انڈیا: ’کپڑے پھاڑ کر گھسیٹا، اس کے بعد مر جانا ہی بہتر ہوتا‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’مجھ پر جو بیتی میں ہی جانتی ہوں‘

انڈیا کے کئی علاقوں میں آج بھی ایک ایسی روایت زندہ ہے جو متاثرہ خواتین کی زندگی اتنی مشکل کر دیتی ہے کہ کچھ خواتین زندہ رہنے کی خواہش ہی کھو بیٹھتی ہیں۔

کئی ریاستوں میں خواتین کو ’ڈائن‘ قرار دیے جانے کی روایات ہے۔ اس کا اثر کچھ ایسا ہوتا ہے کہ صرف متاثرہ شخص ہی نہیں بلکہ ان کے پورے خاندان کی زندگی بدل جاتی ہے۔

راجستھان کے بھیلواڑا کی اسی برس کی رام کنیا دیوی کو ان کے گھر کے قریب ایک کمرے میں تین ہفتے کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ ان کا قصور یہ تھا کہ گاؤں والے انہیں ڈائن سمجھتے تھے۔

یہ بات رواں برس کی ہے۔ گاؤں کے ایک اثر و رسوخ والے خاندان کی ایک لڑکی بیمار ہو گئی۔ رام کنیا کا گھر ان کے گھر کے قریب تھا۔ اس لڑکی کے خاندان کے ایک پیر نے اس کی بیماری کی وجہ یہ بتائی کہ ’اس پر رام کنیا کا اثر ہے‘۔ ان کے مطابق اس کا مطلب تھا کہ رام کنیا ایک ڈائن ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’مرد خواتین سے بہتر ہیں‘ کیا بچے یہی پڑھتے ہیں؟

’دوسری بیوی‘ کی ویب سائٹ سے خواتین کو بھی ’فائدہ‘

خواتین کو دانستہ طور پر ایڈز کا وائرس منتقل کرنے پر سزا

خود پر جو گزری ہے اس کے بارے میں بتاتے ہوئے رام کنیا نے کہا کہ ’آخر مجھے کیوں ڈائن کہتے ہیں؟ میں اس گاؤں میں اتنے عرصے سے رہ رہی ہوں۔ کسی کو کبھی مجھ سے شکایت نہیں ہوئی۔ میں نے بچوں کی پیدائش میں خواتین کی مدد کی ہے۔ جس دن یہ واقعہ ہوا اس دن ان لوگوں نے میرے شوہر اور مجھے خوب مارا۔ میرے بچوں نے وجہ پوچھی تو میرا گھر جلانے کی دھمکی دینے لگے۔ بیمار بچی کے خاندان اور پیر نے مل کر کہا کہ میں ڈائن ہوں۔ یہ سب انھوں نے مجھے بدنام کرنے کے لیے کیا۔ اس گاؤں میں ہماری برادری کے بہت کم لوگ رہتے ہیں‘۔

لیکن اس طرح کے واقعات اس گاؤں میں کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ تقریباً 30 برس پہلے اسی گاؤں کی لاڑو کو بھی ڈائن کہا جانے لگا تھا۔

Image caption لاڑو دیوی لوہار

کپڑے پھاڑ کر گھسیٹا

تیس برس قبل جب لاڑو دیوی لوہار کے شوہر کا انتقال ہوا تو وہ ایک گھر اور زمین اپنی اہلیہ کے لیے چھوڑ گئے تھے۔ بس وہیں سے ان کے لیے مصیبت شروع ہوئی۔

لاڑو ہمیں گلی کے اس مندر کے قریب لے گئیں جہاں انھیں گھر سے گھسیٹ کر لے لایا گیا اور گاؤں والوں کے سامنے ڈائن قرار دیا گیا۔ لاڑو کو اتنا پیٹا گیا کہ انھیں ہسپتال میں داخل کروانا پڑا۔

یہ بھی پڑھیے

ماؤں کی جان بچانے والی ویڈیو لِنک کِٹ

'خواتین کے لیے فٹ رہنے کے انوکھے مشورے'

لاڑو نے بی بی سی کو بتایا ’یہ سارا مسئلہ زمین کی وجہ سے شروع ہوا تھا۔ جس خاندان نے ایسا کیا وہ گاؤں کا ایک طاقتور خاندان تھا۔ مجھے جس طرح کپڑے پھاڑ کر پورے گاؤں میں گھسیٹا اس کے بعد میں کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہی۔ اس کے بعد مر جانا ہی بہتر ہوتا۔ مجھ پر جو گزری ہے وہ صرف میں ہی جانتی ہوں‘۔

Image caption ہیم لتا

’ڈائن قرار دے کر چھوڑ دیا‘

بھیلواڑا میں اگلی صبح اگلی ملاقات کویتا سانسی پر ٹوٹی۔ 21 سالہ کویتا اپنی داستان سناتے ہوئے رو پڑیں۔

انھوں نے بتایا کہ شادی کے چند مہینے بعد ہی ان کے سسر نے ان کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی۔ جب کویتا نے اعتراض کیا تو انھیں کئی دنوں کے لیے ایک اندھیرے کمرے میں بند کر دیا گیا۔ انھیں کھانے کے لیے راکھ کے بنے لڈو دیے گئے۔ اس سے ان کی صحت بری طرح متاثر ہوئی۔

کویتا کے شوہر نے بھی ان کا ساتھ نہیں دیا۔ کویتا کو اپنی والدہ سے بھی نہیں ملنے دیا گیا۔

