ایودھیا نزاع میں ہندو فتح کے، مسلمان انصاف کے منتظر

ہندو مسلم تنازع بابری انہدام کے بعد سے بھڑکا ہے۔ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بابری مسجد کے انہدام کے 25 برس پورے ہو رہے ہیں

فتح اور انصاف دو الگ لفظ ہیں اور ان کے معنی بھی مختلف ہیں۔ ان دونوں الفاظ کا تعلق دو مختلف مقدمات سے ہے۔ ایک ہے ایودھیا کی متنازع زمین کے مالکانہ حق کا مقدمہ اور دوسرا ہے بابری مسجد گرائے جانے کی مجرمانہ سازش کا مقدمہ۔

بابری مسجد کے انہدام کے 25 برس پورے ہو رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ مالکانہ حق کے مقدمے کی سنوائی باضابطہ طور پر کی جائے گی۔ تاہم مجرمانہ سازش کا مقدمہ لکھنؤ میں اپنی رفتار سے چلتا رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں

’صرف بابری مسجد ہی نہیں بلکہ بہت کچھ ٹوٹا‘

'بابری مسجد کا تنازع عدالت سے باہر حل کیا جائے'

سپریم کورٹ جب فیصہ کرے گی تب کرے گی، لیکن حکمراں جماعت بی جے پی کے ’قابل احترام‘ سرپرست، آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت فیصلہ سنا چکے ہیں کہ مندر وہیں بنے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کہہ چکے ہیں کہ مندر اسی جگہ بنے گا

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس اے ایم احمدی نے کہا ہے کہ موہن بھاگوت عدالت کی کارروائی کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چند شیعہ رہنماؤں نے کہا ہے کہ ایودھیا میں مندر بنے اور لکھنؤ میں مسجد۔ دیگر مسلمان رہنماؤں، خاص طور پر سنی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس بیان کی ہدایات کہیں اور سے آ رہی ہیں۔ بات اتنی سی ہے کہ ایودھیا کا معاملہ جتنا مذہب سے جڑا ہے اس سے کہیں زیادہ سیاست سے جڑا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایودھیا کا معاملہ جتنا مذہب سے جڑا ہے اس سے کہیں زیادہ سیاست سے جڑا ہے

ہندو ووٹروں سے کیا گیا آدھا وعدہ

بی جے پی نے ہندو ووٹروں سے جو وعدہ کیا تھا وہ آج بھی ادھورا ہے۔ حکمران جماعت بی جے پی نے وعدہ کیا تھا کہ اگر اکثریت والی حکومت بنی تو رام مندر بنوائے گی۔ مودی حکومت کے پہلے تین برسوں میں ترقی کے نعروں پر زور رہا۔ اب ایک مرتبہ پھر مذہبی تلوار کی دھار تیز کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

بابری مسجد کیس میں اڈوانی اور جوشی پر مقدمہ چلے گا

بی جے پی کے 3 رہنماؤں کے خلاف فرد جرم عائد

مسجد گرائے جانے کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم نرسمہا راؤ نے اسی جگہ مسجد بنانے کی بات کہی تھی۔ آج اس وعدے کا نام لینے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ نہ کانگریس میں اور نہ ہی کسی دوسری جماعت میں۔

سپریم کورٹ میں مالکانہ حق کے مقدمے کی سنوائی گجرات انتخابات سے ٹھیک پہلے شروع ہو رہی ہے۔ کوئی اس بات سے انکار نہیں کرتا کہ یہ معاملہ کسی نہ کسی طرح سنہ 2019 کے عام انتخابات میں بھی گرم رہے گا۔ شاید سب سے زیادہ گرم۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سپریم کورٹ میں مالکانہ حق کے مقدمے کی سنوائی گجرات انتخابات سے ٹھیک پہلے شروع ہو رہی ہے

رشتوں میں بڑا ٹرننگ پوائنٹ

اس پر بحث یا شک کی گنجائش نہیں ہے کہ آزادی کے بعد سے جمہوری بھارت میں ہندو مسلمان رشتوں میں بابری انہدام سے بڑا ٹرننگ پوائنٹ کوئی اور نہیں ہے۔ زیادہ تر مسلمان اسے ہندوؤں سے ملے گہرے زخم کی طرح دیکھتے ہیں جو آج بھی رس رہا ہے۔

بابری انہدام کے دوران اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ نے عدالت سے وعدہ کیا تھا کہ ان کی سرکار بابری مسجد کی حفاظت کرے گی۔ گاندھی اور نہرو نے مسلمانون سے وعدہ کیا تھا کہ وہ بھارت میں برابری کے ساتھ رہ سکیں گے۔ یہ دونوں وعدے مسجد کے ملبے تلے دبے پڑے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ایودھیا کا تنازع زندہ کرنے کا الزام

