کشمیر میں بارشیں، جہلم کے کناروں پر ہنگامی صورت حال

تصویر کے کاپی رائٹ TAUSEEF MUSTAFA
Image caption گزشتہ کئی روز سے تیز بارشوں کی وجہ سے کشمیر کو پھر ایک بار سیلاب کا خطرہ درپیش ہے

صرف دو سال کی مدّت میں دوسری مرتبہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو ایک بار پھر سیلاب کا خطرہ درپیش ہے۔

گذشتہ کئی روز سے تیز بارشوں کی وجہ سے دریائے جہلم میں پانی کی سطح خطرہ کے نشان سے اوپر ہے۔

حکومت نے تعلیمی اداروں میں تین روز تک چھُٹی کا اعلان کرتے ہوئے جہلم کے آس پاس کی آبادیوں کو مطلع کیا ہے کہ اپنی حفاظت کے حوالے سے چوکس رہیں۔

اس دوران سیلاب اور زراعت سے متعلق محکمے کے ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں اور جہلم کے کناروں پر خصوصی دستوں کو تعینات کیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے سربراہ سونم لوٹس نے پیشن گوئی کی ہے کہ بارشیں جمعہ کی دوپہر تک تھم جائیں گی تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ پہاڑوں پر موجود برف بارش کی وجہ سے تیزی سے پگھل رہی ہے جس سے دریا میں پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے۔

جنوبی اور شمالی کشمیر کے بعض دیہات کے ندی نالوں میں جمعرات کو ہی طغیانی آگئی تھی۔ دیہات کو ملانے والی سڑکیں بند ہوگئی ہیں اور کئی مکانات اور مذہبی مقامات کو نقصان پہنچا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TAUSEEF MUSTAFA
Image caption محکمہ موسمیات کے سربراہ سونم لوٹس نے پیشن گوئی کی ہے کہ بارش جمعہ کی دوپہر تک تھم جائے گی۔

واضح رہے 2014 میں ایک ہفتے تک مسلسل بارش کے بعد کشمیر میں سیلاب آیا تھا، جو ڈیڑھ صدی میں سب سے زیادہ خطرناک تھا۔ اس میں تقریباً 300 افراد مارے گئے تھے جبکہ مجموعی طور پر ایک لاکھ کروڑ روپے مالیت کے تجارتی اور سماجی اثاثے تباہ ہوگئے تھے۔

بعد میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سرینگر میں ایک ریلی سے خطاب کے دوران سیلاب زدگان کی بحالی اور دوسرے تعمیراتی منصوبوں کے لیے 88 ہزار کروڑ روپے کے مالی پیکیج کا اعلان کیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں