باکس آفس پر سلمان خان چھائے ہوئے

Image caption بالی وڈ میں باکس آفس کی جان سلمان خان کی فلم ’سلطان‘ بدھ کو ریلیز ہوئی, ممبئی کے اندھیری علاقے میں اس کا پہلا شو تھا

صبح کے سوا آٹھ بجے جب سڑکوں پر ٹریفک نہیں ہوتی اور اس وقت سنیما ہال میں ناظرین مل جائیں تو سمجھنا چاہیے کہ کسی سپر سٹار کی فلم ریلیز ہوئی ہے۔

بالی وڈ میں باکس آفس کی جان سلمان خان کی فلم ’سلطان‘ بدھ کو ریلیز ہوئی۔ ممبئی کے اندھیری علاقے میں اس کا پہلا شو تھا۔

پریس کے لیے فلم کا شو 10 بجے کا رکھا گیا تھا جبکہ مداحوں کے لیے ملٹی پلیکس کو صبح سویرے سے ہی کھول دیا گیا اور مداح بھی فلم کے لیے جمع رہے۔

Image caption ہال کے اندر سلمان کی انٹری کے ساتھ ہی سیٹیاں اور تالیاں بجني شروع ہو جاتی ہے

دہلی سے آنے والے 23 سال کے رام نے فلم دیکھنے کے بعد کہا: ’سلمان کے لیے میں دہلی سے ممبئی آ سکتا ہوں تو فرسٹ شو تو چھوٹی سی بات ہے۔‘

ہال کے اندر سلمان کی انٹری کے ساتھ ہی سیٹیاں اور تالیاں بجني شروع ہو جاتی ہے۔

فلم میں سلمان ہریانہ کے نوجوان سلطان کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ سلطان عارفہ (انوشکاشرما) کا پیار پانے کے لیے پہلے پہلوانی سیکھتا ہے اور پھر اولمپکس کا میڈل جیت کر لاتا ہے۔ دونوں کی شادی ہو جاتی ہے لیکن پھر کہانی میں ایسا موڑ آتا ہے جب عارفہ اور سلطان کی محبت میں دراڑ پڑ جاتی ہے اور سلطان کو کشتی بھی چھوڑنی پڑتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فلم کی کہانی میں ایسا موڑ آتا ہے جب عارفہ اور سلطان کی محبت میں دراڑ پڑ جاتی ہے اور سلطان کو کشتی بھی چھوڑنی پڑتی ہے

برسوں تک عارفہ کو منانے کی کوشش میں ناکام رہنے کے بعد سلطان واپس کشتی میں جا کر دوبارہ چیزوں کو بہتر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور اس بار وہ اکھاڑے میں نہیں بلکہ مکس مارشل آرٹس میں جاتا ہے۔ لیکن کیا وہ یہاں کامیابی حاصل کر پاتا ہے؟ کیا عارفہ واپس آتی ہے؟ یہی کہانی ہے جو بہت کچھ فلم کے پرومو سے واضح ہو جاتی ہے۔

لیکن فلم میں ناظرین سب سے زیادہ سلمان خان کی ایک ایک چال پر تالیاں بجاتے ہیں۔

23 سال کی كرپتا کہتی ہیں: ’میں آفس جانے سے پہلے فلم دیکھنے آئی ہوں اور سلمان کی بہت بڑی مداح ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فلم میں سلمان نے ایک ہريانوي کا کردار ادا کیا ہے اور اسی لیے انہوں نے ہریانوی زبان استعمال کی ہے

کیا سلمان کے ’ریپ‘ والے بیان پر انہیں غصہ نہیں آیا۔ اس بارے میں وہ کہتی ہیں: ’میں ان کی بات سے بالکل بھی متفق نہیں تھی اور انھوں نے غلط کہا تھا۔ لیکن وہ بات انہوں نے غلطی سے کہہ دی تھی اور ایک غلطی تو معاف ہوتی ہے نا۔‘

فلم میں سلمان نے ایک ہريانوي کا کردار ادا کیا ہے اور اسی لیے انہوں نے ہریانوی زبان استعمال کی ہے۔ لیکن وہ اس زبان کے ساتھ شاید پوری طرح انصاف نہیں کر پائے ہیں۔

انبالہ سے آنے والے سمرن کہتے ہیں: ’سر تخلیقی آزادی بھی کوئی چیز ہوتی ہے، مجھے معلوم ہے کہ ان کی زبان ٹھیک نہیں تھی لیکن فلم کسی زبان یا بولی پر تو بنی نہیں ہے، فلم اچھی ہے اور یہی کافی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

یہ ماننا پڑے گا کہ گرچہ فلم سے پہلے سلمان کا متنازع بیان آیا ہو لیکن سلمان کے فینس انہیں باکس آفس کا سلطان بنا کر ہی رہیں گے۔

فلم میں کچھ حقائق پر مبنی کمیاں بھی ہیں۔ مثلاً زبان اور کشتی کے داؤ پیچ۔ لیکن سلمان کی اس 2 گھنٹے 50 منٹ کی فلم میں جذبات، ایکشن اور رومانس کا ایسا تڑکا ہے کہ ناظرین کو تفریح کا پورا مزا ملے گا۔

سلمان نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں یہ کہا بھی تھا: ’تین گھنٹے اور 400 روپے دے کر آنے والے ناظرین کو آپ کو انٹرٹین کرنا ہی ہوگا اور وہ میں کرتا ہوں، یہی میرا کام ہے اور اسی میں اچھا ہوں۔‘

اسی بارے میں