بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری احتجاجی تحریک میں اب تک 101 ہلاک، ہزاروں زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ AP

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں گزشتہ ایک سو ایک دنوں سے جاری عوامی احتجاج میں اب تک سو افراد ہلاک اور پندرہ ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

کشمیر میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک درجن سے زیادہ تنظیموں کے اتحاد سی سی ایس کے اعداد و شمار کے مطابق بھارتی سکیورٹی فورسز نو ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کر چکی ہیں۔

کشمیر میں لاگو خصوصی قوانین کے تحت گرفتار ہونے والوں کی اکثریت کو مختلف جیلوں میں بھیج دیا گیا ہے۔

سکیورٹی فورسز کو اس حالیہ احتجاجی تحریک، جسے اب تک کشمیر میں ہونے والے مظاہروں میں شدید ترین قرار دیا جا رہا ہے، کے حوالے سے پانچ ہزار پانچ سو افراد مطلوب ہیں۔

سی سی ایس کی تحقیق کے مطابق پندرہ ہزار زخمی افراد میں سے چار ہزار افراد جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہے ایسے ہیں جن کے چہرے پر چھروں کے زخمی آئے ہیں۔ سینکڑوں افراد آنکھوں میں چھرے لگنے سے جزوی یا مکمل طور پر بینائی سے محروم ہو گئے ہیں۔

بینائی سے محروم ہونے والے افراد میں بچے اور بچیاں بھی شامل ہیں جو گلیوں اور محلوں میں کھیلتے ہوئے ان چھروں کی زد میں آگئے۔

کمشیر میں نہتے عوام پر چھروں والے کارتوسوں کو چلانے پر ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت دنیا کی انسانی حقوق کی مختلف تنظیمیں شدید تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔

بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی گزشتہ ماہ کشمیر کےدورے کے بعد 'پیلٹ' یا چھرے والے کارتوس کے استعمال کو روکنے کی بات کی تھی اور ان کی جگہ چلی بم یا مرچوں والے کارتوس استعمال کرنے کا کہا تھا۔

بھارتی حکومت نے یاسین ملک اور میر واعظ جیسے حریت کانفرنس کے سرکاردہ رہنماؤں سمیت حریت کے ایک ہزار سے زیادہ رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کیا ہوا ہے۔

ان کے علاوہ ستاسی برس کے سید علی گیلانی اور شبیر احمد شاہ اپنے گھروں پر نظر بند ہیں۔

سی ایس ایس کے سرکردہ رہنما خرم پرویز بھی گزشتہ ایک ماہ سے جموں کی کوٹ بلوال جیل میں قید ہیں۔