مغل اعظم، تاج واپس چاہیے

ملک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں مسلمانوں کو عدالت سے انصاف کی توقع ہے جب کہ ہندو اپنی فتح کے اعلان کا انتظار کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کا خیال ہے کہ حکومت نہ صحیح عدالت تو سیکیولر ہے۔

ہندو مذہبی تعصب رکھنے والوں کی توقعات بالکل واضع ہیں۔ مندر سمجھوتے سے بنے یا عدالتی فیصلے سے یا پھر ویسے ہی بنے جیسے بابری مسجد کا انہدام ہوا۔ لیکن مندر وہیں بنائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مسلمانوں کو عدالت سے انصاف کی توقع ہے جب کہ ہندو اپنی فتح کے اعلان کا انتظار کر رہے ہیں.

موجودہ حالات

آج ملک کے حالات چھ دسمبر 1992 سے بہت مختلف ہیں۔ حکمران جماعت متنازع زمین پر رام مندر بنانے کا وعدہ کر چکی ہے۔ اتر پردیش میں گورکھ ناتھ مٹھ کے مہنت یوگی آدتیہ ناتھ کی حمکوت ہے۔ جب ایک فلم پر اتنا بوال کھڑا کیا جا سکتا ہے تو مندر پر کیا رد عمل ہوگا، اس کا صرف تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔

اسی برس مارچ میں سپریم کورٹ کے اس وقت کے جج جے ایس کھیہر نے کہا تھا کہ اس معاملے کو آپس میں مذاکرات سے سلجھا لینا چاہیے۔ بھارت کے اس دور کے چیف جسٹس نے کہا تھا وہ مذاکرات کے لیے ثالثی کر سکتے ہیں۔ ان کی اس پیشکش کا لال کرشن آڈوانی سمیت بی جے پی کے کئی رہنماؤں نے خیر مقدم کیا تھا۔

اس وقت بھی قانون اور انصاف کی سمجھ رکھنے والوں نے پوچھا تھا کہ جب مجرمانہ معاملے میں انصاف نہیں ہوا تو سمجھوتا کیسے ہو سکتا ہے۔ لال کرشن آڈوانی اس معاملے کے ملزمان میں سے ایک ہیں۔ ان کے انڈیا کے صدر نہ بن سکنے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے۔

آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس منموہن سنگھ لبرہان نے لمبی تفتیش کے بعد سنہ 2009 میں ایک رپورٹ دی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ بابری مسجد کا انہدام ایک گہری سازش تھی جس میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے کئی بڑے رہنما شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت کے کروڑوں مسلمان عدالتی نظام کے بارے میں کیا سوچتے ہیں یہ پورے ملک کے لیے فکر کی بات ہونی چاہیے

انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں

انڈین ایکسپریس اخبار سے بات کرتے ہوئے جسٹس لبرہان نے کہا تھا کہ مالکانہ حق کا فیصلہ پہلے کرنا ٹھیک نہیں ہوگا۔ اس سے مجرمانہ معاملے پر اثر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مجرمانہ معاملے سے نپٹنا ضروری ہے کیوں کہ وہ لوگ ابھی زندہ ہیں جنہوں نے یہ جرم ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔

جسٹس منموہن لبرہان نے اسی انٹرویو میں ایک بہت اہم بات کہی تھی۔ وہ یہ کہ ’عدلیہ نظام میں مسلمانوں کا یقین بحال کیا جانا چاہیے لیکن مشکل یہ ہے کہ ایسی تنظیمیں بھی نہیں ہیں جو ایسا کر رہی ہوں۔‘

یہ بھی پڑھیں

اترپردیش کا مسلمان اتنا پریشان کیوں؟

ہجوم کے ذریعے تشدد کا فروغ بہت خطرناک

تاج محل اور ٹرک کی بتی

عدالت اپنا کام اپنے طریقے سے کرے گی۔ اس پر کسی طرح کی تنقید مقصد نہیں ہے۔ لیکن بھارت کے کروڑوں مسلمان عدالتی نظام کے بارے میں کیا سوچتے ہیں یہ پورے ملک کے لیے فکر کی بات ہونی چاہیے یا نہیں؟

امریکہ میں سیاہ فام افراد کے حقوق کے لیے لڑنے والے مارٹن لوتھر کنگ نے کہا تھا کہ ‘انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں ہے۔‘ ان کی یہ بات دنیا کے کسی بھی کونے کی لیے سچ ہے۔

اسی بارے میں