انڈیا میں سکھ شدت پسند ملزم سمیت پانچ اہم قیدی فرار

تصویر کے کاپی رائٹ Ravindar Singh Robin
Image caption بھارتی پنجاب کے نائب وزیراعلیٰ اور صوبے کے وزیرِ داخلہ سکھبیر سنگھ بادل نے کہا ہے کہ اس کارروائی کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

شمالی انڈیا میں نابھا سنٹرل جیل سے ایک مشتبہ سکھ شدت پسند کے فرار ہونے کے بعد مقامی حکام نے بڑے پیمانے پر ایک سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

ہرمندر سنگھ منٹو پر کالعدم سکھ شدت پسند تنظیم خالصتان لبریشن فورس کے سربراہ ہونے کا الزام ہے۔

اطلاعات کے مطابق ہرمندر سنگھ منٹو اس وقت جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے جب پولیس کی وردیوں میں ملبوس مسلح حملہ آوروں نے اتوار کو نابھا سنٹرل جیل پر دھاوا بول دیا اور وہاں بلا امتیاز فائرنگ شروع کر دی۔

اس واقعے میں مزید چار قیدی بھی جیل سے فرار ہو گئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والوں میں بدمعاش وکی کوندر، گرپریت سکون، نیتا دیول، اور وکرم جیت شامل ہیں۔

ہرمندر سنگھ منٹو وک دو سال قبل 2014 میں دلی کے بین الاقومای ہوائی اڈے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر قتل، قاتلانہ حملوں اور سازشوں کے سلسلے میں کم از کم 10 مقدمات ہیں۔ ہرمندر سنگھ منٹو پر 2008 میں ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ گرمیت رام رحیم سنگھ پر قاتلانہ حملے اور 2010 میں ہلواراہ میں بھارتی فضائیہ کے ایک اڈے سے ہتھیار برآمد ہونے میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔

ادھر بھارتی پنجاب کے نائب وزیراعلیٰ اور صوبے کے وزیرِ داخلہ سکھبیر سنگھ بادل نے کہا ہے کہ اس کارروائی کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں