پان:’خداداد خوبیوں کا مالک سادہ سا پتہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پان ہماری تہذیب سے اس قدر جڑا ہے کہ ہر خاص و عام اس کا دلدادہ ہے

خدا کی دی ہوئی یہ نعمت واقعی جادو کا پٹارا ہے۔ پان کا یہ سادہ سا پتہ خداداد خوبیوں کا مالک ہے اور نہ صرف ہندوستانی تہذیب کا اہم حصہ ہے بلکہ ہماری اجتماعی ثقافتی و مذہبی زندگی پر بھی اثرانداز ہے۔

ایک طرف گھر آئے مہمان کو پیش کرنا مہمان نوازی کی علامت ہے تو دوسری طرف شوہر اور بیوی کے تعلقات کی کڑی- جس دن شوہرِ نامدار نے بیوی کے ہاتھ سے پان کی گلوری نہیں لی سمجھیں تعلقات کی کشیدگی کا آغاز ہے۔

٭لکھنؤ: نوابوں کی سرزمین کے ذائقے

٭ ’بارے آموں کا کچھ بیاں ہو جائے‘

٭ اسلامی دسترخوان کا ارتقا

٭ مغل دسترخوان نفاست اور غذائیت کا امتزاج

٭ دلّی کے نہ تھے کُوچے، اوراقِ مصوّر تھے

مہمانوں کو پان کا بیڑہ دے کر منگنی کی رسم پوری کرنا راجستھان کی پرانی روایات میں شامل ہے۔

فلمی دنیا کو بھی پان کی رومانیت اور خوبیوں سے انکار نہیں۔ امیتابھ بچن کا گانا ’کھئی کے پان بنارس والا‘ اس کی بہترین مثال ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پرانے وقتوں میں پان بنانے کا پیشہ تنبولن کرتی تھی پھر آہستہ آہستہ سڑکوں پر پان کی دکانیں کھلنے لگیں۔ لوگ تنبول کا لفظ ہی بھول گئے بس پان اور پان والا یاد رہ گیا

الغرض پان ہماری تہذیب سے اس قدر جڑا ہے کہ ہر خاص و عام اس کا دلدادہ ہے۔ مذہبی روایات میں بھی پان کا بہت دخل ہے۔ اورچھا کے رام مندر میں پان بطور تبرک دیا جاتا ہے تو جنوبی ہندوستان کے ایک مندر میں بھگوان کی مورتی کے ماتھے پر لگا مکھن پان کے پتے میں ہی لپیٹ کر زائرین کو ملتا ہے۔

کچھ دلچسپ عقائد بھی پان سے جڑے ہیں۔ بہار میں دولہا دلہن کے ایک ہونے کی علامت کے طور پر وہ اپنے خون کا قطرہ پان پر ٹپکا کر ایک دوسرے کو دیتے ہیں گویا جب ایک دوسرے کا خون آپس میں مل گیا تو بس ایک ہوگئے۔

ہندوستان آنے والے غیر ملکی سیاحوں نے بھی پان کا ذکر بہت دلچسپی سے کیا ہے۔

البیرونی اپنی کتاب ’کتاب الہند‘ میں لکھتے ہیں کہ ’ہندوستانیوں کے دانت سرخ ہوتے ہیں۔‘ امیر خسرو نے کہا کہ پان منہ کو خوشبودار بناتا ہے۔ چینی سیاح آئی چنگ نے پان کو ہاضم قرار دیا۔

عبدالرزاق جو کالی کٹ کے بادشاہ زمورن کے دربار میں سمرقند سے سفیر بن کر آئے تھے، پان کی خوبیوں کو سراہتے دکھائی دیے۔ کہتے ہیں کہ ’پان کھانے سے چہرہ چمک اٹھتا ہے۔ دانت مضبوط اور سانس کی بدبو دور ہو جاتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پان اکیلا نہیں کھایا جاتا اس کے اور بھی ساتھی ہیں جن کے بنا وہ ادھورا ہے