سماجی کارکن تارا اہلووالیا نے بتایا کہ ’ڈائن لفظ کے استعمال سے کسی بھی عام عورت کی زندگی تبدیل ہو جاتی ہے۔ لوگ اس سے دوری اختیار کرنے لگتے ہیں۔ کوئی اس سے تعلق نہیں رکھنا چاہتا ہے۔ اس کی شادی میں مشکلیں آتی ہیں۔ بدنامی کے خیال سے اس عورت کو اپنے خاندان والوں کو بھی چھوڑنا پڑتا ہے۔ کئی مرتبہ تو ایسی خواتین نے اپنے خاندان سمیت گاؤں چھوڑ دیا۔ کفن چاہے جتنا خوبصورت ہو، اسے کوئی پہننا پسند نہیں کرتا‘۔

Image caption پیر جیرام جاٹ کا کہنا ہے کہ لوگ ان کے پاس پریشانیوں کے حل کے لیے آتے ہیں

شہروں میں بھی ایسی روایات ہیں

ڈائن جیسے تصورات میں یقین رکھنے والے صرف گاؤں میں نہیں ہوتے۔ بھیلواڑا میں رہنے والی ہیم لتا پوسٹ گریجوئیٹ ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے خاندان کے معاملے میں تنازع زمین کے جھگڑے سے شروع ہوا تھا جس کے بعد ان کی ساس کو ڈائن کہا جانے لگا۔ وہ اپنی ساس سے ملتی رہیں۔ اس لیے وہ بھی اس تنازع کی زد میں آ گئیں۔

مجبور ہوکر وہ گاؤں چھوڑ کر شہر چلی گئیں۔ لیکن شہر میں بھی لوگ انھیں طعنے دیتے رہے۔ بات اتنی بڑھ گئی کہ ان کے والدین بھی انھیں باورچی خانے میں داخل نہیں ہونے دیتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

مصر میں وکیل کو خواتین کے ریپ پر اکسانے کے جرم میں سزا

’روہنگیا خواتین کو جسم فروشی پر مجبور کیا جا رہا ہے‘

ہیم لتا نے بتایا کہ ’میں قابل ہوں، پڑھی لکھی ہوں۔ لیکن جنھوں نے میرے ساتھ ایسا کیا وہ خواتین پڑھی لکھی نہیں ہیں۔ میرے دل میں اپنی جان لینے کے خیالات آتے ہیں‘۔

اب ہیم لتا اور ان کی ساس گاؤں واپس نہیں جاتی ہیں۔ ان کی ساس 95 سالہ گلابی کماوت اپنے ایک رشتہ دار کے گھر پر رہتی ہیں۔ زمین کے جھگڑے سے شروع ہوئے معاملے نے انہیں گاؤں چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔

Image caption سماجی کارکن تارا اہلووالیا

خاندان والے اور پیر

ایک عورت کو کبھی اس کے خاندان والوں تو کبھی پیر کے کہنے پر ڈائن تسلیم کرنا شروع کر دیا جاتا ہے۔ بی بی سی نے ایسے ہی ایک پیر سے ملاقات کی۔

پیر جیرام جاٹ نے بتایا کہ ’لوگ میرے پاس کئی پریشانیوں کے حل کے لیے آتے ہیں۔ خواتین اپنی نجی پریشانیاں اور پردے والی بیماریاں بھی لیکر آتی ہیں۔ اگر کسی پر ڈائن سوار ہو رہی ہوتی ہے تو بھی لوگ میرے پاس آتے ہیں‘۔

ریاست میں سخت قانون ہونے کے باوجود ہر برس درجنوں خواتین ان روایات کا نشانہ بنتی ہیں۔ راجستھان میں وِچ ہنٹنگ ایکٹ 2015 بننے کے بعد بھی اس طرح کے معاملات میں کمی نہیں آئی ہے۔

خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تارا اہلووالیا کے مطابق اس قانون میں خواتین کو ڈائن کہنا ایسا جرم ہے جس میں ضمانت نہیں ہو سکتی۔ لیکن ایسے زیادہ تر معاملات میں مجرم چند دنوں میں چھوڑ دیے جاتے ہیں۔

تارا کا خیال ہے کہ اس معاملے سے حکومت کو سنجیدگی سے نمٹنا چاہیے۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’ایسے زیادہ تر معاملات بیوہ یا پسماندہ طبقے کی خواتین کے ساتھ ہوتے ہیں‘۔

Image caption بھیلواڑا کے پولیس سپرنٹنیڈنٹ پردیپ موہن

ایسی روایات کے خلاف قانون

راجستھان بھارت کی ایسی پانچ ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں اس روایت پر پابندی کے لیے قانون موجود ہے۔ لیکن راجستھان میں اب تک ایسے کسی معاملے میں کسی کو سزا نہیں ہوئی ہے۔

پولیس اسے سماجی مسئلہ بتاتی ہے۔ بھیلواڑا کے پولیس سپرنٹینڈنٹ پردیپ موہن کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک سماجی مسئلہ ہے لیکن اتنا بڑا مسئلہ بھی نہیں ہے۔ کبھی کبھی لوگ نجی جھگڑے یا زمین کے لیے کسی عورت کو ڈائن کہنے لگتے ہیں۔ انتظامیہ ضرورت پڑنے پر مدد کرتی ہے اور کئی معاملوں میں جرمانہ بھی لیا جاتا ہے‘۔

Image caption گلابی کماوت

لاڑو اب اپنے گاؤں لوٹ آئی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میرے کھیت ہیں۔ میں انہیں چھوڑ کر کہاں جاؤں۔ میں یہاں مرتے دم تک رہوں گی۔ جب تک زندہ ہوں اپنے کھیت نہیں چھوڑوں گی‘۔

لاڑو نے گاؤں لوٹنے کی ہمت کر لی۔ لیکن یہ ہمت ہر عورت نہیں کر پاتی ہے۔ ڈائن لفظ نے ان کے راستے روکے ہوئے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں