پاکستان کی سرحد سے متصل انڈین پنجاب میں لوگوں کی نقل مکانی

تصویر کے کاپی رائٹ Robin Singh
Image caption پنجاب کے سرحدی گاؤں سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے

انڈیا کی جانب سے لائن آف کنٹرول کے پار پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سرجیکل سٹرائیکس کے دعوے کے بعد انڈیا کے بعض حلقوں میں خوشی کی لہر دیکھی جا سکتی ہے لیکن پاکستان سے ملحق اس کے سرحدی علاقوں میں خوف کا ماحول ہے۔

پنجاب کے سرحدی دیہات سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے اور سکولوں میں تعطیل کا اعلان کر دیا گيا ہے، جبکہ اساتذہ کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

گرودواروں سے محفوظ ٹھکانوں پر جانے کی اپیل کیے جانے کے بعد اٹاری، رانيا، فیروزپور اور گرداس پور سیکٹر کے کئی دیہات سے بچوں اور عورتوں کو رشتہ داروں کے پاس بھیج دیا گیا ہے۔

مقامی صحافی روندر سنگھ رابن کے مطابق پنجاب حکومت نے کئی اضلاع میں نقل مکانی کے انتظامات کی نگرانی کے لیے سیکریٹری سطح کے چھ اہلکار تعینات کیے ہیں۔

جبکہ پنجاب میں پاکستانی سرحد کے ساتھ رہنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ انھیں دوہرے نقصان کا سامنا ہے۔ انھیں اپنی کھڑی فصلیں چھوڑنی پڑ رہی ہیں اور گھر بھی چھوڑنا پڑ رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Robin Singh
Image caption پنجاب کے گرودوارے سے اعلان کے بعد نقل مکانی شروع ہوئی

پنجاب کے سرحدی گاؤں کے ایک نوجوان نے بتایا: ’گرودوارے سے دو ڈھائی گھنٹے کے اندر گاؤں خالی کرنے کا اعلان کیا گیا۔ غریب لوگ اپنے بچوں اور تھوڑا بہت سامان لے کر گاؤں سے چلے گئے۔ بچوں کے سکول بھی بند کر دیے گئے ہیں، کوئی کیمپ بھی نہیں ہے جہاں پناہ لی جائے۔‘

دوسری جانب انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور نے بتایا کہ ایل او سی سے متصل اضلاع میں لوگ تذبذب کا شکار ہیں۔

کشمیر کے بارہ مولہ اور کپوارہ اضلاع میں شہری سنہ 2003 میں فائر بندی کے معاہدے سے پہلے کی صورتحال پیدا ہونے کے خدشے سے خوفزدہ ہیں۔

ایک معمر شخص نے کہا: ’خطرہ اس بات کا ہے کہ کہیں دونوں ممالک کے درمیان جنگ نہ ہو جائے۔ عوام کافی پریشان ہیں۔ خاص کر میڈیا نے جو ڈر کا ماحول پیدا کیا ہے اس سے لوگ بہت خوفزدہ ہیں۔ لوگ بکھر جاتے ہیں، ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا پڑتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے ہم یہ چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت ہو۔‘

ایک دوسرے معمر شخص نے بتایا: ’آپ کہتے ہیں سيز فائر ختم کر دیں گے۔ کسی کو پتہ نہیں ہے کہ گولہ کہاں گرے گا، بنکر میں گرے گا یا ہمارے اوپر گرے گا۔‘

لوگوں میں خوف ہے کہ کہیں فائرنگ کی قیمت انھیں نہ ادا کرنی پڑے۔ ایک اور شخص کا کہنا تھا کہ ’اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو سرحد پر آباد لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا۔ لوگ مریں گے، یہ اچھا تو نہیں ہوگا۔ بہتر ہو گا کہ بات چیت سے حالات درست کر لیے جائیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کشمیر میں ایل او سی کے پاس ایک گاؤں کا منظر

ایک نوجوان نے کہا: 'اس طرح زبانی جنگ نہیں ہونی چاہیے۔ بیٹھ کر بات چیت ہونی چاہیے۔ پوری دنیا کو پتہ چلے کہ کچھ ہو رہا ہے۔ فائرنگ سے یہاں بھی جانیں جائیں گی، وہاں بھی جانیں جائیں گی۔‘

’جن لوگوں نے فائرنگ نہیں دیکھی ہے وہ ہی شور کر رہے ہیں جو سرحد پر رہتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ فائرنگ کیا ہوتی ہے.‘

ایک اور بزرگ شخص نے کہا: ’ہم فائرنگ نہیں چاہتے ہیں، اس سے ہمارا زیادہ نقصان ہوتا ہے۔ ہم تو یہاں ہی سرحد پر رہتے ہیں، کہاں جائیں گے۔ ہمارے پرانے تجربے بہت خراب ہیں۔ جیسا کہ مودی نے کہا ہے کہ ہمیں غربت سے لڑنا چاہیے۔ وہی صحیح ہے۔ غارت گری مسئلے کا حل نہیں ہے۔‘

ایک اور شخص کا کہنا تھا کہ فوج کے پاس تو چھپنے کے لیے بنکر ہیں، لیکن ہمارے پاس کیا ہے۔ ہم تو مرے ہوئے ہیں۔ انتظامیہ کم سے کم سرحد پر رہنے والے لوگوں کا تو خیال کرے۔ جس طرح فوج کے لیے بنکر بنائے گئے ہیں ویسے ہی گاؤں والوں کے لیے بھی بنکر بنائے جانے چاہییں۔

اسی بارے میں