علاوہ عام دنوں کی نسبت رمضان میں ٹی وی پرگیم شوز زیادہ دیکھے جاتے ہیں۔ اسی لیے ٹی وی پر اشتہار چلانے سے زیادہ گیم شو سستا پڑتا ہے اور مقبولیت بھی زیادہ ملتی ہے‘۔

ان گیم شوز کی مقبولیت کی وجہ سے بڑے سپانسرز نے بھی کمرشل ایئر ٹائم سے پیسہ نکال کے ان شوز کو دینا شروع کر دیا جس کی وجہ سے چینلز مالکان مشکل میں پڑگئے۔ گیم شو کی مارکیٹنگ سے منسلک افراد بتاتے ہیں کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ایک پالیسی ترتیب دی گئی ہے۔

’کمپنیوں نے کچھ کمرشل ایئر ٹائم کم کرکے لائیو گیم شوز کو دینا شروع کر دیا۔ چینلز نےاعتراض کیا کہ ایسا نہ کیا جائے کیونکہ اس سے انھیں نقصان ہو رہا ہے لیکن اگر کمپنیوں کو منع کردیا جائے کہ وہ گاڑیاں، موٹر سائیکلیں یا کیش نہ دیں تو یہ پروگرام کیسے چلےگا؟ حل یہ نکالا گیا کہ میزبان کو دیا جانے والا ’برینڈ ایمبیسڈر‘ معاوضہ ختم کردیا جائے اور جس کمپنی کا ٹی وی اشتہار موجود ہے وہ پروگرام کے دوران تشہیر کے ساتھ ساتھ کمرشل ایئر ٹائم کی ڈیل بھی کرے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’اس طرح دونوں طرف زیادہ سے زیادہ فائدہ کمپنی کا ہوتا ہے۔ تاہم اب چینل بھی ہم کو بتاتا ہے کہ پروگرام میں کن مصنوعات کی توثیق کرنی ہے۔‘

ماہرین کے مطابق ان گیم شوز سے ملنے والی سستی تشہیر کی وجہ سے، تشہیر کے روایتی طریقوں میں تبدیلی آئی ہے۔

اسی بارے میں