اگر پان کے طبی فوائد پر نظر ڈالیں تو عقل دنگ رہ جائے گی۔ یہ نہ صرف ہاضم ہے بلکہ پیٹ کی بیماریوں کو رفع کرتا ہے اور بدن پر لگے زخموں کا مرہم بھی ہے۔

گو پان جنوبی ہند کی دین ہے لیکن شمالی حصہ بھی اس کے اثر سے خالی نہیں۔ لکھنؤ میں شادی کے وقت لڑکی کے پاندان کا خرچ اور پاندان اٹھانے والی خادمہ کا خرچ بھی جہیز کا حصہ ہوتا ہے۔

پان پیش کرنے کے طریقے بھی جداگانہ ہیں۔ مہاراشٹر میں اسے تکونی شکل میں لپیٹا جاتا ہے، لکھنؤ میں گلوری بنا کر خاصدان میں لگایا جاتا ہے تو کلکتہ میں بیڑہ بنتا ہے۔

مغلیہ سلطنت کا ہر بادشاہ پان کے لطف کا قائل تھا اور بادشاہ کے پان کا بیڑہ اٹھاتے ہی ہر ضیافت اپنے اختتام کو پہنچتی تھی۔

پان کے پتے کی خاطر بیان سے باہر ہے۔ ہر پتہ کیوڑے اور عرقِ گلاب سے ملا جاتا تھا۔ 11 پتوں کے پان کا ایک شاہی بیڑہ ہوتا تھا۔ چھالیہ صندل کے پانی میں ابالی جاتی تھی اور چونا زعفران کی خوشبو سے مہک اٹھتا تھا۔

پان کے پتے مختلف اقسام کے ہوتے ہیں جن میں بنگلا، بنارسی، مگھئی، دیسی، امباری اور کپوری کا استعمال عام ہے۔

پان اکیلا نہیں کھایا جاتا۔ اس کے اور بھی ساتھی ہیں جن کے بنا وہ ادھورا ہے جیسے چھالیہ، چونا، کتھا، الائچی، لونگ، زردہ، سونف اور گل قند۔

تصویر کے کاپی رائٹ Shweta Pandey
Image caption پان میٹھا ہو تو گل قند اور سادہ ہو تو صرف الائچی کے دانے۔ غرض اس کے بنانے میں اور ان اجزا کو ملانے میں پان بنانے والے کا سلیقہ اور تجربہ شاملِ کار ہے

پان میٹھا ہو تو گل قند اور سادہ ہو تو صرف الائچی کے دانے۔ غرض اس کے بنانے میں اور ان اجزا کو ملانے میں پان بنانے والے کا سلیقہ اور تجربہ شاملِ کار ہے۔ چونا زیادہ ہو تو زبان زخمی اور کتھا زیادہ ہو تو منہ کڑوا۔

ہندو روایات کے مطابق پان دیوی دیوتاؤں کا مسکن ہے۔ اساطیر کے مطابق پان کے ڈنٹھل میں دیوتا پاما رہتا ہے اس لیے پان بناتے ہوئے ڈنٹھل توڑ دیا جاتا ہے۔

پان نے ایک بڑی صنعت کو مروج کیا ہے۔ مختلف مہنگی، سستی دھاتوں سے بنے پاندان، خاصدان، پیک دان، ان پر چڑھانے والے ریشمی غلاف، چونے اور کتھے کی خوبصورت چھوٹی چھوٹی ڈبیائیں اور چمچے، چھالیہ کترنے کے لیے مختلف شکل کے سروتے، پان کوٹنے کے لیے ہاون دستہ، پان رکھنے کے جیبی بٹوے، پان پیش کرنے کی خوبصورت طشتریاں غرض پان سے جڑی یہ صنائع بہت سے لوگوں کے لیے آمدنی کا ذریعہ بنے اور یہ صنعت آج بھی مروج ہے۔

پرانے وقتوں میں پان بنانے کا پیشہ تنبولن کرتی تھی پھر آہستہ آہستہ سڑکوں پر پان کی دکانیں کھلنے لگیں۔ لوگ تنبول کا لفظ ہی بھول گئے بس پان اور پان والا یاد رہ گیا۔

٭ (سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں جس کی یہ چھٹی کڑی ہے۔)

اسی بارے میں