زوماٹو: ’سترہ ملین صارفین کا ڈیٹا چوری‘

تصویر کے کاپی رائٹ ZOMATO
Image caption زوماٹو ایک نہایت ہی مقبول آن لائن اور موبائل سروس ہے۔

عالمی ریستوراں گائیڈ زوماٹو کا کہنا ہے کہ ہیکرز نے ان کے سترہ ملین صارفین سے متعلق معلومات چوری کر لی ہیں۔ زوماٹو ایک انڈین ڈیجیٹل کمپنی ہے جو صارفین کو کھانے پینے کی جگہوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ہیک کی وجہ سے بہت بڑی تعداد میں صارفین کی نجی معلومات چوری ہو گئی ہیں، جن میں ای میل ایڈریسز اور پاسورڈز بھی شامل ہیں۔ تاہم زوماٹو کا کہنا ہے کہ ادائیگیوں سے متعلق معلومات محفوظ ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے متاثرہ صارفین کے پاسورڈز بدل دیے ہیں، اور انہیں ایپ اور ویب سائٹ سے لاگ آؤٹ کر دیا ہے۔

زوماٹو ایک نہایت ہی مقبول آن لائن اور موبائل سروس ہے جس کے ذریعے صارفین دنیا کے کسی بھی شہر میں ریستوران، ان کے کھانوں کی تفصیل اور تصاویر، اور نائٹ لائف کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کا استعمال ہر ماہ ایک سو بیس ملین صارفین کرتے ہیں۔

کمپنی کے مطابق انہیں حال ہی میں پتہ چلا کہ کہ ان کی ڈیٹا بیس سے سترہ ملین ای میل ایڈریسز اور پاسورڈز چوری کیے گئے تھے۔ صارفین کے لیے ایک سکیورٹی نوٹس میں زوماٹو نے کہا کہ 'ویسے تو یہ پاسورڈز اینکرپٹ یا چھپائے ہوئے ہیں، یعنی آپ کے پاسورڈز اب بھی محفوظ ہیں، اور آپ چاہیں تو دیگر اکاؤنٹس کے لیے ان کا استعمال کر سکتے ہیں، لیکن اگر آپ ہماری طرح آن لائن سکیورٹی کے بارے میں بہت زیادہ محتاط ہیں تو ہماری تجویز یہ ہوگی کہ آپ اپنا پاسورڈ بدل دیں۔'

زوماٹو نے کہا ہے کہ یہ سب ایک اندرونی نقص کی وجہ سے ہوا ہے یعنی کسی شخص نے اس میں مدد کی ہے۔ زوماٹو کا صدر دفتر انڈیا کے دارالحکومت دلی کے قریب گڑگاؤں میں واقع ہے اور یہ دس ہزار شہروں میں ایکٹو ہے، جن میں لندن اور نیو یارک بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں