کرفیو کے باوجود سری نگر میں محرم کے جلوس

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پامپور میں سرکاری عمارت پر مسلسل تین دن تک بمباری کی گئی

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں بدھ کو کرفیو اور سخت سکیورٹی انتظامات کے باوجود سری نگر کے مختلف علاقوں میں عزاداری کے جلوس نکالے گئے جس دوران سکیورٹی فورسز نے درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

دوسری طرف پامپور کے علاقے میں سری نگر کو جموں سے ملانے والی شاہراہ پر واقع ایک سات منزلہ سرکاری عمارت میں چھپے دو شدت پسندوں پر فوج، سی آر پی ایف، باڈر سکیورٹی فورس اور پولیس کی 60 گھنٹے تک جاری رہنے والی مشترکہ کارروائی بدھ کی سہ پہر دونوں شدت پسندوں کی ہلاکت کے بعد ختم ہو گئی ہے۔

حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں اس سات منزلہ سرکاری عمارت سے جو 60 گھنٹے تک جاری رہنے والی مسلح جھڑپ کے بعد کھنڈر میں تبدیل ہو گئی دو ناقابل شناخت حالت میں بری طرح جھلسی ہوئی لاشیں ملی ہیں۔

اینٹرپنیور ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ کی یہ عمارت اصل میں ایک ہاسٹل تھا۔ اسی انسٹی ٹیوٹ کی مرکزی عمارت فروری میں ہونے والی ایک اور مسلح جھڑپ جو 48 گھنٹوں تک جاری رہی تھی تباہ ہو گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سری نگر میں آٹھ محرم الحرم کو عزاداری کے جلوس کرفیو کی وجہ سے برآمد نہیں ہو سکے تھے

مسلح جھڑپ کے بعد ایک فوجی اہلکار نے کہا کہ ای ڈی آئی عمارت میں تلاشی کا کام مکمل کر لیا گیا۔

حکام کے مطابق ایک مسلح شدت پسند منگل کی رات کو ہلاک ہو گیا تھا جب کے دوسرا شدت پسند بدھ کی صبح سکیورٹی فورسز کی مسلسل فائرنگ اور مارٹر فائر کا نشانہ بنا۔

مسلح کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز کے عمارت کے اردگرد کے ایک کلو میٹر تک کے علاقے کو محاصرے میں لیا ہوا تھا اور کسی مقامی شخص کو بھی عمارت کے قریب جانے کی اجازت نہیں تھی۔

دریا کے پار بستی میں مسلسل تین دن تک مقامی لوگوں نے سکیورٹی فورسز کے آپریشن اور شدت پسندوں کے حق میں مظاہرے کیے۔

جموں سے موصول ہونے والی اطلاعات کےمطابق جموں میں اس مرتبہ شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ سنی عقیدے کے لوگوں نے بھی عاشور کے دن عزاداری کے جلوس میں شرکت کی۔

سری نگر میں آٹھ محرم الحرم کو عزاداری کے جلوس کرفیو کی وجہ سے برآمد نہیں ہو سکے تھے لیکن دسویں محرم کو لوگوں نے تمام پابندیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے جلوس نکالے۔

یاد رہے کہ اس برس عید کے موقعے پر بھی کرفیو کی وجہ سے لوگوں نماز عید ادا نہیں کر پائے تھے۔

کشمیر میں جاری حالیہ احتجاجی لہر کو گزشتہ تین دہائیوں میں انتہائی شدید قرار دیا جا رہا ہے۔ سری نگر اور دیگر علاقوں میں کرفیو کو مسلسل 95 دن ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں