’کشمیری نوجوانوں کا تصادم کی جگہ پہنچنا خود کشی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ TAUSEEF MUSTAFA
Image caption ڈی جی پی ایس پی وید نے کہا ’گولی یہ نہیں دیکھتی کہ وہ کس کو لگ رہی ہے۔‘

انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں پولیس کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا ہے کہ وہ نوجوان جو وادیِ کشمیر میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے مقام پر پہنچ کر سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کرتے ہیں، وہ دراصل خود کشی کر رہے ہیں۔

ڈی جی پی شیش پال وید نے نوجوانوں سے ایسا نہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ 'اینکاؤنٹر کے دوران سکیورٹی فورسز بھی گولیوں سے بچنے کے لیے گھروں یا بلٹ پروف گاڑیوں کے پیچھے چھپ جاتی ہیں اور ایسے میں ان نوجوانوں کا وہاں پہنچنا خود کشی کرنے کے مترادف ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ کچھ ایسی قوتیں جو وادی میں امن نہیں چاہتیں، اپنے سیاسی مفاد کے لیے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'گولی یہ نہیں دیکھتی کہ وہ کس کو لگ رہی ہے۔ میں ان نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے گھروں میں رہیں اور ان جگہوں سے دور رہیں جہاں جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ انہیں سمجھنا چاہیے کہ ان کا استعمال سیاسی مفاد کے لیے کیا جا رہا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کا استعمال وادی میں قیام امن کو روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا 'جیسے ہی جھڑپ شروع ہوتی ہے، تقریباً تین سو وٹس ایپ گروپس حرکت میں آجاتے ہیں، اور دیگر سوشل روابط کی ویب سائٹس جیسے کہ فیس بک پر بھی ان نوجوانوں کو اکسایا جاتا ہے کہ وہ تصادم کی جگہ پر پہنچ کر پتھراؤ کریں تاکہ دہشت گردوں کو فرار ہونے میں مدد مل سکے۔'

انہوں نے مزید کہا کہ ان میں سے کچھ اکاؤنٹس ’اُس پار‘ سے چلائے جا رہے ہیں اور یہ انڈیا کے دشمنوں کا کام ہے جو ملک میں مسائل پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

ڈی جی پی نے کہا کہ لوگوں کو پتھراؤ کے واقعات میں ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ 'جو لوگ دو دن پہلے مارے گئے ان کے ماں باپ، بھائی، بہنوں کے بارے میں سوچیے۔ لوگ تو دس دن میں بھول جائیں گے، لیکن سب سے زیادہ ان کے خاندان والوں پر اثر پڑے گا۔ ہم سب تو پھر اپنے کاموں میں لگ جائیں گے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ TAUSEEF MUSTAFA
Image caption جھڑپوں کی جگہ نوجوان پہنچ کر سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ شروع کر دیتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کشمیریوں کی اکثریت پچھلے سال کے واقعات اور کشیدگی کے بعد اب مزید تشدد نہیں چاہتی، اور یہ سب کچھ ان عناصر کا کیا دھرا ہے جو ملک کے دشمن ہیں اور ساتھ ہی آنے والے انتخابات میں خلل ڈالنا چاہتے ہیں۔

یاد رہے کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے چاڑورہ قصبے میں منگل کو مسلح تصادم کے دوران ایک بار پھر لوگوں نے محصور شدت پسندوں کو 'بچانے' کی کوشش کی جس کے دوران فوج کی فائرنگ سے تین نوجوان مظاہرین مارے گئے جبکہ 14 دیگر چھرّوں اور گولیوں سے زخمی ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ کشمیر میں گذشتہ برس جولائی میں مسلح جنگجو برہان وانی کی ہلاکت کے بعد احتجاج کی ایک لہر پھیل گئی ہے۔ پچھلے سال سے ہی کشمیر میں مسلح تصادموں کے دوران محصور شدت پسندوں کو بچانے کے لیے احتجاج کرنے کا رجحان بھی بڑھ گیا ہے۔

مقامی وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی کئی بار لوگوں سے اپیل کر چکی ہیں کہ جہاں ایسا تصادم ہو رہا ہو وہاں مظاہرہ نہ کریں۔

بھارت کی بری فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے تو یہاں تک کہا تھا کہ 'جو لوگ فوجی آپریشن میں حائل ہوں گے انھیں شدت پسندوں کا معاون تصور کیا جائے گا۔' اس بیان پر بھارت اور کشمیر کے سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل پایا جاتا ہے۔

اسی بارے میں