چھوٹی سی دکان مگر لاجواب پکوان

تصویر کے کاپی رائٹ Kishan Rao
Image caption لوگوں کو خاص فرائی مچھلی سے لطف اندوز ہونے کے لیے ریستوران کے باہر اکثر اوقات کافی انتظار کرنا پڑتا ہے

آپ کو ایک کامیاب ریستوران چلانے کے لیے کیا کرنے کی ضرورت ہے؟

اچھے باورچیوں کے علاوہ بہت سارے ریستوران آپ کو بتاتے ہیں کہ اس کے لیے آپ کے مینیو میں مزیدار پکوان شامل ہونا لازمی ہے۔

یہ ایک اچھا فارمولا لگتا ہے لیکن ہر کوئی اس سے متفق دکھائی نہیں دیتا۔

کچھ انڈین ریستوران اپنی خاص ڈش پر انحصار کرتے ہیں اور یہ کھانوں کے شوقین افراد میں بے حد مقبول ہو جاتی ہے۔

بی بی سی کے ویکاس پانڈے نے انڈیا کے ایسے پانچ ریستورانوں کا پروفائل تیار کیا ہے۔

گری منجس منگلور

گری منجس نے انڈیا کے جنوبی ساحلی شہر مینگلور میں ایک چھوٹا ریستوران قائم کیا اور یہاں کم گنجائش کی وجہ سے لوگوں کو خاص فرائی مچھلی سے لطف اندوز ہونے کے لیے ریستوران کے باہر اکثر اوقات کافی انتظار کرنا پڑتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Kishan Rao

ریستوران میں ایک وقت میں صرف 25 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے اور گری منجس دن میں صرف 200 سے 300 افراد کے لیے مچھلی تیار کرتے ہیں اور یہ دن 11 بجے سے رات نو بجے تک کھلا رہتا ہے۔

ریستوران کی مالک نندنی ایم پائی نے کہا کہ ان کی ڈش کی مقبولیت کا راز تازگی اور پیار ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ تازہ مچھلی اور مصالحے استعمال کرتے ہیں اور ’ہمارے پاس اب بھی وہ باورچی ہیں جنھوں نے آج سے 40 برس پہلے ہمارے ساتھ اس سفر کا آغاز کیا تھا اور اس کے ساتھ ہم اپنی ڈش کو بہت زیادہ پیار کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ان کا اپنے مقبول ریستوران کی مزید شاخیں کھولنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے کیونکہ مینگلور ایک ننھی سے جگہ ہے اور ہم اس سے خوش ہیں۔

عالمگیر، لکھنو

تصویر کے کاپی رائٹ Ankit Srinivas
Image caption بند گوشت جس کے ذائقے سے منہ میں پانی بھر آئے

لکھنو کے قدیم علاقے کی چھوٹی گلیوں میں عالمگیر ریستوران کو تلاش کرنا کسی خزانے کی تلاش سے کم نہیں ہے۔

لیکن یہ مشکل کام بند گوشت کا مستحق ہے جس کے ذائقے سے منہ میں پانی بھر آئے۔

عالمگیر ریستوران کے 30 سالہ مالک مجید احمد نے دعویٰ کیا کہ ان کے والد رشید احمد نے 1963 میں اس مشہور ڈش کو ایجاد کیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ اس پکوان کا نام بند گوشت اس وجہ سے ہے کیونکہ اس میں گوشت اور مصالوں، جڑی بوٹیوں کو یکجا کر کے ایک برتن میں بند کر کے ہلکی آنچ پر کئی گھنٹوں تک پکایا جاتا ہے۔

تاہم مجید احمد نے بند گوشت کی ترکیب بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت احتیاط سے سنبھال کر رکھا جانے والا راز ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ راز ان کے خاندان کے پاس ہی ہے اور انھوں نے دس برس کی عمر میں اپنے والد سے اس پکوان کو تیار کرنا سیکھا تھا۔

ملاری ڈوسا

تصویر کے کاپی رائٹ Anurag Basavaraj

خوش ذائقہ پین کیک ڈوسا جنوبی انڈیا کا مقبول پکوان ہے اور زیادہ تر ریستوران میں دستیاب ہوتا ہے لیکن اگر خطے میں آپ کو سب سے بہترین ڈوسا کھانا ہے تو اس کے لیے آپ کو میسور جانا ہوگا۔

