پاکستانی اور انڈین قومی ترانوں کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

ترانہ تصویر کے کاپی رائٹ Youtube/Voice of Ram
Image caption پاکستانی گلوکارہ نتاشہ بیگ بھی اس کاوش کا حصہ ہیں

پاکستان اور انڈیا پر انگریزوں کی حکمرانی سے آزادی کے ستر مکمل ہو گئے ہیں لیکن ان دونوں ممالک میں کئی اختلافات ہیں جن میں کشمیر کے علاقے پر ملکیت سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

لیکن اس سال اگست میں چند گلوکار اور موسیقاروں کو امید ہے کہ ایک گانے کی مدد سے وہ شاید ان دو پڑوسیوں کی سردمہری کو کم کر سکیں اور تعلقات میں بہتری لا سکیں۔

٭ تقسیم کے 70 سال: بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

'امن کا ترانہ' کے عنوان سے اس گانے میں پاکستان اور انڈیا کے گلوکاروں نے حصہ لیا ہے اور اس گانے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ان دونوں ملکوں کے قومی ترانے کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر گایا گیا ہے۔

فیس بک پر امن پسند گروپ 'وائس آف رام' نے اسے جاری کیا ہے اور سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے اس کاوش کی تعریف کی ہے۔

گانے کی ویڈیو کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے: 'جب ہم اپنے سرحدیں فن کے لیے کھول دیتے ہیں تو امن خود بخود آجاتا ہے۔'

اس کے بعد کئی گلوکاروں نے سٹوڈیو اور مختلف جگہوں پر انڈیا کا قومی ترانہ 'جن گن من' اور پاکستانی ترانہ 'پاک سرزمین' گایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Youtube/Voice of Ram
Image caption دونوں ملکوں کے کئی گلوکاروں نے ایک دوسرے کے ترانے گائے

اس گانے کی ویڈیو ان الفاظ پر اختتام پذیر ہوئی: 'امن کے لیے ساتھ کھڑے ہوں۔'

چند روز قبل 11 اگست کو 'وائس آف رام' نے ایک اور ویڈیو جاری کی تھی جس میں انڈین گلوکاروں کے گروپ واکس کورڈ نے پاکستانی ترانہ بغیر کسی دھن کے گایا اور اس کے بارے میں کہا کہ یہ ترانہ ' ایمان، فخر، طاقت اور ترقی کے بارے میں ہے'۔ اس ویڈیو کو فیس بک پر 468000 مرتبہ دیکھا گیا۔

وائس آف رام کے سربراہ، فلم ساز رام سبرامنین نے انڈین ویب سائٹ کیچ نیوز کو بتایا کہ انھوں نے یہ ویڈیوز اس لیے بنائیں کیونکہ 'بہت سے لوگ امن کے بارے میں بات کرنے سے خوفزدہ ہیں اور یہ ناقابل فہم ڈر ہے۔'

انھوں نے مزید کہا: 'میرے لیے یہ ویڈیوز ایک نئی شروعات کی مانند ہیں اور امن کی جانب ایک چھوٹا سے قدم ہے۔'

فیس بک پر ایک انڈین صارف کلپیش پٹیل نے وائس آف رام کی ویڈیو پر لکھا: 'میں امید کرتا ہوں کے یہ پاکستان میں وائرل ہو جائے۔ انڈیا میں بہت سے لوگ ہیں جو امن چاہتے ہیں اور یہ جشن آزادی کا بہترین تحفہ ہے۔'

پاکستان میں کراچی سے اساما فاروقی نے جواب میں لکھا: 'یہ پاکستان میں وائرل ہو گیا ہے۔ یہ بہت ہی خوبصورت ہے اور اسے سنتے ہوئے سکون کا احساس ہوتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے بہت سا پیار۔'

اسی بارے میں