سوال 600 روپے کا

تصویر کے کاپی رائٹ Ali Mohiuddin
Image caption فلم کی رفتار کا اندازہ لگانے کے لیے یہ کافی ہے کہ مرکزی کردار فلم شروع ہونے کے آدھے گھنٹے بعد پہلی بار سکرین پہ جلوہ افروز ہوتے ہیں

پچھلے چند برسوں سے پاکستانی فلم اِنڈسٹری کے احیا کا نعرہ سننے کو مل رہا ہے۔

حقیقت میں پاکستانی فلموں کے احیا میں ابھی کچھ دیر ہے لیکن یہ بات درست ہے کہ پاکستانی سنیما گھروں کو نئی زندگی ضرور ملی ہے اور جہاں تک پاکستانی فلموں کی بات ہے، گذشتہ تین چار برسوں میں اِن کی کہانیوں، عکس بندی، تدوین، پرنٹ، ساؤنڈ کوالٹی اور عمومی طور پر قابلِ دید ہونے میں بہتری ضرور آئی ہے۔

اب فرض کریں پچھلے تین چار سال گزرے ہی نہ ہوتے۔ فرض کریں کہ سوائے پرنٹ اور ساؤنڈ کوالٹی کے، جِن پر کام ویسے بھی پاکستان سے باہر ہی کروایا جاتا ہے، باقی سب چیزیں اُتنی ہی بےتُکی رہتیں جِتنی کہ پہلے ہُوا کرتی تھیں، تو پھر آپ کو ’سوال 700 کروڑ ڈالر کا‘ جیسی فلم ملے گی۔

سچ بات تو یہ ہے کہ مجھے یہ تجزیہ لکھنے میں کچھ دشواری ہو رہی ہے۔ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ ابتدا کہاں سے کی جائے۔ شاید فلم کے دوران ماحول سے کچھ اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ میں یہ فلم کراچی کے سب سے بڑے ملٹی پلیکس میں دیکھنے گیا، جہاں ٹکٹ کے نرخ 600 روپے سے شروع ہوتے ہیں۔

یہاں بھارتی فلم ’سلطان‘ کے دن کے دس شوز سارے ’سولڈ آؤٹ‘ تھے۔ ’سوال 700 کروڑ ڈالر کا‘ کا صرف ایک شو لگا ہوا تھا اور اُس میں بھی بمشکل چالیس پینتالیس لوگ تھے۔ جیسے جیسے فلم چلتی گئی، لوگ اُٹھ اُٹھ کے جاتے گئے۔

فلم کی پیسنگ کا آپ اِس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ فلم کے مرکزی کردار فلم شروع ہونے کے آدھے گھنٹے بعد پہلی مرتبہ سکرین پہ جلوہ افروز ہوتے ہیں۔

اِنٹرول پہ ایک خاتون نے بلند آواز سے اپنے ساتھ آئی ہوئی خواتین کو چلنے کو کہا: ’مجھ سے اب یہ اور برداشت نہیں ہوگا!‘ اُن کا پورا ٹولہ اُٹھ کے چلا گیا۔

میرے پیچھے بیٹھے کسی نوجوان نے آواز لگائی: ’یار کوئی اور فلم لگا دو، پیسے ہی وصول ہو جائیں!‘ میرے آگے بیٹھے چھ لڑکے اپنے ایک دوست کو بُرا بھلا کہتے رہے کہ اِس فلم کے ٹکٹ کیوں لیے۔ وہ جواب میں صرف یہ کہتا رہا کہ ’سلطان‘ کے ٹکٹ نہیں ملے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ali Mohiuddin
Image caption فلم میں جاوید شیخ ٹائیگر نامی منجھے ہوئے چور کا کردار ادا کر رہے ہیں

سچ بات تو یہ ہے کہ اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ آدھی فلم دیکھ کر تجزیہ لکھنا غیراخلاقی کام ہے تو میں بھی اِنٹرول میں اُٹھ جاتا اور اپنا وقت بچاتا۔

فلم کے ہدایت کار جمشید جان محمد ہیں جن کی یہ پہلی فلم ہے۔ وہ مرحوم ڈائریکٹر جان محمد کے بیٹے ہیں جو ’ہانگ کانگ کے شعلے،‘ ’منیلا کی بجلیاں،‘ ’بینکاک کے چور،‘ اور ’اِنٹرنیشنل گوریلے‘ جیسی فلموں سے پاکستان اور پاکستان سے باہر معروف ہیں۔

مزے کی بات یہ ہے کہ جمشید جان محمد نے اپنی طرف سے ایک بہت ہی نرالی ’ہائسٹ‘ فلم بنانے کی کوشش کی ہے۔ (ہائسٹ فلم اُن فلموں کو کہا جاتا ہے جن کا دارومدار کوئی پیچیدہ چوری ہوتی ہے اور اُس کی منصوبہ بندی، طریقۂ کار اور اُس کا نتیجہ ہی فلم کا موضوع ہوتے ہیں)۔

بیشتر فلم تھائی لینڈ کے شہر بینکاک اور سری لنکا میں شوٹ کی گئی ہے اور وِژوئل ایفیکٹس کا استعمال کثرت سے کیا گیا ہے۔ مسئلہ مگر یہ ہے کہ کہانی زیادہ قابلِ فہم نہیں ہے اور ہدایت کاری بھی برائے نام ہی ہے۔ سارا زور وِژوئل ایفیکٹس پر ہی رہتا ہے۔

