معمولی جھگڑا، تلوار سے لڑکی کا ہاتھ کاٹ دیا

متاثرہ لڑکی تصویر کے کاپی رائٹ SHARAD
Image caption لڑکی کے مامو سشیل کومار مشر نے پولیس میں ایف آئی آر درج کروائی ہے

انڈین ریاست اتر پردیش کے لکھیم پور ضلع میں ایک شخص نے 13 سالہ لڑکی پر تلوار سے حملہ کر کے اس کے ایک ہاتھ کی ہتھیلی کاٹ دی۔ متاثرہ کے جسم پر اور بھی کئی بڑے زخم آئے ہیں۔ اس کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے اور ہسپتال میں اس کا علاج چل رہا ہے۔

لکھیم پور کے پولیس سپریٹینڈینٹ ایس چینپا نے بی بی سی کو بتایا کہ مشتبہ شخص کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے اور ہسپتال میں لڑکی کے علاج کے لیے ہر ممکن مدد کی جا رہی ہے۔

جنسی زیادتی کی شکار 10 سالہ بچی ماں بن گئی

جس وقت لڑکی پر حملہ ہوا وہ اپنی نابینا والدہ کے ساتھ اپنے ماموں کے گھر جا رہی تھی۔

پولیس نے بتایا کہ ابھی تک حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق حملے کی وجہ موبائل چارجر یا سم پر جھگڑا تھا۔ اسی بحث کے بعد حملہ آور نے لڑکی پر تلوار سے حملہ کیا۔ لیکن پولیس دیگر پہلوؤں کی بھی تفتیش کر رہی ہے کیوں کہ شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑکی کو پہلے بھی پریشان کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

جن کپڑوں میں جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گيا

تصویر کے کاپی رائٹ Sharad
Image caption لڑکی کا علاج لکھنؤ کے کنگ جارج میڈیکل کالیج کے ہسپتال میں کیا جا رہا ہے

مخالفت پر ہوا حملہ

لکھیمپور شہر کے بابو رام سراف نگر میں رہنے والی متاثرہ جب اپنی ماں کے ساتھ گزر رہی تھی تو مشتبہ لڑکے نے اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کی۔

بتایا جا رہا ہے کہ لڑکی نے جب اس پر اعتراض کیا تو لڑکا تلوار لے کر آ گیا اور سڑک پر لڑکی کے پیچھے دوڑنے لگا۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ اسی دوران اس نے لڑکی پر تلوار سے حملہ کر دیا۔ بعد میں مقامی لوگوں نے ہی لڑکے کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔

قریب ہی رہنے والے لڑکی کے ماموں سوشیل کمار ترویدی کی شکایت پر پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی ہے۔

’اعتماد کی بحالی میں کئی سال لگ گئے‘

سوشیل کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ لڑکی اپنی ماں کے ستاھ فون کی بیٹری چارج کرنے کے لیے ان کے گھر آ رہی تھی۔ جس لڑکے کو پولیس نے گرفتار کیا ہے وہ پہلے بھی کئی بار لڑکی کے ساتھ چھیڑ خانی کر چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کی حملہ آور شخص کے ساتھیوں نے پچھلے دنوں لڑکی کے بھائی کو بھی مارا پیٹا تھا۔ جس کے بعد بھائی کو دوسرے شہر بھیج دیا گیا جہاں وہ مزدوری کر رہا ہے۔

’خواتین کا جنسی رویہ ثقافتی اقدار پر زیادہ منحصر‘

متاثرہ لڑکی کے والد کافی دنوں سے بیمار ہیں اور ان دنوں اپنے گاؤں میں رہتے ہیں۔ متاثرہ لڑکی اپنی چھوٹی بہن اور ماں کے ساتھ شہر میں رہتی ہے۔ لڑکی کا علاج لکھنؤ کے کنگ جارج میڈیکل کالیج کے ہسپتال میں کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں