’ ایسا لگ رہا ہے جیسے لاش ٹھکانے لگا دی ہو‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لوگ پانچ سو کے نوٹوں سے چھٹکارا حاصل کر کے اطمینان محسوس کرتے ہیں

آجکل میں چندن سے نظریں چراکر ہی نکلنے کی کوشش کرتا ہوں، رئیس سے روز سامنا نہیں ہوتا لیکن یہ ڈر تو رہتا ہی ہے کہ وہ کہیں مل جائے تو تقاضہ نہ کردے: بھائی صاحب، گوشت کے پیسے ابھی پہنچے نہیں ہیں!

چندن ہمارا سبزی والا ہے، ایک فون کیجیے اور پلک جھپکتے میں سبزیوں کے ساتھ دروازے پر حاضر ہوجاتا ہے، رئیس کی طرح وہ کارڈ سے پیسے نہیں لیتا اور کیش دینے کے لیے تو آجکل کسی کے پاس ہے نہیں۔ اس لیے انڈیا کی حکومت نے جب سے پانچ سو اور ہزار کےنوٹ منسوخ کیے ہیں، ادھار کی 'مانگ' دوبارہ بڑھ گئی ہے۔ امیر اور غریب سب آجکل سودے بازی کرنے سے بچتے ہیں، جو مل رہا ہے مسکراکر خاموشی سے لینے میں ہی عافیت ہے۔

امیروں کے لیے ایک نئی مشکل اور پیدا ہوگئی ہے۔ کچھ بھی خریدنا ہو خود ہی بازار جانا پڑتا ہے کیونکہ وہ نوکروں کو اپنے کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ دے کر نہیں بھیج سکتے۔

کارڈ سے خریداری اتنی بڑھ گئی ہے کہ الیکٹرانک پیمنٹ کا نظام بھی متاثر ہوا ہے۔ کارڈ سے بھی پیمنٹ کی ادائیگی ناکام رہنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ایک لطیفہ واٹس ایپ پر گردش کر رہا ہے: قصائی کی دکان پر مرغی گاہک سے کہہ رہی ہے: 'سر، کٹوانے سے پہلے چیک کر لیجیے گا، ہزار پانچ سو کے چکر میں بے موت نہ ماری جاؤں۔'

لوگ پرانے نوٹوں کو ٹھکانے لگانے کے لیے نایاب طریقے دریافت کر رہے ہیں۔ بڑی رقم والے بھاری 'پریمئم' پر سونا خرید رہے ہیں، چھوٹی رقم والے رشتہ داروں کی مدد لے رہے ہیں۔۔۔زیادہ تر لوگ 'سیٹنگ' کی تلاش میں ہیں۔

سارا کیش بلیک نہیں ہے، لیکن لوگ زیادہ کیش بینک کھاتوں میں جمع کرانے سے بچتے ہیں، انکم ٹیکس والوں کی نگاہ سے بچنے میں ہی خیریت ہے، ایک بار جانچ شروع ہوگئی تو بات دور تک جانے کا خطرہ رہتا ہی ہے۔

حکومت نے کھاتوں میں جمع کرائے جانے والے کالے دھن پر 200 فیصد جرمانے کا بھی اعلان کیا ہے، یعنی اگر آپ ایک کروڑ روپے بینک میں جمع کرائیں گے تو زیادہ سے زیادہ دس لاکھ ہی ہاتھ آئیں گے۔ انکم ٹیکس والوں کے نوٹس میں الگ آئیں گے، اس لیے سنا ہے کہ بہت سے لوگ اپنا پیسہ بس یوں ہی بانٹ رہے ہیں۔۔۔ میں بھی سڑک پر آنکھیں کھلی رکھتا ہوں، لیکن ابھی کسی ایسے سخی سے ملاقات نہیں ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بینکوں کے سامنے کرنسی بدلوانے کے لیے لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں

گزشتہ دو سال میں حکومت نے جن دھن منصوبے کے تحت ہر غریب گھر میں ایک کھاتہ کھلوانے کی مہم چلائی تھی۔ یہ کھاتے تب سے بیکار ہی پڑے تھے لیکن بینکوں کے مطابق اچانک ان میں پیسہ جمع کرایا جا رہا ہے۔ سنا ہے کہ کچھ لوگ ان کھاتوں میں اپنا کالا دھن جمع کروا رہے ہیں۔ جو کالا دھن کمانا جانتے ہیں انہیں اسے ٹھکانے لگانے کا ہنر بھی آتا ہے۔

حکومت کی طرف سے اشتہارات جاری کیے جا رہے ہیں کہ اگر کوئی آپ سے اپنے کھاتے میں رقم جمع کرانے کے لیے کہے تو فوراً پولیس کو اطلاع دیں۔ لگتا نہیں ہے کہ پولیس کے پاس ابھی کوئی کال آئی ہوگی کیونکہ یہ کام زور زبردستی سےنہیں، 'انڈر سٹینڈنگ' سے کیے جاتے ہیں۔

کسان آجکل بہت مانگ میں ہیں۔ ان کی آمدنی ٹیکس فری ہے اس لیے وہ اپنے کھاتے میں پیسہ جمع کرائیں گے تو کوئی یہ نہیں پوچھے گا کہ یہ رقم کہاں سے آئی۔ سنا ہے کہ لوگ ان کی مدد کے لیے کافی بڑا 'کٹ' دینے کو تیار ہیں۔ بھاگتے چور کی لنگوٹ بھی مل جائے تو کیا برا ہے۔

پٹرول پمپس، کچھ دوائی کی دکانوں اور ہسپتالوں اور سرکاری واجبات کی ادائیگی کے لیے اب بھی پرانے نوٹ استعمال کیے جا رہے ہیں۔

ایماندار ہوں یا بے ایمان، سب لوگ بہت پریشان ہیں، دن رات اے ٹی ایم مشینوں اور بنکوں کے سامنے قطاریں لگی رہتی ہیں لیکن اس کے باوجود لطیفوں کا بازار گرم ہے۔

ریڈ لائٹ پار کرنے کے بعد، ڈرائیور پولیس والے سے 'سر، ہزار روپے لے لیجیے!

پولیس والا: بھائی سو ہی دے دو!'

لیکن یہ شخص جس کیفیت سے گزرا، اسےاس وقت بہت سے لوگ سمجھ سکتے ہیں۔

'ابھی ابھی دو ہزار کا پیٹرول ڈلوایا ہے۔ (پانچ سو کے چار نوٹ) ایسا لگ رہا ہے جیسے لاش ٹھکانے لگا دی ہو۔'

اسی بارے میں