سونے پر سہاگہ یہ کہ ’ہائسٹ فلم‘ کا جو اصل مزہ ہوتا ہے، یعنی کسی پیچیدہ چوری کا طریقۂ کار دیکھنا، وہ سراسر ناپید ہے۔ جہاں کوئی مشکل درپیش ہوتی ہے، ڈائریکٹر صاحب اس کو باآسانی دکھائے بغیر حل کروا لیتے ہیں ۔ جب کہانی میں ٹوئسٹ بھی آتا ہے تو اُس کا نہ سر ہوتا ہے نہ پیر۔ یہ فلم بینوں کے ساتھ صرف اور صرف دھوکہ ہوتا ہے۔

کہانی کچھ یوں ہے: دو بڑے منجھے ہوئے چوروں کا شروع میں تعارف کرایا جاتا ہے۔ ایک صاحب کا نام ٹائیگر (جاوید شیخ) ہے، دوسرے کا نام کمانڈر بتایا جاتا ہے۔ ایک اِنتہائی اہم کمپیوٹر چِپ کی چوری کے دوران کمانڈر پکڑا جاتا ہے۔ اس کو جیل کی سزا ہو جاتی ہے لیکن جیل منتقلی کے دوران جیل کی وین دریا میں جا گرتی ہے اور پولیس کے مطابق وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔

ٹائیگر کے پیچھے ’سپر ولن‘ رِنگو (غلام محی الدین) پڑا ہوا ہے، جس کے لیے اُس نے وہ چِپ چرانی تھی اور اب اس ناکامی کا ازالہ کرنے کے لیے وہ اِنڈیا کے ایک سمگلر راجہ (نیّر اعجاز) کا قیمتی ہیرا اور 700 کروڑ ڈالر چرانے کا منصوبہ بناتا ہے۔ راجہ صاحب نے بھی اپنی یہ غیر قانونی دولت بینکاک کے قریب ایک جزیرے میں چھپا کر رکھی ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption علی محی الدین نے اس فلم سے اپنے فلمی کریئر کا آغاز کیا ہے

لیکن ٹائیگر کو ایک ساتھی درکار ہے، جس کے لیے وہ ایک اور ’سُپر چور‘ راکی (غلام محی الدین کے بیٹے علی محی الدین) کی مدد لیتا ہے۔

دریں اثنا ایک سُپر کاپ‘ خان (شمون عباسی) اپنے چرسی ڈرائیور چِلی (اسماعیل تارا) کے ساتھ اُن کے تعاقب میں ہے۔ خان ایک نہایت ہی ایماندار پولیس افسر سمجھا جاتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ پیسوں کا لالچی بھی ہے اور بدمعاشوں کے پیسے چرانا اُس سے بعید نہیں ہے۔

وہ یہ پیسے ہُنڈی کے ذریعے پاکستان بھیجتا ہے کیونکہ اُسے’اپنے ملک کی ترقّی کا بہت خیال ہے۔‘ دوسری طرف راکی کو ڈانس سکول چلانے والی سیما (قرۃ العین) سے عشق ہو جاتا ہے۔ ۔ ۔ جی، یہ کہانی اتنی ہی بے ہنگم ہے جتنی آپ کو یہ سطریں پڑھ کر محسوس ہو رہی ہو گی۔

فلم میں ایکشن، گانوں اور کامیڈی کی بارہ مسالا چاٹ ڈالی گئی ہے، لیکن نہ تو اس کا کوئی گانا خاص متاثر کرتا ہے، نہ ہی اس کی زبردستی ٹھونسی گئی کامیڈی ذرا سی بھی مسکراہٹ لبوں پہ لاتی ہے اور لگتا ہے ایکشن زیادہ تر سٹاک فوٹیج سے لیا گیا ہے یا بی ٹیم نے اداکاروں کی غیرموجودگی میں فلمایا ہے۔

اداکاری کا معیار بھی کافی کمزور ہے۔ جاوید شیخ تھوڑی بہت نیچرل ڈلیوری کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہدایت کاری کی کمزوری کی وجہ سے یہ بھی ضائع ہی ہوتی ہے۔ علی محی الدین اور قرۃ العین اتنے ہی متاثرکُن رہتے ہیں جتنے وہ درخت جِن کے درمیان وہ گانے گاتے ہیں ۔

فلم نے باکس آفس پر بھی کوئی خاص کارنامہ نہیں دکھایا۔ یقیناً فلمساز اس کا ذمہ دار ’سلطان‘ کو ٹھہرائیں گے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ عید اور ’سلطان‘ کے رش کی بغیر اِس خوامخواہی لمبی فلم نے اِتنا بھی نہیں کمانا تھا۔

اِس کے برعکس لگتا ہے فلم بنانے والوں نے کم از کم بینکاک کو خوب ’اینجوائے‘ کیا۔

لیکن اب یہ بات نئے پاکستانی فلمسازوں کو سمجھ لینی چاہیے کہ یہ 1980 کی دہائی نہیں ہے۔ بینکاک کے شعلے اب فلم بینوں میں آگ نہیں لگاتے۔

اسی بارے میں