پاناما پیپرز نواز شریف کے لیے ایک کڑا امتحان

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی

پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں 18 جولائی 1996 کو ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو نہ تاریخ میں پہلے کبھی پیش آیا تھا اور نہ ہی اس کے بعد ایسی کوئی مثال ملتی ہے۔

میرے باپ کا پیسہ

پیر کو جو تقریر پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے قومی اسمبلی کے فلور پر کی۔ اگر اس کا کوئی پہلا ڈرافٹ ہے تو شاید اس قسم کا ہی ہو گا۔

ایسا کیسے چلے گا ؟

پاناما لیکس پر حکومتی حکمتِ عملی کا مقصد حزبِ اختلاف کو تھکا تھکا کے اکتانا ہے تو اس چکر میں زیادہ امکان یہی رہتا ہے کہ کہیں تھکانے والا خود ہی نہ تھک جائے۔

’میاں صاحب ڈٹ جاؤ ویکھی جائے گی‘

قومی اسمبلی کا پیر کے روز اجلاس شروع ہونے سے پہلے یہ کہا جارہا تھا کہ ہ یہ اجلاس بڑا ہنگامہ خیز ہوگا۔

’بچاؤ کا راستہ اپوزیشن اور حکومت کے اتفاق میں‘

وزیراعظم نواز شریف اپنے تیسرے دورِ اقتدار میں ایک بار پھر مشکل صورتحال میں گِھرے دکھائی دے رہے ہیں۔

حکومت ہی عقل کو ہاتھ مارے

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی جانب سے پاناما پیپرز کی چھان بین کے لیے حکومت کے تھمائے ہوئے ’لامحدود ضابطہ کار‘ کی روشنی میں 1956 کے پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے تحت پاناما ایک بے جان پوپلے کمیشن کی تشکیل سے معذوری کے باوجود ابھی دیر نہیں ہوئی۔

اچھا ہوگا عدلیہ اپنے آپ کو ابھی دور رکھے

جن کی تحقیقات کرنی ہے ان کی معلومات دیں پھر وہ فیصلہ کریں گے کہ کمیشن قائم کیا جائے یا نہیں۔

’ٹی او آر‘ کس بلا کا انگریزی نام ہے؟

اسے آسان زبان میں بیرون ملک کمپنیوں کی تحقیقات کا طریقہ یا ضابطہِ کار بھی کہا جاسکتا ہے۔ لیکن کیوں جناب ایسا کیوں کہیں؟ آخر پڑھے لکھے ہونے کا شاید ثبوت بھی تو دینا ہے۔ لیکن جس طرح ٹی اور آرز پر بحث ہو رہی یہ ٹی سے ٹرخاو اور آر سے رولا زیادہ لگنے لگا ہے۔

’نواز راحیل ملاقات پر پاناما لیکس کے سائے‘

فوجی کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور وزیراعظم کے درمیان ملاقات میں پاناما لیکس کا ذکر سامنے آنے پر حکومت نے کہا ہے کہ اس کے بارے میں قیاس آرائیوں سے گریز کریں۔