حریت کانفرنس کو ایک نئے بحران کا سامنا

کشمیر میں احتجاج تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کشمیر میں اب سکولوں کے بچے بچیاں بھی احتجاج میں حصہ لے رہے ہیں

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں جاری کشیدگی کے درمیان وہاں کی علیحدگی پسند قیادت تنازعات کا شکار ہو گئی ہے۔

جنوبی کشمیر میں سرگرم مسلح شدت پسندوں کی طرف سے علیحدگی پسند گروپوں کے اتحاد حریت کانفرنس کے سیاسی نظریات کو پہلے ہی چیلنج کیا گیا ہے۔

ابھی اس حوالے سے افہام و تفہیم جاری ہی تھا کہ بھارتی ٹی وی چینل ’انڈیا ٹوڈے‘ نے حریت کانفرنس کے ساتھ وابستہ بعض رہنماؤں کے خفیہ انٹرویوز اور سنسنی خیز انکشافات کو نشر کرنا شروع کیا ہے۔

ان انٹرویوز میں سید علی گیلانی کے ساتھی نعیم خان اور بعض دوسرے رہنماؤں کو یہ اعتراف کرتے دکھایا گیا ہے کہ پاکستان کی طرف سے انہیں بھاری رقومات فراہم کی جاتی رہی ہیں اور وہ تحریک کو جاری رکھنے کے لیے سکولوں میں آگ لگانے اور دوسری تخریبی کاروائیوں کو ضروری سمجھتے ہیں۔

ان الزامات کا حکومت ہند نے نوٹس لیتے ہوئے قومی تفتیشی ادارہ این آئی اے کی ٹیم کو سرینگر روانہ کیا ہے اور آج کل یہ ٹیم حریت لیڈروں سے پوچھ گچھ کررہی ہے۔ گو کہ حریت کانفرنس کی کال پر آج بھی ہڑتال اور احتجاج ہوتے ہیں، تاہم ان انکشافات سے نوجوانوں کا ایک طبقہ مایوس ہوگیا ہے۔

یونیورسٹی میں زیرتعلیم طالبہ محسنہ یاسین کہتی ہیں: ’جب لیڈر ایکسپوژ ہوجائے تو اس سے تحریک پر کوئی اثر نہیں پڑتا، ہمیں پتہ چل گیا کہ شہیدوں کے خون کا سودا کیا گیا ہے۔ تحریک تو جاری رہے گی، کیونکہ یہ تحریک ان لوگوں کے ہاتھ سے نکل چکی ہے۔‘

ایک اور طالب علم سالک پرویز نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ جس حریت کانفرنس کی کال پر آج بھی ہڑتال ہو رہی ہے، اس کا اس طرح بدنام ہونا اچھی بات نہیں ہے۔ سالک کہتے ہیں: ’حریت کانفرنس کشمیریوں کی آواز ہے۔ اگر کچھ گڑبڑ ہوئِی ہے تو اس میں چند ایک لیڈر ہونگے، لیکن ساری حریت کانفرنس کرپٹ نہیں ہوسکتی۔ جو ان الزامات سے پاک ہیں انہیں تحریک کو آگے بڑھانا چاہیے۔‘

رکن اسمبلی انجنئیر رشید نے دعوی کیا ہے کہ انڈیا ٹوڈے کے سٹنگ آپریشن کا مقصد کشمیریوں کو بدنام کرنا ہے تاہم انہوں نے حریت کانفرنس سے اپیل کی کہ داخلی سطح پر الزامات کی تحقیقات کرکے سچ عوام کے سامنے لایا جائے۔

دریں اثنا سید علی گیلانی نے حریت کانفرنس میں نعیم احمد خان کی رکنیت کو عارضی طور پر معطل کردیا ہے۔ گیلانی، میرواعظ عمر اور یاسین ملک گزشتہ سال سے متحدہ مزاحمتی فورم کے تحت مشترکہ طور پر سرگرم ہیں۔ تینوں رہنماوں نے بھارتی میڈیا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ حکومت اور سیکورٹی اداروں کی ایما پر حریت کانفرنس کو بدنام کررہے ہیں۔

اس سلسلے میں یاسین ملک کا ردعمل جاننے کے لیے انڈیا ٹوڈے کی ایک نامہ نگار علی الصبح ان کے گھر بغیر پیشگی اطلاع کے پہنچ گئیں تو انہوں نے اس پر احتجاج کیا۔ یاسین ملک کا کہنا ہے کہ ’ایک بیمار خاتون آسیہ اندرابی کو جموں کی جیل میں قید کیا گیا، گیلانی صاحب کو نظر بند کیا گیا، میرواعظ کو نماز پڑھنے کی اجازت نہیں اور مجھے روز جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ انڈین میڈیا کو یہ نہیں دکھتا۔‘ انہوں نے دعوی کیا کہ اگر دو کمروں والے مکان کے سوا ان کی ملکیت میں کچھ ثابت کیا گیا تو وہ تحریک سے ریٹائر ہوجائینگے۔

اس قدر سنگین الزامات کے باوجود یہاں کے حساس سیاسی اور سماجی حلقے کہتے ہیں کہ بھارتی میڈیا کی کشمیر میں ساکھ اس قدر خراب ہے کہ ایسے الزامات سے تحریک پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ صحافی اور تجزیہ نگار شہزاد ہمدانی کہتے ہیں : ’انڈین میڈیا کی مقبولیت اور اس کی اعتباریت یہاں صفر ہے۔ ظاہر ہے لوگوں ہوشیار ہیں۔ یہ نازک موقعہ ہے، لوگ سمجھتے ہیں حکومت ہند زیادتیوں کو چھپانے کا بہانہ تلاش کررہی ہے۔ یہ سب پروپیگنڈا ہے، لیکن حریت کانفرنس کو زیادہ محتاط اور شفاف رہنا ہوگا۔‘

قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل جنوبی کشمیر میں سرگرم مسلح کمانڈر ذاکر موسیِ نے کئی ویڈیو پیغامات میں حریت رہنماؤں کو خبردار کیا تھا کہ وہ تحریک کو سیکولر مقاصد کے لیے آگے نہ بڑھائیں کیونکہ بقول ان کے نوجوان اسلام اور شریعت کے نفاذ کی خاطر جانی قربانیاں دے رہے ہیں۔ اس بارے میں اپنے محتاط ردعمل میں متحدہ مزاحمتی فورم نے کہا تھا کہ فی الوقت بڑا مسئلہ کشمیریوں کے لیے حق خودارادیت کا حصول ہے۔

مبصرین کہتے ہیں کہ ایسے وقت جب پاکستان حریت رہنماؤں کو بھارت کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات میں شمولیت کی وکالت کررہا ہے، حریت کانفرنس پر لگ رہے پے در پے الزامات سے اس فورم کی سفارتی اہمیت کم ہورہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں