انڈیا میں مسافر ٹرین کے حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 142 ہو گئی

انڈیا ٹرین تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کانپور میں پیش آنے والے اس حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ گئی ہے

انڈیا کی ریاست اتر پردیش کے ضلع کانپور میں اتوار کی صبح ہونے والے مسافر ٹرین کے حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 142 ہو گئی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 150 سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔

شمالی خطے کے محکمہ ریل میں تعلقات عامہ کے افسر امت مالویہ نے پیر کی صبح مقامی صحافی روہت گھوش کو بتایا ہے کہ اب تک 142 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 180 ہے۔

٭ بھارت: دو ٹرینوں کے حادثوں میں 27 ہلاک، تحقیقات کا حکم

٭ انڈیا: کانپور ہونے والے ٹرین حادثے کی تصاویر

حکام کے مطابق اتوار کی رات تک 133 لاشیں نکالی گئی تھیں اور پیر کو نو مزید لاش ملی ہیں۔

اس حادثے میں 'پٹنہ اندور انٹرسٹی' ٹرین کے 14 ڈبے پٹری سے اتر گئے تھے۔ ٹرین اندور سے پٹنہ جا رہی تھی جب صبح 3 بجے کے قریب پوکھراياں میں یہ حادثہ پیش آیا تھا۔

اس سے قبل آرمی بریگیڈ کانپور سٹیشن بی ایم شرما نے بتایا تھا کہ ’ہم رات بھر امدادی کام کرنے کی تیاری کر چکے ہیں، لائٹیں نصب کر دی گئی ہیں۔ ریلوے کرینیں بھی امدادی کاموں میں شامل ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ٹرین کی بوگیوں کے پٹری سے اترنے کی وجہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکی ہے

پی ٹی آئی کے مطابق وزیر مملکت برائے ریلوے کا کہنا ہے کہ ریلوے بورڈ ممبران حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔

جائے وقوعہ پر ریسکیو آپریشن اور ملبہ ہٹانے کام اب بھی جاری ہے۔

ریاست کے جی ڈی پی جاوید احمد نے میڈیا سے بات چیت میں بتایا تھا کہ ٹرین کی دو بوگیاں ایک دوسرے میں پھنس گئی تھیں اور انھیں کاٹ کر اندر پھنسے مسافروں کو نکالنے کا کام جاری ہے۔

ریلوے کے اعلی اہلکار انیل سکیسینا کا کہنا ہے کہ کئی مسافر ابھی بھی ڈبے میں پھنسے ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس حادثے میں تقریبا دو سو افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ جائے وقوعہ سے ملبہ ہٹانے اور امدادی کارراوئياں جاری ہیں

انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے ٹوئٹر پر جاری پیغام میں ٹرین حادثے پر شدید غم کا اظہار کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ وہ متاثرہ افراد کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ انھوں نے وزیر ریل سوریش پرہبھو سے بات کی ہے جو ’موجود حالات کی نگرانی خود کر رہے ہیں۔‘

انڈیا کے وزیر ریل کا کہنا ہے کہ ’ٹرین حادثے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’واقعے فوری کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے ورثا کو معاوضہ ادا کیا جائے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ریسکیو اہلکاروں کا کہنا ہے کہ حادثے میں مزید ہلاکتوں کا امکان ہے

حادثے کا شکار ہونے والی ٹرین کے ایک مسافر نے بی بی سی کو بتایا کہ 'رات کے تین بجے کے قریب ہمیں زوردار جھٹکا لگا۔ کئی بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔ ہر ایک صدمے میں تھا، میں نے خود کئی لاشیں اور زخمی دیکھے۔‘

کانپور سٹیشن ریلوے کے اہم جنکشنز میں سے ایک ہے اور یہاں سے ہر روز سینکڑوں ٹرینیں گزرتی ہیں۔

ریلوے کے ترجمان انیل سکسینا نے بتایا کہ کانپور سے گزرنے والی دوسری ٹرینوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے۔

انڈیا میں ریلوے کا نظام پرانا ہونے کے سبب ٹرین کے حادثے معمول کی بات ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق انڈیا میں ایک دن میں دو کروڑ 30 لاکھ افراد ٹرین کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔

اسی بارے میں