جنسی زیادتی کی شکار 10 سالہ بچی ماں بن گئی

تصویر کے کاپی رائٹ iStock

جنسی زیادتی کی شکار ہوئی ایک بچی نے آج انڈیین ریاست پنجاب کے دارالحکومت چنڈی گڑھ میں بچی کو جنم دیا ہے۔ چنڈی گڑھ کے سرکاری ہسپتال میں پیدا ہوئی نوزائیدہ کا وزن ڈھائی کلو ہے۔

ہسپتال کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ماں اور بچی دونوں صحت مند ہیں۔

اس سے قبل جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی اس بچی کے رشتہ داروں نے سپریم کورٹ سے بچی کے اسقاط حمل کی اجازت مانگی تھی۔ لیکن سپریم کورٹ نے یہ کہتے ہوئے اجازت نہیں دی کہ ایسا کرنے سے ماں اور بچے دونوں کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

اسقاط حمل کی اجازت نہ ملی، دس سالہ بچی ماں بننے پر مجبور

انڈیا میں ریپ کے بڑھتے واقعات

سپریم کورٹ نے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر فیصلہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسقاط حمل نہ تو خود اس بچی کے لیے ٹھیک ہوگا نہ ہی اس کی کوکھ میں پل رہے بچے کے لیے۔

دس سال کی بچی کے ساتھ مبینہ طور پر اس کے چچا نے ریپ کیا تھا۔ انڈیا میں قانونی طور پر 20ہفتے کے اندر ہی اسقاط حمل کی اجازت ہے۔

خبر رسان ادارے پی ٹی آئی کے مطابق ماں بننے والی اس بچی کو نہیں معلوم کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ اسے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ وہ حاملہ تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ SCIENCE PHOTO LIBRARY

بچی کو اس کے والدین نے بتایا ہے کہ پیٹ میں کسی بیماری کی وجہ سے ڈاکٹروں نے اس کا آپریشن کیا ہے۔ بچی کے والد نے ہسپتال سے درخواست کی ہے کہ وہ نوزائیدہ کو کسی کو گود دلوانے میں مدد کرے۔

چچا کی زیادتیوں کا شکار ہونے والی بچی کو جب پیٹ میں درد کی شکایت رہنے لگی تو والدین نے ہسپتال میں داخل کروایا تھا۔ اسی دوران ڈاکٹروں کو معلوم ہوا کہ وہ 30 ہفتوں سے حاملہ تھی۔

’انڈیا میں ریپ کے جھوٹے دعوے ایک مسئلہ‘

اسی بارے میں