میسور کے ایک چھوٹے سے ریستوران میں تقریباً 80 برس پہلے ایک ملاری ڈوسا گاہکوں کو پیش کیا گیا لیکن اس میں ذائقے سمیت کچھ مختلف تھا۔

تقریباً دوسرے تمام ڈوسا کے برعکس ملاری ڈوسا نم ہوتا ہے اور تقریباً زبان پر رکھتے ہی پگھل جاتا ہے اور ناریل سے تیار کی گئی چٹنی اس کو دوسرے ڈوسوں سے مختلف بنا دیتی ہے۔

اس ڈوسے کی ترکیب کے بارے میں پوچھا تو اس کو تیار کرنے والے راجکشر نے کہا کہ اس کو راز میں ہی رہنے دیں۔

’ہماری ترکیب تبدیل نہیں ہوئی ہے، میری والدہ کی عمر 74 برس ہے لیکن وہ ڈوسا میں استعمال ہونے والی اشیا پر گہری نظر رکھتی ہیں اور اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ ہمارا ذائقہ پہلے جیسا ہی رہے اور تبدیل نہ ہو۔‘

ہری رام سموسہ، الہ آباد

تصویر کے کاپی رائٹ Ankit Srinivas

چٹ پٹے سموسے میں اکثر آلو، مصالحے اور پیاز بھرے ہوتے ہیں اور یہ ملک میں تقریباً ہر جگہ چھوٹی بڑی جگہ پر فروخت کیے جاتے ہیں۔

لیکن 1920 میں ہری رام نے سموسے میں ایک بڑی تبدیلی کی اور سموسے کی ایک قسم متعارف کرائی جسے آج ہری رام سموسہ کہتے ہیں۔

انھوں نے پسے ہوئے مصالحوں اور جڑی بوٹیوں کو یکجا کر کے سموسہ تیار کیا اور اس کے نتیجے میں تیار ہونے والا لذیذ سموسہ دیکھتے ہی دیکھتے پورے علاقے میں مقبول ہو گیا۔

90 برس بعد اب ہری رام کے بیٹے شری رام اپنے والد کی اس میراث کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ankit Srinivas

انھوں نے بتایا کہ ’ہمارے سموسے اس وجہ سے مختلف ہیں کہ انھیں خریدنے کے ایک ماہ بعد بھی کھایا جا سکتا ہے لیکن دوسرے سموسے کو اسی دن کھانا ہوتا ہے۔‘

لیکن انھوں نے بھی اس سموسے کی اجزائے ترکیبی کو بتانے سے گریز کیا۔

شری رام نے کہا کہ’ ترکیب کو بھول جائیں اور سموسے سے لطف اندوز ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ میرا خاندان اس دکان کو جاری رکھے گا اگر میں چلا بھی جاؤں تو وہ اس کی ترکیب میں تبدیلی بھی نہیں کریں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Mansi Thapiyal

بابو باورچی بریانی، دہلی

دہلی میں کھانوں کے شوقین افراد میں بابو باورچی کی بریانی بہت مقبول ہے۔ خوشبودار مصالحوں سے تیار کردہ بریانی 1967 سے تیار کی جا رہی ہے۔

دکان کے مالک اور اس تیار کرنے والے معین الدین نے کہا کہ وہ اپنے خاندان کی چوتھی نسل ہیں جو یہ بریانی تیار کرتے ہیں۔

معین الدین کے مھاقب ان کے والد نے اس بریانی کی ترکیب ایجاد کی تھی اور 12 برس کی عمر میں اسے میں نے تیار کرنا سیکھا لیکن اس کے لیے مجھے چار برس تک سخت محنت کرنا پڑی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Mansi Thapiyal

انھوں نے بتایا کہ ہماری ترکیب پیچیدہ ہے اور اس کی تیاری کئی مراحل سے گزر کر ہوتی ہے۔ مجھے اس کو بتانے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن آپ کو ماہر باورچی کی نگرانی میں اس میں کمال حاصل کرنے میں پانچ برس لگیں گے۔

انھوں نے کہا کہ وہ اپنی دکان کو چھوٹی اور شستہ ہی رکھنا چاہتے ہیں تاکہ امیر، غریب سمیت ہماری بریانی سے لطف اندوز ہو سکے۔

’اگر آپ نے بریانی نہیں کھائی تو زندگی نہیں جیئی۔‘

اسی بارے میں