نوٹوں پر پابندی کے بارے میں مودی کے دعوے اور حقیقت

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا کے مرکزی بینک نے مالی سال 2016-2017 کے بارے جائزہ رپورٹ جاری کی۔

اس رپورٹ میں نوٹوں پر پابندی کے بارے میں بھی اعدادوشمار شائع کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کی 15 اگست کی تقریر میں کیے جانے والے دعووں پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

2016 کے اواخر میں نوٹوں پر پابندی کے بعد نریندر مودی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں نے ملک سے صرف پچاس دن مانگے ہیں۔ اس کے بعد کہیں کوئی کمی رہ جائے تو ملک جو سزا دے گا، میں اسے بھگتنے کے لیے تیار ہوں۔‘

نوٹوں پر پابندی کو اب ایک سال ہونے والا ہے۔

سوال یہ ہے کہ 8 نومبر 2016 کو نوٹوں پر پابندی کے اعلان کے بعد کئی موقعوں پر وزیر اعظم مودی نے پابندی کی وجوہات اور اہداف وضع کیے تھے کیا وہ صحیح ثابت ہوئے ہیں؟

نوٹوں پر پابندی کے بارے میں وزیر اعظم مودی کے دعوے:

1۔ غیر قانونی طریقے سے کمائے پیسے پر لگام لگے گی

نوٹوں پر پابندی کے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے غیر قانونے طریقے سے کمائے پیسے کی روک تھام کی بات کی تھی۔ اس کے بعد 15 اگست 2017 کے اپنے خطاب میں انھوں نے ایک غیر سرکاری تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ 3 لاکھ کروڑ روپے، جو پہلے کبھی بینکنگ نظام کا حصہ نہیں تھے اب بینکوں میں آ گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مگر آر بی آئی کی رپورٹ کے مطابق اس منصوے کے تحت جن 500 اور 1000 روپے کے نوٹوں پر پابندی لگائی گئی تھی ان میں سے 99 فیصد بینکنگ نظام میں واپس لوٹ آئے ہیں۔ حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہے تو وہ غیر قانونی دولت کہاں ہے جس کی بات کی گئی تھی۔

اس بارے میں سابق وزیر خزانہ پی چدام برم نے کہا ہے کہ اگر 99 فیصد نوٹ قانونی طریقے سے بدل گئے تو اس پابندی کا فیصلہ کیا غیر قانونی دولت کو قانونی بنانے کے لیے کیا گیا تھا؟

2۔ جعلی نوٹوں کا چلن ختم ہو جائے گا

نوٹوں پر پابندی کے فائدے بیان کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ اس سے جعلی نوٹوں کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ آر بی آئی کو اس اقتصادی سال میں 762072 جعلی نوٹ ملے، جن کی مالیت 43 کروڑ روپے تھی۔ اس سے پچھلے سال 632926 جعلی نوٹ ملے تھے۔ یہ فرق بہت زیادہ نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

3۔ بدعنوانی کم ہو گی

وزیر اعظم نے اس منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے اسے بدعنوانی، غیر قانونی دولت اور جعلی کرنسی کے خلاف جنگ کا حصہ بتایا تھا۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا ہے کہ نوٹوں پر پابندی کا مقصد پیسے کو ضبط کرنا نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مرکزی مقصد انڈیا کی معیشت کو کیش کریڈٹ سے ڈِیجالائیزیشن کی جانب لانا ہے۔

4۔ دہشت گردی اور ماؤ نواز باغیوں کی کمر ٹوٹ جائے گی

وزیراعظم مودی نے یہ بھی کہا تھا کہ اس سے دہشت گردی اور ماؤ نواز باغیوں کی کمر ٹوٹ جائے گی کیونکہ انھیں جعلی کرنسی اور غیر قانونی دولت سے مدد ملتی ہے۔

مگر حقیقت میں ایسا کچھ ہوتا نظر نہیں آیا۔ چونکہ اس پابندی کے بعد پکڑے گئے جعلی نوٹوں کی تعداد پچھلے سال کے مقابلے میں کچھ ہی زیادہ ہے اس لیے حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ اس سے دہشت گردی یا ماؤنواز تحریک میں کمی آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alok Putul

تاہم وزیر خزانہ ارون جیٹلی کا دعویٰ ہے کہ اس کا اثر کشمیر میں صاف دیکھا جا رہا ہے جہاں ان کے بقول سنگ باز بےاثر ہو گئے ہیں۔

5۔ کسانوں، کاروباری طبقے اور محنت کشوں کو فائدہ ہوگا

دسمبر 2016 میں وزیر اعظم نریندر مودی نے نوٹوں پر پابندی کو ایک ’یگیہ‘ جو کہ ایک ہندو مذہبی تقریب ہوتی ہے، قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس فیصلے سے کاشت کاروں، کاروباری طبقے اور محنت کشوں کو فائدہ ہوگا۔ لیکن اس تمام برادریوں کی اکثریت نے اس منصوبے پر تنقید کی ہے۔

ساتھ ہی متوسط طبقے کو فائدہ ملنے کا بھی دعوی کیا گیا تھا۔ لیکن اس منصوبے سے ان تمام طبقوں کو کس لحاظ سے کیا فائدہ ہوا ہے حکومت یہ واضح کرنے میں ناکام رہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں