چینی میڈیا: جنگ کے 55 سال بعد بھی انڈیا نے سبق نہیں سیکھا

انڈیا چین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا اور چین کے درمیان سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بین الاقوامی خاص طور پر چین کے میڈیا نے انڈیا کے موقف پر سوال اٹھائے ہیں۔

چینی میڈیا نے انڈیا میں انگریزی اخبار دا ٹائمز آف انڈیا میں شائع ایک مضمون کا حوالہ دیا ہے جس کی ہیڈ لائن ہے ’ڈوکلام تنازع: نارازگی کے باوجود چین جنگ نہیں چاہتا، انڈیا کو یقین‘۔

اس آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ ’انڈیا کے دفاعی ادارے کو یقین ہے کہ تمام اشتعال انگیز باتوں کے باوجود چین جنگ کا خطرہ مول نہیں لے گا۔ یہاں تک کہ کوئی چھوٹی موٹی فوجی کارروائی بھی نہیں کرے گا۔‘

انڈیا اور چین ٹکراؤ کے راستے پر

پہاڑ ہلانا آسان ہے، چین کو ہلانا مشکل: چین

چینی اخبار گلوبل ٹائمز کی ویب سائٹ پر اس سے متعلق مضمون کی ہیڈلائن کے ساتھ لکھا ہے کہ ’چین جنگ نہیں چھیڑے گا یہ طے ہے، کیا انڈیا منتر پڑھ رہا ہے؟‘

مضمون میں لکھا ہے ’ہم حیران ہیں کہ انڈین دفائی ادارے میڈیا میں دعوے کر رہی ہیں کہ چین کوئی فوجی کارروائی نہیں کرے گا۔ دلی خود بدترین حالات کے لیے تیار نہیں ہے لیکن انڈیا کے عوام کو بہترین دنوں کے لیے تیار کرنے کی کوش کر رہا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کیا انڈیا بھول گیا ہے؟

مضمون میں یہ بھی لکھا ہے کہ جنگ کے 55 برس بعد بھی انڈیا بہت بھولا ہے۔ نصف صدی گزرنے کے بعد بھی ان لوگوں نے سبق نہیں سیکھا ہے۔

چین کے سرکاری اخبار نے لکھا ہے ’انڈیا کو لگتا ہے لڑائی میں امریکہ ان کی مدد کرے گا اور چین پر نفسیاتی دباؤ ڈالے گا۔ شاید ان کو سِنو ۔ یو ایس گریٹ پاور گیم کے بارے میں کچھ نہیں معلوم۔ انڈیا شاید چین کے خلاف لڑائی میں سپائڈر مین، بیٹ مین اور کیپٹن امریکہ سے مدد کی امید لگائے بیٹھا ہے۔‘

انڈیا،چین تنازع: کب کیا ہوا؟

کیا چین اور انڈيا جنگ کے دہانے پر ہیں؟

پاکستانی میڈیا کا دعویٰ

چین میں پاکستانی اخبار دا نیوز انٹرنیشنل کی اس خبر کو بھی کوریج دی گئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انڈیا نے آخرکار چین کے آگے ہتھیار ڈال دیے اور چھہ اگست کو ڈوکلام سے فوج ہٹا لی۔ اخبار نے دعویٰ کیا کہ انڈیا نے ڈوکلام سے اپنی زیادہ تر فوج ہٹا لی اور سرحد پر صرف پچاس فوجی ہی تقعینات ہیں۔

اس سے قبل چینی وزارت دفاع کے ترجمان نے بیان دیا تھا کہ دو اگست تک ڈوکلام میں انڈین فوجیوں کی تعداد 400 سے کم ہو کر 48 ہو گئی تھی۔ تاہم انڈین اہلکاروں نے ان خبروں کی تردید کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کیا کہتے ہیں چین کے شہری

بی جے پی کے اہلکاروں کی طرف سے انڈیا میں چینی اشیا کے بائیکاٹ کی اپیل کا چین میں خوب مزاق اڑایا جا رہا ہے۔ چینی میڈیا میں بھی اس موضوع کو توجہ دی گئی ہے۔

گلوبل ٹائمز نے لکھا ہے ’کچھ اڈین ادارے ان انڈین فوجیوں کے لیے جھنڈے لہرانے اور جنگ کی نعرے لگانے سے بعض نہیں آ رہے ہیں جو غیر قانونی طریقے سے سرحد پار کر گئے اور اشتعال انگیز بیان دے رہے ہیں۔‘

انڈیا چین تنازع، اقوام عالم کی دلچسپی

’دو ہفتوں میں انڈیا کے خلاف چین کی جنگی کارروائی‘

ایک چینی نے لکھا ’چین میں بننے والا سامان نہیں خریدیں گے؟ کیا آپ کے پاس کوئی اور راستہ ہے؟‘

ایک دوسرے چینی نے لکھا کہ ’انڈیا اور دیگر ہمسایہ ممالک کے تاجر چینی اشیا اس لیے خریدتے ہیں کیوںکہ یہاں کا سامان سستہ اور اچھے معیار کا ہے۔ آپ اپنا راستہ خود کاٹ رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں