رجنی کانت،’کبالی‘ اور مداحوں کا جنون

تصویر کے کاپی رائٹ Sanjay Mishra
Image caption سنیما میں ان کی فلم کے آعاز سے گھنٹوں قبل ہی ان کی مداح چلانا شروع کر دیتے ہیں

انڈین فلم سپرسٹار رجنی کانت کو ملک بھر خصوصاً جنوبی انڈیا میں ایسی پذیرائی حاصل ہے جس کے بارے میں ہالی وڈ کے بھی کئی اداکار محض خواب ہی دیکھ سکتے ہیں۔

حال ہی میں ان کی نئی فلم ’کبالی‘ ریلیز ہوئی ہے اور جہاں انڈیا بھر میں لاکھوں مداح جوق در جوق سنیما گھروں کی طرف ان کی فلم دیکھنے جا رہے ہیں وہیں یہی حال دنیا بھر میں ان کے شائقین کا بھی ہے۔

٭ رجنی کانت کے مداحوں کے لیے ’کبالی بونس‘

تمل ناڈو میں کئی کمپنیوں نے پہلے ہی اپنے ملازمین کو چھٹی دے دی تاکہ کوئی بیماری کا بہانہ نہ کرے، ایک طیارے کو فلم کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے پینٹ کیا گیا جبکہ انڈیا میں ٹوئٹر کئی بار کریش ہوا۔

فلم اپنی ریلیز سے قبل ہی مالکانہ حقوق کی مد میں تین کروڑ ڈالر کما چکی ہے۔

گذشتہ جمعے سے یہ فلم انڈیا میں 12000 سکرینز پر دکھائی جا رہی ہے۔ اس کی کامیابی کے لیے ’بلاک بسٹر‘ کی اصطلاح بھی بہت چھوٹی پڑ گئی ہے۔

رجنی کانت زیادہ تر تمل فلموں میں کام کرتے ہیں اور وہ ایشیا کے مہنگے ترین اداکاروں میں شامل ہیں اور ایسا ان کے مداحوں کی وجہ سے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption فلم اپنی ریلیز سے قبل ہی مالکانہ حقوق کی مد میں تین کروڑ ڈالر کما چکی تھی

سنیما میں ان کی فلم کے آغاز سے گھنٹوں قبل ہی ان کی مداح چلّانا شروع کر دیتے ہیں اور ان کی فلم کی کامیابی کے لیے دعائیں کروائی جاتی ہیں۔

رجنی کانت کی فلم دیکھنا از خود ایک دلچسپ تجربہ ہے۔ وہ اپنی پستول سے سگریٹ جلاتے ہیں، آنکھ بند کر کے اپنی جانب پھینکے گئے دستی بم پکڑ لیتے ہیں، بلندی سے کُود جاتے ہیں اور کمرے میں موجود ڈھیروں غنڈوں کو لمحوں میں مار گراتے ہیں۔

وہ جب جب سکرین پر آتے ہیں لوگ شور مچاتے، تالیاں بجاتے اور سیٹیاں بجاتے ہیں۔

سکرین کے علاوہ بھی ان کا اس قدر احترام کیا جاتا ہے کہ ان کی بیماری سے متعلق کسی بھی اطلاع کو بھی انتہائی سنجیدہ لیا جاتا ہے۔

ایک مرتبہ تمل ناڈو میں ان کے ایک مداح نے نیند کی گولیاں کھا لیں اور بعد میں اس نے اپنے گھر والوں اور ڈاکٹرز کو بتایا کہ وہ اپنی زندگی کا خاتمہ کر کے اپنے گردے اداکار کو عطیہ کرنا چاہتے تھے۔

Image caption ایک مداح نے اس فلم کے لگاتار دس شو دیکھے ہیں

٭ فلم کابلی ہے کس بارے میں ؟؟

کابلی فلم دراصل ایک غنڈے کے بدلے کی کہانی ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق اس فلم کی تشہیری جھلک ایشیا میں سب سے زیادہ مرتبہ دیکھی جانے والی تشہیری فلم ہے۔

