میاں کے بغیر ہما کا ہنی مون

ہما مبین تصویر کے کاپی رائٹ Huma Mobin
Image caption شوہر کو ویزا نہ ملنے پر افسردہ منھ لیے ہما مبین

اکیلے چھٹیاں منانے کی اپنی پیچیدگیاں ہیں اور یہ مزید پیچیدہ اس وقت ہو جاتی ہیں جب آپ نے انھیں اصل میں کسی کے ساتھ منانے کا منصوبہ بنایا ہو۔

اور کیا ہو اگر یہ سفر آپ کا ہنی مون ہو، اور کسی مسئلے کی وجہ سے آپ کے شوہر آپ کے ساتھ نہ جا سکتے ہوں، تو نئی شادی شدہ دلھن کیا کرے؟

تو کیوں نہ ہر اس جگہ کی جہاں دلھن نے اپنے شوہر کے ساتھ جانا تھا، ایک تصویر لی جائے اور وہ بھی ایسے جیسے اس نے اپنے شوہر کو بانھوں میں لے رکھا ہو، لیکن ساتھ ساتھ اس کی جدائی میں چہرہ افسردہ بنایا جائے؟

تصویر کے کاپی رائٹ HUMA MOBIN
Image caption ہما مبین نے کہا کہ انھوں نے تصاویر میں اپنی کیفیت کا اظہار کیا ہے

ہما مبین اور ارسلان سیور کی شادی اس سال کے آغاز میں ہوئی تھی۔ انھوں نے اپنے ہنی منی مون پر یونان جانے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن یونان کی باڈر ایجنسی کا کچھ اور ہی منصوبہ تھا۔ انھوں نے ارسلان کو ویزا دینے سے انکار کر دیا۔

لیکن اس سے پہلے انھوں سیر کے پیکج کے لیے پیسے جمع کرا دیے تھے۔ تو پھر ہما اپنے شوہر کے والدین کے ساتھ ارسلان کے بغیر ہی چلی گئی۔

دراصل ان غیر روایتی تصاویر کا خیال ایک سال پہلے ارسلان کو اس وقت آیا تھا جب ان کی منگنی کے فوراً بعد ارسلان کو کام کے سلسلے میں بوداپیسٹ جانا پڑا تھا۔ انھوں نے وہاں سے ناک چڑھا کر اور بانھیں پھیلا کر اپنی ایک تصویر بھیجی تھی جس میں یہ دکھایا تھا کہ وہ ہما کو کتنا یاد کر رہے ہیں۔

ہما نے بی بی سی ورلڈ سروس کے پروگرام آؤٹ سائیڈ سورس کو بتایا کہ ’جب بھی ہم میں سے کوئی اکیلا سفر کرتا ہے، ہم یہ کرتے ہیں۔ ہم دکھا سکتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کو مِس کر رہے ہیں۔‘

یہ تصاویر ارسلان کے والدین نے کھینچیں۔ ہما کا کہنا ہے کہ اس کی اپنی ساس سے اچھی دوستی ہے، اتنی اچھی کہ دونوں رات کے وقت سینٹورینی کے بارز میں اکٹھی جایا کرتی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Huma Mobin
Image caption ہما نے اپنے شوہر کو بہت مس کیا

لیکن ہما کہتی ہیں کہ اس کے باوجود انھوں نے اپنے شوہر کو بہت مس کیا۔ ’وہ پارٹی کی جان ہیں، اور میرے قریبی دوست۔ میں ان کے بغیر نہ جاتی لیکن انھوں نے مجھے جانے پر مجبور کیا۔‘

ان کا کہنا ہے: ’پہلی رات میں اپنی ساس کے کاندھے پر سر رکھ کے بہت روئی۔ انھوں نے مجھے بہت حوصلہ دیا اور کہا کہ میں جتنا ہو سکے اس سفر سے لطف اندوز ہوں۔ لاہور میں ارسلان کا خیال اس کے دوستوں نے رکھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Huma Mobin
Image caption ’جب بھی ہم میں سے کوئی اکیلا سفر کرتا ہے، ہم یہ کرتے ہیں۔ ہم دکھا سکتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کو مس کر رہے ہیں‘

چھٹیاں گزارنے کے لیے آئے ہوئے دوسرے لوگوں کا ان کے متعلق کیا خیال تھا جب وہ کسی تصوراتی شخصیت کے گرد بانھیں ڈال کر تصویر کھنچواتی تھیں؟

’لوگ اپنی اپنی سلفیوں میں اس قدر مشغول ہوتے تھے کہ میں بڑے آرام سے یہ کر لیتی تھی۔‘

ہما کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں۔ اب وہ لاہور میں ارسلان کے ساتھ ہیں اور امید کرتی ہیں کہ اپنی شادی کی پہلی سالگرہ پر وہ دونوں اکٹھے کہیں جا سکیں گے۔

اسی بارے میں