انڈیا میں تین طلاقوں کے تنازع پر سپریم کورٹ میں سماعت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا میں مسلمان مرد اپنی بیوی کو منٹوں میں، صرف تین دفعہ 'طلاق' کا لفظ کہہ کر طلاق دے سکتا ہے۔

انڈیا کی عدالت عظمی نے تین طلاقوں کے متنازع موضوع پر دائر کی گئی کئی پیٹیشنز کی باضابطہ سماعت شروع کر دی ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ وہ اس دعوے پر غور کرے گی کہ تین طلاقیں کس حد تک مذہب کے بنیادی عقائد میں شامل ہے۔

انڈیا چند ایسے ممالک میں شامل ہے جہاں ایک مسلمان مرد اپنی بیوی کو منٹوں میں، صرف تین دفعہ 'طلاق' کا لفظ کہہ کر طلاق دے سکتا ہے۔ تاہم خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک معتصبانہ رویہ ہے جس سے خواتین کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔

کئی مسلم تنظیموں نے اپنے مذہبی معاملات میں عدالت کی دخل اندازی کی مخالفت کی ہے۔ عدالت کے اس اقدام کو وزیر اعظم نریندر مودی کی حمایت حاصل ہے۔

اس حساس موضوع کی سماعت کے لیے جو بینچ تشکیل دیا گیا ہے اس کے پانچ جج صاحبان کا تعلق پانچ مختلف مذاہب سے ہے، جن میں ہندو، سِکھ، عیسائی، پارسی اور مسلمان شامل ہیں۔

بینچ نے مسلمان خواتین اور انسانی حقوق کے لیے سرگرم گروہوں کی طرف سے دائر کی گئی کئی درخواستوں کو ملا کر اس معاملے کی سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مسلمان انڈیا کی سب سے بڑی اقلیت ہیں۔ ان کی آبادی ایک سو پچپن ملین ہے اور ان کی شادیاں اور طلاق جیسے معاملات مسلم پرسنل لا کے تحت طے کیے جاتے ہیں، جو کہ بظاہر شریعت پر مبنی ہے۔

Image caption شاعرہ بانو کے شوہر نے انہیں خط کے ذریعے طلاق دی تھی

درخواست گزاروں میں سے ایک شاعرہ بانو ہیں جنہوں نے گزشتہ سال بی بی سی سے بات کی تھی۔ پینتیس سالہ شاعرہ بانو اکتوبر دو ہزار پندرہ میں اپنے دو بچوں سمیت اپنے والدین سے ملنے اتراکھنڈ گئی تھیں جب انہیں الہ باد میں مقیم اپنے شوہر کی طرف سے ایک خط ملا جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ وہ شاعرہ بانو کو طلاق دے رہے ہیں۔ تب سے وہ اپنے شوہر سے رابطہ کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنے بچوں کے لیے بہت پریشان ہیں کیوں کہ اس سے ان کی زندگی خراب ہو رہی ہے۔ پچھلے سال فروری میں شاعرہ بانو نے عدالت عظمی میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں تین طلاقوں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

تین طلاقوں کا رواج دہائیوں سے چل رہا ہے تاہم اس طرح کی یکطرفہ، فوری طلاق کا شریعہ یا قرآن میں کہیں ذکر نہیں۔ اسلامی علما کہتے ہیں کہ قرآن طلاق کے بارے میں بہت واضح ہے۔ طلاق دینے کے لیے کم سے کم تین ماہ کا وقت مقرر ہے تاکہ اس دوران میاں بیوی اس فیصلے کے بارے میں ٹھنڈے دل سے سوچ سکیں، اور ان میں مفاہمت کروائی جا سکے۔

خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر اسلامی ممالک میں، جن میں پاکستان اور بنگلہ دیش شامل ہیں، تین طلاقوں پر پابندی ہے۔

حالیہ عرصے میں انڈیا میں کئی مسلم شوہروں نے خطوط، فون، یہاں تک کہ ایس ایم ایس، سکائپ اور فیس بک کے ذریعے بھی اپنی بیویوں کو طلاق دی ہے۔

اسی بارے میں