یہ فلم متعدد ممالک میں ریلیز کی گئی ہے جن میں ملائیشیا، انڈونیشیا، سری لنکا، امریکہ، فرانس اور جاپان شامل ہیں جہاں اس کے ٹکٹ ہاتھوں ہاتھ بک گئے۔

فلم کبالی کے لیے رجنی کانت کے مداحوں نے بہت کچھ کیا ہے۔ ایک مداح نے تو اس فلم کے لگاتار دس شو دیکھے ہیں۔

خود کو رجنی کانت کا سپر فین قرار دینے والی چنئی کے سِری نواسن جیاسیلن کا کہنا ہے کہ وہ 22 اور 23 جولائی کو مکمل طور پر سنیما کے اندر رہنا چاہتے تھے تاکہ وہ’ کبالی‘ کو دس مرتبہ دیکھ سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ فلم متعدد ممالک میں ریلیز کی گئی ہے جن میں ملائیشیا، انڈونیشیا، سری لنکا، امریکہ، فرانس اور جاپان شامل ہیں

لوگ اپنی گاڑیوں پر بھی کبالی کی تصاویر پینٹ کروا رہے ہیں۔ جنوبی انڈیا میں سپورٹس کاروں، بسوں حتیٰ کہ رکشوں پر بھی کبالی کی تصاویر پینٹ کی جا رہی ہیں۔

ایک کار ڈیلر تو تامل ناڈو میں بالکل نئی گاڑیوں پر بھی فلم کے مناظر پینٹ کر رہے ہیں انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ گاڑیاں فوری طور پر فروخت بھی ہو رہی ہیں۔

ایک خبر کے مطابق ملائیشیا میں ایک مداح نے اپنی لیمبروگینی پر بھی کبالی فلم کے پوسٹر کا لبادہ چڑھا دیا حتٰی کہ ایک جیٹ طیارے پر بھی کبالی کے مناظر پینٹ کر دیے گئے۔

ایک فضائی کمپنی ائیر ایشیا نے رجنی کانت کے مداحوں کے لیے بنگلور سے چنئی تک ایک خصوصی کبالی پرواز رکھی جس میں فلم سٹار کا پسندیدہ کھانا پیش کیا گیا۔

اس پرواز میں رجنی کانت کے 180 مداحوں نے فلم دیکھنے کے لیے سفر کیا۔ مداحوں نے 7860 روپے ادا کیے جس میں وہ بنگلور سے چنئی گئے، فلم کے پہلے دن کا پہلا شو دیکھا اور دوپہر بعد واپس گھر لوٹ آئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ملائیشیا میں ایک مداح نے اپنی لیمبروگینی پر بھی کبالی فلم کے پوسٹر کا لبادہ چڑھا دیا

٭گذشتہ جمعے کو جنوبی انڈیا میں تعطیل کی گئی

چنئی اور بنگلور میں بعض کمپنیوں نے جمعے کو چھٹی کا اعلان کیا اور اپنے ملازمین کو فلم کے مفت ٹکٹس دیے۔

کمپنیوں کا کہنا ہے کہ یہ سب اس لیے کیا گیا کہ ملازمین بیماری کا بہانہ کر کے چھٹی نہ کریں اور فون بند نہ کر دیں۔

ایک کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے یہ فیصلہ بڑی تعداد میں چھٹی کی دراخوستوں کو دیکھتے ہوئے کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sushant S Mohan
Image caption چنئی اور بنگلور میں بعض کمپنیوں نے جمعے کو چھٹی کا اعلان کیا اور اپنے ملازمین کو فلم کے مفت ٹکٹس دیے۔

٭ فلم دیکھنے کے لیے دوسرے ملک سفر

جاپان سے مداحوں کے ایک گروہ نے چنئی کا سفر کیا تاکہ فلم کا پہلا شو دیکھ سکیں۔

کبالی کی ٹی شرٹس پہنے ہوئے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے یہ لوگ سنیما کے باہر قطار میں لگے ہیں۔

سنہ 1999 میں جریدے نیوز ویک نے جاپان میں رجنی کانت کی مقبولیت کا موازنہ لیونارڈو ڈیکیپریو سے کیا تھا۔

اسی بارے میں