معروف گلوکارہ مبارک بیگم انتقال کر گئیں

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مبارک بیگم کو معروف موسیقار نوشاد علی نے سنہ 1949 میں فلمی دنیا میں متعارف کرایا تھا

انڈیا کی معروف گلوکارہ مبارک بیگم کا ممبئی میں طویل علالت کے بعد 80 سال کی عمر میں پیر کی شب انتقال ہو گیا۔

ان کی موت کے بعد نور جہاں، ثریا اور شمشاد بیگم کی طرز کی گلوکارہ کا عہد زریں ختم ہو گيا۔

ان کے اہل خانہ نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ ’مبارک بیگم اب ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔ رات ساڑھے نو بجے ان کا جوگیشوری میں اپنے گھر پر انتقال ہو گيا۔ وہ ایک عرصے سے علیل تھیں۔‘

مبارک بیگم نے سنہ 1950 سے لے کر سنہ 1970 کی دہائیوں کے درمیان ہندی فلموں کے لیے ایک سو سے زیادہ گیت گائے۔

ان کے سدا بہار گیت ’کبھی تنہائیوں میں ہماری یاد آئے گي‘ اور ’مجھکو اپنے گلے لگا لو‘ بے حد مقبول ہوئے۔

Image caption مبارک بيگم نے سو سے زیادہ گیت گائے

انھوں نے بارہا انٹرویوز کے دوران کہا تھا کہ اس گیت کو پہلے بیک گراؤنڈ میں رکھا گیا تھا لیکن گیت کی بے پناہ مقبولیت کے بعد اسے فلم میں اداکارہ پر فلمایا گیا۔

ایک بار ایک انٹرویو میں انھوں نے اپنے پسندیدہ نغموں کا ذکر کیا تھا جس میں طلعت محمود کے گیت ’اے مرے دل کہیں اور چل‘ کا ذکر کیا تھا۔

پسند کی وجہ دریافت کی گئی تو انھوں نے کہا ’اس گیت کو دلیپ کمار کے اوپر فلمایا گيا اور ایسا لگتا ہے کہ وہی گا رہے ہیں۔‘

مبارک بیگم نے دلیپ کمار کی دو فلموں ’دیوداس‘ اور ’مدھومتی‘ میں آواز دی ہے۔ دیو داس میں ان کا گیت ’وہ نہ آئیں گے پلٹ کر‘ گایا ہے جبکہ مدھومتی میں ’ہم حال دل سنائیں گے‘ کو آواز دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ sanjay mishra
Image caption وہ ایک عرصے سے علیل تھیں

اس کے علاوہ انھوں نے اپنے پسندیدہ گیت کے طور پر محمد رفیع کے گیت ’کارواں گزر گیا غبار دیکھتے رہے‘ اور لتا منگیشکر کے گیت ’اے میرے وطن کے لوگو‘ کا ذکر کیا تھا۔

انھوں نے محمد رفیع کے ساتھ ’مجھکو اپنے گلے لگا لو اے میرے ہمراہی‘ گیت کو آواز دی ہے۔

مبارک بیگم کو معروف موسیقار نوشاد علی نے سنہ 1949 میں فلمی دنیا میں متعارف کرایا تھا۔ اس وقت ان کی عمر صرف 13 سال تھی اور انھوں نے ’آئیے‘ فلم کے لیے ’موہے آنے لگی انگڑائی آ جا آ جا‘ گیت گایا تھا۔

وہ نورجہاں، ثریا اور شمشاد بیگم کے طرز کی گلوکارہ تھیں اور لتا منگیشکر، آشابھونسلے اور ديگر صف اول کی گلوکارہ کے سامنے موسیقاروں اور فلم سازوں کی دوسری پسند رہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Devdas
Image caption معروف فلموں میں دیوداس اور مدھومتی شامل ہیں

وہ راجستھان میں پیدا ہوئیں لیکن ان کی پرورش ریاست گجرات میں ہوئی اور پھر وہ ممبئی منتقل ہو گئیں جہاں تا دم حیات رہیں۔

ان کا تعلق کلاسیکی موسیقی کے کیرانا گھرانے سے تھا جہاں انھوں نے استاد ریاض الدین اور استاد صمد خان سے تربیت حاصل کی۔

ان کے معروف گیتوں میں ’نیند اڑجائے تری چین سے سونے والے‘، ’وعدہ ہم سے کیا دل کسی کو دیا‘، ’اے دل بتا ہم کہاں آ گئے‘، ’کچھ اجنبی سے آپ ہیں‘، وغیرہ شامل ہیں۔

اسی بارے میں