انڈیا: ٹیکس ناہندگان نے اربوں کے گوشوارے جمع کروا دیے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایک اندازے کے مطابق انڈیا کی حکومت اس سکیم کے ذریعے تقریباً ساڑھے چار ارب ڈالر کما سکتی ہے

انڈیا میں حکومت کی جانب سے ٹیکس ناہندگان کے لیے معافی کی ایک سکیم میں ہزاروں شہریوں نے مجموعی طور پر ساڑھے نو ارب ڈالر سے زیادہ کی آمدن اور اثاثے ظاہر کر دیے ہیں۔

انڈیا کے وزیرِ خزانہ ارن جیٹلی کا کہنا ہے کہ اس سکیم کے تحت ٹیکس کے 64275 نئے گوشوارے جمع کروائے گئے ہیں۔ اس سکیم کے تحت شہریوں کو ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کے لیے چار ماہ کی مہلت دی گئی تھی جو کہ گذشتہ جمعے کو مکمل ہوئی۔

اس سکیم کے تحت شہریوں کو آمدن یا اثاثے نہ ظاہر کرنے کے باوجود قانونی کارروائی سے چھوٹ دی گئی ہے تاہم ان افراد کو نہ ادا کیا گیا ٹیکس، سرچارج اور جرمانے کے ساتھ جمع کروانا ہوگا۔

ایک اندازے کے مطابق انڈیا کی حکومت اس سکیم کے ذریعے تقریباً ساڑھے چار ارب ڈالر کما سکتی ہے۔

انڈیا میں ’بلیک منی‘ یا غیر قانونی دولت ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption وزیراعظم مودی نے معافی کی اس سکیم کو کامیاب قرار دیا

اس سال کے آغاز میں حکومت نے تقریباً سات لاکھ مشتبہ ٹیکس ناہندگان سے رابطہ کیا تھا اور انھیں ٹیکس ادا کرنے کی ترغیب کے ساتھ یہ سکیم پیش کی۔

ٹیکس ناہندگان کو اس بات کی یقین دہانی کروائی گئی کہ اگر وہ اپنے درست گوشوارے جمع کروا دیتے ہیں اور جرمانہ ادا کر دیتے ہیں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

دلی میں بی بی سی کے نامہ نگار سنجے مجومدار کا کہنا ہے کہ اگرچہ بڑی تعداد میں لوگ سامنے آئے ہیں تاہم ملک میں کُل غیر قانونی آمدن کا یہ بہت چھوٹا حصہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سکیم کے مالی تخمینے میں اُن رقوم کو گنا نہیں جاتا جو کہ سوئس اکاؤنٹس یا ملک سے باہر دیگر ٹیکس ہیونز یعنی ایسے ممالک جہاں ٹیکس قوانین سخت نہیں، میں موجود ہیں اور کچھ سرکاری تفتیش کار اُس دولت کا تخمینہ 500 ارب ڈالر تک لگاتے ہیں۔

2014 کے انتخابات میں نریندر مودی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کرپشن اور بلیک منی کے خلاف کارروائی کا وعدہ کیا تھا۔

سنیچر کو انھوں نے متعدد ٹوئیٹس میں معافی کی اس سکیم کو کامیاب قرار دیا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس سکیم کے ذریعے جمع کی گئی رقم عوامی مفاد میں خرچ کی جائے گی۔

اپریل میں شائع ہونے والے پاناما لیکس کے بعد سے انڈیا میں حکام پر اس حوالے سے کارروائی کرنے کے لیے کافی دباؤ تھا۔ پاناما لیکس میں تقریباً 500 انڈئن شہریوں کے نام شائع کیے گئے تھے۔

اسی بارے میں