جونی ڈیپ اور ایمبر ہیرڈ طلاق پر متفق

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جونی ڈیپ اور ہرڈ کے درمیان پہلی ملاقات سنہ 2011 میں بننے والی فلم رم ڈائری کی فلم بندی کے دوران ہوئی تھی

فلم سٹار جونی ڈیپ اور ایمبر ہیرڈ طلاق کے معاہدے پر متفق ہوگئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان میں کوئی بھی دوسرے کو جسمانی یا جذباتی طور پر کوئی نقصان پہنچانے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔

ان کی طرف سے جاری کردہ مشترکہ بیان میں تسلیم کیا گیا کہ ان کا رشتہ غیرمستحکم رہا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ ’ہمارا تعلق بہت زیادہ جذبات سے سرشار تھا اور بعض اوقات غیرمستحکم بھی رہا، لیکن ہمیشہ پیار نے اسے جوڑے رکھا۔‘

منگل کو ایمبر ہیرڈ کی وکلا کی جانب سے جونی ڈیپ کے ایمبر ہیرڈ سے عارضی طور پر دور رہنے سے فیصلے کو ختم کرنے کی درخواست دائر کی ہے۔

طلاق پر متفق ہونے کی خبر علیحدگی کے فیصلے کے حوالے سے سماعت شروع ہونے سے ایک دن قبل سامنے آئی ہے۔

اس فیصلے کے مطابق عدالت نے جونی ڈیپ کو اپنی اہلیہ ایمبر ہرڈ سے دور رہنے کا حکم دیا تھا۔

جج نے یہ فرمان اداکارہ ایمبر ہرڈ کے اس الزام کے بعد جاری کیا تھا کہ جس میں انھوں نے کہا کہ شراب کے نشے میں جانی ڈیپ نے انھیں مارا تھا اور جھگڑے کے دوران انھیں موبائل پھینک کر مارا۔

53 سالہ جانی ڈیپ نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جونی ڈیپ اور ایمبر ہرڈ کی شادی 18 ماہ قبل ہوئی تھی اور ان کا کوئی بچہ نہیں ہے

30 سالہ ایمبر ہیرڈ نے مئی میں طلاق کی درخواست دی تھی اور کچھ روز کے جانی ڈیپ سے عدالت کے حکم کے مطابق علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

جونی ڈیپ اور ایمبر ہرڈ کی شادی 18 ماہ قبل ہوئی تھی اور ان کا کوئی بچہ نہیں ہے۔ جبکہ معاشی معاملات کے حوالے سے اتفاق طلاق کا حصہ ہے۔

ایمبر ہیرڈ کا کہنا ہے کہ طلاق کے معاہدے سے حاصل ہونے والی رقم نامعلوم فلاحی ادارے کو خیرات کر دیں گے۔

دونوں اداکار اس مقدمے سے حوالے سے مزید بیان بازی نہیں کریں گے۔

دونوں کے درمیان کچھ عرصہ قبل آسٹریلیا میں ایک قانونی کارروائی کے بعد اختلافات پیدا ہو گئے تھے جب ایمبر ہرڈ اپنے ساتھ دو کتوں کو غیر قانونی طور پر آسٹریلیا لے گئی تھیں۔ اپریل میں ایمبر پر جعلی دستاویزات استعمال کرنے کا جرم ثابت ہوا تھا۔

جونی ڈیپ اور ہرڈ کے درمیان پہلی ملاقات سنہ 2011 میں بننے والی فلم رم ڈائری کی فلم بندی کے دوران ہوئی تھی۔

اسی بارے میں