’پاکستانی فنکار 48 گھنٹے میں انڈیا چھوڑ دیں‘

Image caption امئي كھوپكر نے کہا ہے کہ ’ہم سب پاکستانی فنکاروں اور ایکٹروں کو بھارت چھوڑنے کے لیے 48 گھنٹے کا وقت دیتے ہیں

انڈیا کی ریاست مہاراشٹر کی سخت گیر ہندو جماعت ایم این ایس یعنی مہاراشٹر نو نرمان سینا نے تمام پاکستانی فنکاروں اور اداکاروں کو بھارت چھوڑنے کی دھمکی دی ہے۔

فلمی امور کے نگراں ایم این ایس کے رہنما امئي كھوپكر نے کہا ہے کہ ’ہم سب پاکستانی فنکاروں اور اداکاروں کو بھارت چھوڑنے کے لیے 48 گھنٹے کا وقت دیتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر 48 گھنٹے کے اندر اندر پاکستانی فنکاروں اور اداکاروں نے بھارت نہیں چھوڑا تو ایم این ایس ان کے خلاف سخت رویہ اپنائےگی۔

ایم این ایس کی جنرل سیکریٹری شالنی ٹھاکرے کہتی ہیں: ’اگر 48 گھنٹے میں پاکستانی آرٹسٹ بھارت نہیں چھوڑیں گے تو ایم این ایس انھیں باہر پھینک دے گی۔ یہ ہمارے ملک سے پیسے کما کر پاکستان کو ٹیکس بھیجتے ہیں اور اسی پیسے کے استعمال سے ہمارے لوگوں کو مار دیتے ہیں۔ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ shalini
Image caption شالنی اگر پاکستانی آرٹسٹ بھارت نہیں چھوڑیں گے تو یہاں ان کی شوٹنگ روک دی جائے گی اور بھارت میں ان کی فلمیں ریلیز نہیں ہونے دی جائیں گی

ایم این ایس کا کہنا ہے کہ اگر پاکستانی آرٹسٹ بھارت نہیں چھوڑیں گے تو یہاں ان کی شوٹنگ روک دی جائے گی اور بھارت میں ان کی فلمیں ریلیز نہیں ہونے دی جائیں گی۔

پارٹی کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں فلم سازوں کو بھی خط لکھ کر متنبہ کیا جا رہا ہے۔

گذشتہ ماہ ہی شیوسینا نے ممبئی میں پاکستانی غزل گلوکار غلام علی کے ایک پروگرام کی مخالفت کی تھی۔ اس کے بعد پروگرام منسوخ کر دیا گیا تھا۔

ایم این ایس کے سربراہ راج ٹھاکرے شیو سینا کے بانی بال ٹھاکرے کے بھتیجے ہیں۔

جب بال ٹھاکرے نے اپنے بھتیجے کی جگہ اپنے بیٹے ادھو ٹھاکرے کو اپنا جانشین قرار دیا تو راج ٹھاکرے نے اپنی الگ پارٹی ایم این ایس قائم کر لی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں