’لڑکیاں کبھی خواب دیکھنا نہ چھوڑیں‘

Image caption ام الخیر نے یہ تمام باتیں فیس بک لائیو کے دوران سہیل حلیم کو بتائیں

یہ ایک ایسی لڑکی کی غیرمعمولی کہانی ہے جس نے مشکل سے مشکل حالات میں بھی کبھی خواب دیکھنا نہیں چھوڑا، اور کسی خواب کو اتنا بڑا نہیں سمجھا کہ اسے پورا نہ کیا جاسکے۔

ام الخیر کا تعلق ایک انتہائی غریب خاندان سے ہے، بچپن میں ہی وہ اپنے والدین سے الگ ہوگئی تھیں کیونکہ وہ ان کی پڑھائی کے خلاف تھے، اور انہیں ایک ایسی بیماری لاحق ہے جس میں ہڈیاں انتہائی کمزور ہوجانے کی وجہ سے بہت آسانی سے ٹوٹ جاتی ہیں۔

لیکن اس کے باوجود ان کاعزم نہیں ٹوٹا۔ انہوں نے انڈیا کی سول سروسز کے لیے کوالیفائی کیا ہے۔

بی بی سی اردو کے ساتھ فیس بک لائیو میں شرکت کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’میرے والد سڑک کے کنارے کپڑے بیچتے تھے، اور میری سوتیلی ماں مجھے پڑھانے کے خلاف تھیں۔۔۔ لیکن میں نے اپنی ضد نہیں چھوڑی۔ بات یہاں تک پہنچی کہ مجھے ان سے الگ ہونا پڑا۔ اس وقت میں نویں کلاس میں تھی۔‘

وہ کہتی ہیں ’میرے گھروالوں کا نظریہ تھا کہ لڑکیوں کا زیادہ پڑھنا اچھا نہیں ہے، وہ بگڑ جاتی ہیں، ان کا یہ خیال تھا کہ تم چونکہ معذور ہو اس لیے اب گھر میں ہی کچھ کام کرو، اگر زیادہ پڑھو گی تو گھر کی دوسری لڑکیوں پر غلط اثر پڑے گا۔۔۔ گھر کی بدنامی ہوگی، اس طرح کے ماحول میں ان کو سمجھانا بہت مشکل تھا، وہ نہیں مانے۔ میرے والدین کبھی یہ نہیں سمجھ پائے کہ پڑھائی بھی کوئی ایسی چیز ہوسکتی ہے جس کی وجہ سے میں اتنی بغاوت کرستکی ہوں۔‘

ام الخیر کی ہڈیاں اتنی کمزور ہیں کہ اب تک 16 مرتبہ فریکچر ہو چکی ہیں اور انہیں ٹھیک کرنے کے لیے آٹھ مرتبہ آپریشن کرنے کی ضرورت پڑی ہے۔

انہوں نے ٹیوشن پڑھا کر کسی طرح اپنی تعلیم مکمل کی۔

Image caption ام الخیر نے سول سروسز کے امتحان میں 420ویں پوزیشن حاصل کی ہے

وہ کہتی ہیں ’اپنی بیماری اور غربت کے باوجود میں نے کبھی خواب دیکھنا نہیں چھوڑا، اور نہ کبھی کسی خواب کو اتنا بڑا سمجھا کہ اسے پورا نہ کیا جاسکے، میری زندگی کے مشکل حالات نے مجھے ایک زیادہ پر اعتماد اور بہتر انسان بنایا ہے اور میں خاص طور پر لڑکیوں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہوں کہ کوئی خواب اتنا بڑا نہیں ہوتا کہ اسے پورا نہ کیا جاسکے۔‘

ام الخیر نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ کچی بستیوں میں گزارا جہاں برسات میں ’نالے کا پانی ہماری جھگی میں آجاتا تھا۔۔۔ہمارا گھر ایک جھگی تھی، بانس سے بنا ہوا گھر، اور بانس کی چٹائیوں سے بنی ہوئی چھت جس پر پلاسٹک کی چادر پڑی ہوئی تھی جس میں جگہ جگہ چھید تھے۔۔۔ جب بارش ہوتی تو ہم الگ الگ جگہ برتن رکھ دیتے تھے کیونکہ آدھا فرش مٹی کا تھا، اور پوری جھگی میں کیچڑ ہو جاتی تھی۔‘

ام الخیر خاص طور پر ان بچوں کے لیے کام کرنا چاہتی ہیں جو کسی معذوری کا شکار ہیں کیونکہ ان کے بقول ’مجھے معلوم ہے کہ انہیں کن مشکلات کاسامنا ہوتا ہے‘۔

سول سروسز کے امتحان میں ام الخیر نے 420 ویں رینک حاصل کیا ہے لیکن وہ ہنستے ہوئے کہتی ہیں کہ اللہ کو یہ ہی منظور تھا ورنہ ’میری رینک ایک نمبر کم یا زیادہ بھی ہوسکتی تھی‘۔

سول سورسز کے لیے کوالیفائی کرنے کے بعد انہوں نے اپنے والدین سے بات کی تو وہ بہت خوش ہوئے ’لیکن انہیں یہ نہیں معلوم کہ سول سروس کیا ہوتی ہے۔‘

انڈیا میں اس سال گیارہ لاکھ سے زیادہ طلبہ نے سول سروسز کے امحتان میں حصہ لیا تھا جن میں سے ایک ہزار سے کم کو انڈین فارن سروس، ایڈمنسٹریٹو سروس اور پولیس سروس کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