سید علی گیلانی کے داماد تفتیشی ایجنسی کے حوالے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سید علی گیلانی کے داماد سمیت سات افراد کو مختلف جگہوں سے گرفتار کیا گیا ہے

انڈیا میں ایک خصوصی عدالت نے حریت کانفرنس کے رہنما سید علی شاہ گیلانی کے داماد سمیت سات مبینہ کشمیری علیحدگی پسندوں کو دس دن کے لیے قومی تفتیشی ایجنسی یا این آئی اے کی تحویل میں دے دیا ہے۔ ان لوگوں پر دہشتگردی کی سرگرمیوں کے لیے پاکستان سے غیر قانونی طور پر فنڈز حاصل کرنے کا الزام ہے۔

ملزمان کو کل کشمیر اور دلی سے گرفتار کیا گیا تھا اور ان میں حریت کانفرنس کے رہنما سید علی شاہ گیلانی کے داماد الطاف احمد اور مسٹر گیلانی کے ایک معاون ایاد اکبر خاندے بھی شامل ہیں۔

قومی تفتیشی بیورو کے مطابق گرفتار شدگان میں راجہ معراج الدین، نعیم خانت پیر سیف اللہ ، الطاف ہلالی، اور فاروق احمد ڈار بھی شامل ہیں۔

ان لوگوں کو آج دلی کی ایک خصوصی عدالت میں پیش کیاگیا جس نے انہیں مزید پوچھ گچھ کے لیے چار اگست تک کےلیے این آئی اے کی تحویل میں دیدیا ہے۔ عدالت کی کارروائی بند کمرے میں ہوئی۔ ان لوگوں کے خلاف مجرمانہ سازش اور ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے کے مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔

ملزمان کے وکیل نے کہا کہ ریمانڈ کی کوئی ضرورت نہیں تھی کیونکہ این آئی اے کو جو بھی معلومات چاہیے تھی وہ پہلے ہی ان لوگوں سے حاصل کی جاچکی ہے لیکن عدالت نے انکی دلیل کو مسترد کر دیا۔

گرفتاریوں کے بارے میں وفاقی وزیر جتیندر سنگھ نے کہا کے آگے بھی اسی قسم کی فیصلہ کن کارروائی جاری رہے گی۔

جموں کشمیر کے سابق وزیراعلی فاروق عبداللہ نے کہا کہ این آئی کو یہ تو معلوم کرنا ہی چاہیے کہ پیسہ کہاں سے آیا اور کس کام میں استعمال ہوا لیکن ساتھ ہی ان کے بقول حریت کو حکومت سے ملنے والی فنڈنگ پر بھی روشنی ڈالنی چاہیے۔

این آیی اے کے سربراہ الوک متل کے مطابق ان کے پاس اس بات کےشواہد موجود ہیں کہ فنڈنگ میں حریت کی قیادت بھی ملوث ہے اور ان کے خلاف بھی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

یہ خبر اخبارات میں کافی نمایاں طور پر شائع ہوئی ہے۔ اخبار دی ہندو کا کہنا ہے کہ این آئی اے صرف فنڈنگ کے کیس تک محدود نہ رہ کر وادی میں ہونے والی کارروائیوں کی وسیع تر سازش کو بے نقاب کرنا چاہتی ہے جبکہ ٹائمز آف انڈیا نے ایک اعلی افسر کے حوالے سے لکھا ہے کہ حکومت ایسے لوگوں (حریت) سے کیسے بات کرسکتی ہے جو علیحدگی پسندی اور تشدد کی سیاست کے لیے کشمیری عوام کا استحصال کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں